Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 50 · Chapter 3118

لعان کا بیان

خاوند بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو چار گواہ لا کر حد قذف سے بری ہوسکتا ہے یا لعان کرے گا

2 hadiths in this chapter

15297

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15297

Sahih

(۱۵۲۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَأَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی وَابْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ الوَرَّاقُ قَالُوا حَدَّثَنَا بُنْدَارُ بْنِ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنِی عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ ہِلاَلَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ بِشَرِیکِ ابْنِ سَحْمَائَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : الْبَیِّنَۃُ أَوْ حَدٌّ فِی ظَہْرِکَ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِذَا رَأَی أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَی امْرَأَتِہِ أَیَلْتَمِسُ الْبَیِّنَۃَ فَجَعَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقُولُ : الْبَیِّنَۃُ وَإِلاَّ حَدٌّ فِی ظَہْرِکَ ۔ فَقَالَ ہِلاَلٌ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنِّی لَصَادِقٌ وَلَیُنْزِلَنَّ اللَّہُ فِی أَمْرِی مَا یُبْرِئُ ظَہْرِی مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَنَزَلَتْ الآیَۃُ {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَائُ إِلاَّ أَنْفُسُہُمْ} فَقَرَأَ حَتَّی بَلَغَ {وَالْخَامِسِۃَ أَنَّ غَضَبَ اللَّہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ} قَالَ فَانْصَرَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمَا فَجَائَ ا فَقَامَ ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ : فَشَہِدَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ ۔ ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ {أَنَّ غَضَبَ اللَّہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ} قَالُوا لَہَا: إِنَّہَا مُوجِبَۃٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَکَّأَتْ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہَا سَتَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ: لاَ أَفْضَحُ قَوْمِی سَائِرَ الْیَوْمِ فَمَضَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : انْظُرُوہَا فَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أَکْحَلَ الْعَیْنَیْنِ سَابِغَ الأَلْیَتَینِ خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ فَہُوَ لِشَرِیکِ ابْنِ سَحْمَائَ ۔ فَجَائَ تْ بِہِ کَذَلِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَوْلاَ مَا مَضَی مِنْ کِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی لَکَانَ لِی وَلَہَا شَأْنٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٩١) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ الزام لگا دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گواہ پیش کرو، ورنہ تیری کمر پر کوڑے لگیں گے، اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب ہم سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈنے شروع کر دے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، گواہ پیش کرنا ہوں گے، بصورت دیگر تیری کمر پر کوڑے برسیں گے۔ اس پر بلال نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، بلاشبہ میں سچا ہوں۔ یقیناً اللہ حکم نازل کرے گا جو میری کمر کو کوڑوں سے بچا دے گا، پس جبرائیل نازل ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیات نازل ہوئیں : { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَائُ اِلَّا اَنفُسُہُمْ الی وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَا اِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِیْنَ ۔ } [النور ٦۔ ٩] ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ کوئی گواہ نہیں پاتے۔۔۔ الی قولہٖ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا اگر وہ سچوں میں سے ہوا۔ “ تو اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو بلایا، بلال نے اپنی صداقت کی گواہی دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے ؟ پھر اس کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی صداقت کی گواہی دی۔ جب وہ پانچویں بار گواہی دینے والی تھی تو صحابہ (رض) نے فرمایا : پانچویں بار کی گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی، اگر خاوند سچا ہوا تو عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ عورت جھجکی اور پیچھے ہٹ گئی، ہم نے محسوس کیا کہ وہ اپنے موقف سے پھر جائے گی لیکن اس نے کہا : میں اپنی قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رسوا نہ کروں گی، پھر اس نے گواہی کو مکمل کردیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا خیال رکھنا، اگر اس نے بچہ سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا جنا تو یہ شریک بن سحماء کا ہے، جب اسے بچہ پیدا ہوا تو اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتاب اللہ کا حکم نازل نہ ہوچکا ہوتا تو میں اس عورت سے نپٹتا۔

15298

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15298

Sahih

(۱۵۲۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عِبَادَۃَ : أَہَکَذَا أُنْزِلَتْ فَلَوْ وَجَدْتُ لَکَاعًا مُتَفَخِّذُہَا رَجُلٌ لَمْ یَکُنْ لِی أَنْ أُحَرِّکَہُ وَلاَ أَہِیجَہُ حَتَّی آتِیَ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَوَاللَّہِ لاَ آتِی بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلاَ تَسْمَعُونَ مَا یَقُولُ سَیِّدُکُمْ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ لاَ تَلُمْہُ فَإِنَّہُ رَجُلٌ غَیُورٌ وَاللَّہِ مَا تَزَوَّجَ فِینَا قَطُّ إِلاَّ عَذْرَائَ وَلاَ طَلَّقَ امْرَأَۃً لَہُ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ یَتَزَوَّجَہَا مِنْ شِدَّۃِ غَیْرَتِہِ قَالَ سَعْدٌ : وَاللَّہِ إِنِّی لأَعْلَمُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَّہَا لَحَقٌّ وَأَنَّہَا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ وَلَکِنِّی عَجِبْتُ فَبَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَذَلِکَ إِذْ جَائَ ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ وَہُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَۃِ الَّذِینَ تَابَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی جِئْتُ الْبَارِحَۃَ عِشَائً مِنْ حَائِطٍ لِی کُنْتُ فِیہِ فَرَأَیْتُ عِنْدَ أَہْلِی رَجُلاً وَرَأَیْتُ بِعَیْنَیَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَیَّ فَکَرِہَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا جَائَ بِہِ وَقِیلَ : أَیُجْلَدُ ہِلاَلٌ وَتُبْطَلُ شَہَادَتُہُ فِی الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ ہِلاَلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرَی فِی وَجْہِکَ أَنَّکَ تَکْرَہُ مَا جِئْتُ بِہِ وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَجْعَلَ اللَّہُ لِی فَرَجًا قَالَ فَبَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَذَلِکَ إِذْ نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ تَرَبَّدَ لِذَلِکَ خَدُّہُ وَوَجْہُہُ وَأَمْسَکَ عَنْہُ أَصْحَابُہُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ أَحَدٌ مِنْہُمْ فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْیُ قَالَ : أَبْشِرْ یَا ہِلاَلُ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ادْعُوہَا ۔ فَدُعِیَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَعَلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ ۔ فَقَالَ ہِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا قُلْتُ إِلاَّ حَقًّا وَلَقَدْ صَدَقْتُ قَالَ فَقَالَتْ ہِیَ عِنْدَ ذَلِکَ : کَذَبَ قَالَ فَقِیلَ لِہِلاَلٍ : تَشْہَدُ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللَّہِ إِنَّکَ لَمِنَ الصَّادِقِینَ وَقِیلَ لَہُ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ : یَا ہِلاَلُ اتَّقِ اللَّہَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا أَہْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَۃِ وَإِنَّ ہَذِہِ الْمُوجِبَۃُ الَّتِی تُوجِبُ عَلَیْکَ الْعَذَابَ ۔ فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ یُعَذِّبُنِی اللَّہُ أَبَدًا کَمَا لَمْ یَجْلِدْنِی عَلَیْہَا قَالَ : فَشَہِدَ الْخَامِسَۃَ أَنَّ لَعْنَۃَ اللَّہِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِینَ وَقِیلَ : اشْہَدِی أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللَّہِ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ وَقِیلَ لَہَا عِنْدَ الْخَامِسَۃِ : یَا ہَذِہِ اتَّقِی اللَّہَ فَإِنَّ عَذَابَ اللَّہِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ النَّاسِ وَإِنَّ ہَذِہِ الْمُوجِبَۃُ الَّتِی تُوجِبُ عَلَیْکِ الْعَذَابَ فَسَکَتَتْ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَتْ : وَاللَّہِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِی فَشَہِدَتِ الْخَامِسَۃَ أَنَّ غَضَبَ اللَّہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ قَالَ وَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ لاَ تُرْمَی وَلاَ یُرْمَی وَلَدُہَا وَمَنْ رَمَاہَا أَوْ رَمَی وَلَدَہَا جُلِدَ الْحَدَّ وَلَیْسَ لَہَا عَلَیْہِ قُوتٌ وَلاَ سُکْنَی مِنْ أَجْلِ أَنَّہُمَا یَتَفَرَّقَانِ بِغَیْرِ طَلاَقٍ وَلاَ مُتَوَفَّی عَنْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : انْظُرُوہَا فَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أُثَیْبِجَ أُصَیْہِبَ أُرَیْسِحَ حَمْشَ السَّاقَیْنِ فَہُوَ لِہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَإِنْ جَائَ تْ بِہِ خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ سَابِغَ الأَلْیَتَیْنِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِیًّا فَہُوَ لِصَاحِبِہِ ۔ قَالَ : فَجَائَ تْ بِہِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِیًّا خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ سَابِغَ الأَلْیَتَیْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَوْلاَ الأَیْمَانُ لَکَانَ لِی وَلَہَا أَمْرٌ ۔ قَالَ عَبَّادٌ فَسَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یَقُولُ : لَقَدْ رَأَیْتُہُ أَمِیرَ مِصْرٍ مِنَ الأَمْصَارِ وَلاَ یُدْرَی مَنْ أَبُوہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٩٢) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ } [النور ٤] ” وہ لوگ جو پاک دامن بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لاتے۔ “ تو سعد بن عبادہ کہتے ہیں : کیا یہ ایسے نازل ہوئی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انصار کا گروہ ! کیا تم اپنے سردار کی بات کو سن رہے ہو، وہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس کو ملامت نہ کیجیے، یہ بڑا غیرت مند شخص ہے، اللہ کی قسم ! اس نے ہمیشہ کنواری لڑکی سے ہی شادی کی ہے اور اپنی بیوی کو کبھی طلاق نہیں دی تو ہم میں سے کسی شخص نے جرأت کی کہ شدت غیرت کی وجہ سے اس کی شادی کر دے سعد کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں جانتا ہوں یہ حق ہے اور اللہ کی جانب سے ہے لیکن میں تعجب کرتا ہوں اس طرح کی بات سے کہ رسول ہمارے درمیان موجود ہوں، اچانک ہلال بن امیہ آگئے، یہ ان تینوں شخصوں میں سے ایک ہیں، جن کی اللہ نے توبہ قبول کی تھی، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں گزشتہ رات شام کے وقت اپنے باغ میں آیا، میں نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو دیکھا، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بات کو ناپسند کیا اور کہا : ہلال کو کوڑے لگائے جائیں گے اور مسلمانوں کے درمیان اس کی شہادت کو باطل کردیا جائے گا ؟ ہلال کہنے لگے : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنی بات کی وجہ سے آپ کے چہرے پر کراہت محسوس کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں اللہ میرے لیے نکالنے کی راہ بنادیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حالت میں تھے کہ وحی نازل ہوگئی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخساروں اور چہرے کی رنگت تبدیل ہوجاتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بات کرنے سے رک جاتے جب وحی مکمل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ہلال ! خوش ہوجاؤ، آپ نے فرمایا : اس عورت کو بلاؤ، اس کی بیوی کو بلایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے تو ہلال کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے سچ کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کی بیوی نے کہا : اس نے آپ کے پاس جھوٹ بولا ہے تو ہلال کے لیے کہا گیا کہ آپ چار مرتبہ گواہی دیں کہ آپ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں گواہی کے موقع پر ہلال سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اور پانچویں گواہی عذاب الٰہی کو واجب کرنے والی ہے۔ ہلال کہنے لگے : اللہ کی قسم ! اللہ مجھے کبھی عذاب نہ دیں گے، جیسے اس نے مجھ پر کوڑے نہیں برسائے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے پانچویں مرتبہ کی گواہی مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے، پھر اس کی بیوی سے کہا گیا کہ تو چار گواہیاں دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں گواہی کے موقعہ پر کہا گیا کہ اللہ سے ڈر، اللہ کا عذاب لوگوں کی سزا سے زیادہ سخت ہے، یہ پانچویں بار کی گواہی تجھ پر عذاب کو واجب کرنے والی ہے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کرسکتی، اس نے پانچویں بار کی گواہی دی کہ اس پر اس غضب ہو اگر وہ سچوں میں سے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا کہ عورت اور اس کے بچے پر تہمت پر نہ لگائی جائے گی، جس نے عورت اور اس کے بچے پر تہمت لگائی اس پر حد لگائی جائے گی اور مرد کے ذمہ کی عورت کی خوراک اور رہائش بھی نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ بغیر طلاق اور خاوند کے فوت ہوئے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہوئے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا خیال رکھنا اگر وہ موٹے موٹے سرینوں بھورے رنگ باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو ہلال بن امیہ کا ہے۔ اگر وہ موٹی پندلیوں، بھاری سرینوں، خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دے تو شریک بن سحماء کا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس نے خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں موٹی، پنڈلیوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر قسمیں نہ ہوچکی ہوتیں تو پھر میں اس عورت سے نپٹتا۔ عباد کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے سنا کہ وہ شہروں کا امیر رہا، لیکن اس کے باپ کا علم نہ تھا۔