Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 51 · Chapter 3154

عدت کا بیان

طلاق شدہ عورت کے اس کے گھر میں رہنے کا بیان اللہ تعالیٰ طلاق شدہ عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں :{ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] ” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی

5 hadiths in this chapter

15485

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15485

Sahih

(۱۵۴۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ : طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَۃَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : انْتَقِلِی إِلَی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ ۔ قَالَ إِسْحَاقُ فَلَمَّا حَدَّثَ بِہِ الشَّعْبِیُّ حَصَبَہُ الأَسْوَدُ وَقَالَ : وَیْحَکَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِی بِمِثْلِ ہَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ : إِنْ جِئْتِ بِشَاہِدَیْنِ یَشْہَدَانِ أَنَّہُمَا سَمِعَاہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِلاَّ لَمْ نَتْرُکْ کِتَابَ اللَّہِ بِقَوْلِ امْرَأَۃٍ وَہُوَ قَوْلُ اللَّہِ {وَلاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٧٩) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہوجا۔ اسحاق کہتے ہیں : جب اس کو شعبی نے بیان کیا اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا : تیرے لیے ہلاکت ہو تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے۔ وہ عمر (رض) کے پاس آئی، عمر (رض) نے کہا : اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے وگرنہ ہم کتاب ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کو نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے : { لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١]” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر وہ واضح گمراہی کو آئیں۔ “

15486

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15486

Sahih

(۱۵۴۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَۃَ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ فَخَرَجَتْ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہَا ابْنُ عُمَرَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٨٠) نافع سے روایت ہے سعید بن زید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی۔ اس نے اس کو طلاقبتہ دے دی۔ وہ گھر سے نکل گئی ۔ اس کے اس فعل کو عبداللہ بن عمر (رض) نے برا سمجھا۔

15487

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15487

Sahih

(۱۵۴۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ { إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } قَالَ : خُرُوجُہَا مِنْ بَیْتِہَا فَاحِشَۃٌ مُبَیِّنَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٨١) عبداللہ بن عمر (رض) نے { إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } کے بارے میں فرمایا : اس کا اپنے گھر سے نکلناواضح بےحیائی ہے۔

15488

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15488

Sahih

(۱۵۴۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلاً جَائَ ہُ فَقَالَ إِنِّی طَلَّقْتُ امْرَأَتِی ثَلاَثًا وَہِیَ تُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ۔ قَالَ : احْبِسْہَا۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ۔ قَالَ : فَقَیِّدْہَا۔ فَقَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ إِنَّ لَہَا إِخْوَۃً غَلِیظَۃً رِقَابُہُمْ۔ قَالَ : اسْتَعْدِ عَلَیْہِمُ الأَمِیرَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٨٢) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اس نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ نکل جائے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : اس کو روک۔ اس نے کہا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا : اس کو قید کر دو ۔ اس نے کہا : میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ اس کے بھائی ہیں ان کی موٹی موٹی گردنیں ہیں۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا : تو امیر سے ان کے خلاف اس کو لوٹانے کی درخواست کر۔

15489

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15489

Sahih

(۱۵۴۸۳) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَرَی فِی امْرَأَۃٍ طُلِّقَتْ ثُمَّ أَصْبَحَتْ غَادِیَۃً إِلَی أَہْلِہَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی دِینَہَا بِتَمْرَۃٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٤٨٣) حارث بن سوید سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود کی طرف آیا، اس نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! تیرا اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جسے طلاق دی گئی پھر اس نے اپنے اہل کی طرف صبح کی ؟ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے اس کا دین ایک کھجور کے عوض ہو۔