Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 55 · Chapter 3340

قسامت کا بیان

جادو گر اگر توبہ کرلے تو اس کا خون معاف ہے

3 hadiths in this chapter

16509

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16509

Sahih

(۱۶۵۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ عَصَمَ مِنِّی مَالَہُ وَنَفْسَہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللَّہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعَیْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٠٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں۔ جب انھوں نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تو انھوں نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچالیامگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

16510

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16510

Sahih

(۱۶۵۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ سَمِعَ أَبَا عُبَیْدَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہَ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ یَبْسُطُ یَدَہُ بِاللَّیْلِ لِیَتُوبَ مُسِیء ُ النَّہَارِ وَبِالنَّہَارِ لِیَتُوبَ مُسِیء ُ اللَّیْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ أَبِی دَاوُدَ۔ وَکَفَاکَ بِسَحَرَۃِ فِرْعَوْنَ وَقِصَّتِہِمْ فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی قَبُولِ تَوْبَۃِ السَّاحِرِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٠٤) ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں کو رات کے وقت کھولتے ہیں کہ دن کا بھولا توبہ کرلے اور دن کو ہاتھ کھولتے ہیں کہ رات کا بھولا توبہ کرلے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ اور فرعون کے جادو گروں کی توبہ جو قرآن میں تفصیلاً ذکر ہے، جادو گر کی توبہ کے قبول کے لیے کافی دلیل ہے۔

16511

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16511

Zaeef

(۱۶۵۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ السُّلَمِیُّ مِنْ أَصْلِہِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَیَّ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ دُومَۃِ الْجَنْدَلِ جَائَ تْ تَبْتَغِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ مَوْتِہِ حَدَاثَۃَ ذَلِکَ تَسَلْہُ عَنْ شَیْئٍ دَخَلَتْ فِیہِ مِنْ أَمْرِ السِّحْرِ وَلَمْ تَعْمَلْ بِہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا لِعُرْوَۃَ : یَا ابْنَ أُخْتِی فَرَأَیْتُہَا تَبْکِی حِینَ لَمْ تَجِدْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَتْ تَبْکِی حَتَّی إِنِّی لأَرْحَمُہَا تَقُولُ إِنِّی لأَخَافُ أَنْ أَکُونَ قَدْ ہَلَکْتُ کَانَ لِی زَوْجٌ فَغَابَ عَنِّی فَدَخَلْتُ عَلَی عَجُوزٍ فَشَکَوْتُ إِلَیْہَا ذَلِکَ فَقَالَتْ : إِنْ فَعَلْتِ مَا آمُرُکِ بِہِ فَأَجْعَلُہُ یَأْتِیکِ فَلَمَّا کَانَ اللَّیْلُ جَائَ تْنِی بِکَلْبَیْنِ أَسْوَدَیْنِ فَرَکِبَتْ أَحَدَہُمَا وَرَکِبْتُ الآخَرَ فَلَمْ یَکُنْ کَثِیرٌ حَتَّی وَقَفْنَا بِبَابِلَ فَإِذَا بِرَجُلَیْنِ مُعَلَّقَیْنِ بِأَرْجُلِہِمَا فَقَالاَ : مَا جَائَ بِکِ؟ فَقُلْتُ : أَتَعَلَّمُ السِّحْرَ۔ فَقَالاَ : إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرِی وَارْجِعِی فَأَبَیْتُ وَقُلْتُ لاَ۔ قَالاَ : فَاذْہَبِی إِلَی ذَلِکَ التَّنُّورِ فَبُولِی فِیہِ فَذَہَبَتْ فَفَزِعَتْ وَلَمْ تَفْعَلْ فَرَجَعَتْ إِلَیْہِمَا فَقَالاَ : فَعَلْتِ۔ فَقُلْتُ : نَعَمْ فَقَالاَ ہَلْ رَأَیْتِ شَیْئًا قُلْتُ لَمْ أَرَ شَیْئًا فَقَالاَ : لَمْ تَفْعَلِی ارْجِعِی إِلَی بِلاَدَکِ وَلاَ تَکْفُرِی فَأَرِبْتُ وَأَبَیْتُ فَقَالاَ : اذْہَبِی إِلَی ذَلِکَ التَّنُّورِ فَبُولِی فِیہِ ثُمَّ ائْتِی فَذَہَبْتُ فَاقْشَعَرَّ جِلْدِی وَخِفْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَیْہِمَا فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ فَقَالاَ : فَمَا رَأَیْتِ؟ فَقُلْتُ : لَمْ أَرَ شَیْئًا۔ فَقَالاَ : کَذَبْتِ لَمْ تَفْعَلِی فَارْجِعِی إِلَی بِلاَدِکِ وَلاَ تَکْفُرِی فَإِنَّکِ عَلَی رَأْسِ أَمْرِکِ فَأَرِبْتُ وَأَبَیْتُ فَقَالاَ : اذْہَبِی إِلَی ذَلِکَ التَّنُّورِ فَبُولِی فِیہِ فَذَہَبْتُ إِلَیْہِ فَبُلْتُ فِیہِ فَرَأَیْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا بِحَدِیدٍ قَدْ خَرَجَ مِنِّی حَتَّی ذَہَبَ فِی السَّمَائِ وَغَابَ عَنِّی حَتَّی مَا أُرَاہُ فَجِئْتُہُمَا فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ۔ فَقَالاَ : فَمَا رَأَیْتِ؟ فَقُلْتُ : رَأَیْتُ فَارِسًا مُقَنَّعًا خَرَجَ مِنِّی فَذَہَبَ فِی السَّمَائِ حَتَّی مَا أُرَاہُ فَقَالاَ : صَدَقْتِ ذَلِکَ إِیمَانُکِ خَرَجَ مِنْکِ اذْہَبِی۔ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَۃِ : وَاللَّہِ مَا أَعْلَمُ شَیْئًا وَمَا قَالَ لِی شَیْئًا۔ فَقَالَتْ : بَلَی لَنْ تُرِیدِی شَیْئًا إِلاَّ کَانَ خُذِی ہَذَا الْقَمْحَ فَابْذُرِی فَبَذَرْتُ فَقُلْتُ اطْلُعِی فَطَلَعَتْ فَقُلْتُ احْقِلِی فَأَحْقَلَتْ ثُمَّ قُلْتُ افْرُکِی فَأَفْرَکَتْ ثُمَّ قُلْتُ : أَیْبِسِی فَأَیْبَسَتْ ثُمَّ قُلْتُ اطْحَنِی فَأَطْحَنَتْ ثُمَّ قُلْتُ اخْبِزِی فَأَخْبَزَتْ فَلَمَّا رَأَیْتُ أَنِّی لاَ أُرِیدُ شَیْئًا إِلاَّ کَانَ سُقِطَ فِی یَدِی وَنَدِمْتُ وَاللَّہِ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ مَا فَعَلْتُ شَیْئًا قَطُّ وَلاَ أَفْعَلُہُ أَبَدًا فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُمْ یَوْمَئِذٍ مُتَوَافِرُونَ فَمَا دَرَوْا مَا یَقُولُونَ لَہَا وَکُلُّہُمْ ہَابَ وَخَافَ أَنْ یُفْتِیَہَا بِمَا لاَ یَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّہُ قَدْ قَالَ لَہَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَوْ بَعْضُ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ : لَوْ کَانَ أَبَوَاکِ حَیَّیْنِ أَوْ أَحَدُہُمَا قَالَ ہِشَامٌ فَلَوْ جَائَ تْنَا الْیَوْمَ أَفْتَیْنَاہَا بِالضَّمَانِ قَالَ ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ وَکَانَ ہِشَامٌ یَقُولُ إِنَّہُمْ کَانُوا أَہْلُ وَرَعٍ وَخَشْیَۃٍ مِنَ اللَّہِ وَبُعَدَائَ مِنَ التَّکَلُّفِ وَالْجُرْأَۃِ عَلَی اللَّہِ ثُمَّ یَقُولُ ہِشَامٌ : وَلَکِنَّہَا لَوْ جَائَ تِ الْیَوْمَ مَثَلُہَا لَوَجَدَتْ نَوْکَی أَہْلَ حُمْقٍ وَتَکَلُّفٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٠٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ دومۃ الجندل کی ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے آئی تاکہ وہ کچھ سوال کرے جس میں جادو کا اثر تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے عروہ کو کہا : میں نے دیکھا کہ جب اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کا پتا چلا تو وہ رو پڑی۔ مجھے اس پر بڑا ترس آیا مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ میری وجہ سے ہلاک ہی نہ ہوجائے کہنے لگی : میرا خاوند غائب ہوگیا۔ میں ایک بڑھیا کے پاس آئی تو وہ کہنے لگی : جب رات ہو تو دو سیاہ کتے لانا ایک پر وہ سوار ہوگئی اور ایک پر میں۔ ہم چلے یہاں تک کہ بابل میں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ دو شخص الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے : کیوں آئی ہو ؟ میں نے کہا : کیا تم جادو سکھاتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : ہم فتنہ ہیں کفر نہ کر لوٹ جا۔ میں نے انکار کردیا تو انھوں نے کہا : اس تنور کے پاس جاؤ اور اس میں پیشاب کرو، وہ گئی لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے نہ کرسکی۔ ویسے ہی آگئی۔ پوچھا : پیشاب کر آئی، کہا : ہاں ! پوچھا : کچھ دیکھا، کہا : نہیں تو وہ کہنے لگے : پھر کیا ہی نہیں۔ ہم پھر کہتے ہیں : واپس چلی جا کفر نہ کر۔ لیکن پھر میں نے انکار کردیا، پھر بولے جاؤ اس تنور میں پیشاب کر کے آؤ، لیکن نہ کرسکی واپس آئی اور وہی بات انھوں نے دہرائی کہ واپس چلی جا کفر نہ کر، میں نے انکار کردیا تو بولے جاؤ اس میں پیشاب کرو میں گئی اور کردیا تو میں نے دیکھا کہ میرے اندر سے ایک گھڑ سوار نکلا ہے اور آسمان میں چلا گیا، میں واپس آئی اور سارا واقعہ ان دونوں کو سنایا تو وہ کہنے لگے : یہ تیرا ایمان تھا جو تجھ سے نکل گیا۔ میں نے اس عورت کو کہا کہ واللہ ! مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تو وہ کہنے لگی کہ تو جس چیز کا بھی ارادہ کرے گی وہ ہوجائے گی۔ یہ گندم لے اسے بکھیر پھر اکٹھا کر اور پیس اور آٹا بنا پھر اسے گوندھ پھر اس کی روٹی بنا۔ جب میں نے یہ کام کیے تو میں نے دیکھا کہ میں جس چیز کا بھی ارادہ کرتی، وہ میرے ہاتھوں میں آ گرتی۔ واللہ ! اے ام المؤمنین ! میں نادم ہوں، میں نے اس سے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا اور نہ آئندہ کروں گی۔ میں نے صحابہ سے اس بارے میں سوال کیا لیکن کسی نے بھی بغیر علم کے فتویٰ دینے سے انکار کردیا۔ صرف ابن عباس اور چند ان کے ساتھیوں نے یہ بات کہی کہ اگر تیرے والدین یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہوتا۔ ہشام کہتے ہیں : اگر ہم سے یہ سوال ہوتا تو ہم ضمان کا فتویٰ دیتے ، لیکن چونکہ صحابہ کرام بہت زیادہ محتاط اور اللہ سے ڈرنے والے تھے اس لیے خاموش رہے۔ پھر ہشام کہتے ہیں : اگر آج ایسا کوئی واقعہ ہوجائے تو کئی احمق اور بیوقوف کھڑے ہوجائیں جو بغیر علم کے فتوی دیں۔