Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 49 · Chapter 3117

ظہار کا بیان

ساٹھ مسکینوں سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہ کرے گا اور ہر مسکین کو اپنے شہر کے ایک مد کے برابر کھانا دیا جائے

14 hadiths in this chapter

15283

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15283

Sahih

(۱۵۲۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ یَزِیدَ الرِّیَاحِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ وَأَبِی سَلَمَۃَ : أَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ صَخْرٍ الْبَیَاضِیَّ جَعَلَ امْرَأَتَہُ عَلَیْہِ کَظَہْرِ أُمَّہِ إِنْ غَشِیَہَا حَتَّی یَمْضِیَ رَمَضَانُ فَلَمَّا مَضَی النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمِنَتِ الْمَرْأَۃُ وَتَرَبَّعَتْ فَأَعْجَبَتْہُ فَغَشِیَہَا لَیْلاً ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : أُعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ فَقَالَ : لاَ أَجِدُ فَقَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ فَقَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّۃَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ : تَصَدَّقْ بِہَذَا عَلَی سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ أَبِی عَامِرٍ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٧٧) محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان اور ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ سلمہ بن صخر بیاضی نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کرلیا، جب نصف رمضان گزر گیا اور عورت موٹی تازی اور خوش حال ہوگئی تو سلمہ کو اچھی لگی اور وہ رات کے وقت اس پر واقع ہوگئے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آکر بتادیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک گردن آزاد کرو۔ سلمہ کہتے ہیں : میرے پاس نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو۔ کہتے ہیں : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ۔ سلمہ نے کہا : میرے پاس نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ١٥ یا ١٦ صاع کھجور تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دو ۔

15284

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15284

Sahih

(۱۵۲۷۸) وَرَوَاہُ شَیْبَانُ النَّحْوِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَعْطَاہُ مِکْتَلاً فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ : أَطْعِمْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَذَلِکَ لِکُلِّ مِسْکِینٍ مُدًّا ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاہَوَیْہِ أَخْبَرَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ النَّحْوِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٧٨) سلمہ بن صخر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھجوروں کا ایک ٹوکرہ عطا کیا جس میں ١٦ صاع کھجور تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور ہر مسکین کو ایک صاع دینا۔

15285

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15285

Sahih

(۱۵۲۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ یَعْنِی الْعَرَقَ زَبِیلٌ یَأْخُذُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٧٩) یحییٰ ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے نقل فرماتے ہیں کہ عرق، وہ ٹوکرہ ہوتا ہے جس میں ١٥ صاع کھجور ہو۔

15286

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15286

Sahih

(۱۵۲۸۰) وَرُوِیَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْبَیَاضِیَّ جَعَلَ امْرَأَتَہُ عَلَیْہِ کَظَہْرِ أُمِّہِ حَتَّی یَمْضِیَ رَمَضَانُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ وَقَالَ : اذْہَبْ وَأَطْعِمْ ہَذَا سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ بْنِ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا الْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَذَکَرَہُ۔ وَہُوَ خَطَأٌ الْمَشْہُورُ عَنْ یَحْیَی مُرْسَلٌ دُونَ ذِکْرِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِیہِ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ سلیمان بن صخربیاضی نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کرلیا، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ١٥ صاع کھجوریں تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دے دیا اور فرمایا : جاؤ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا۔

15287

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15287

Sahih

(۱۵۲۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : کُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِیتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَائِ مَا لَمْ یُؤْتَ غَیْرِی فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاہَرْتُ مِنِ امْرَأَتِی مَخَافَۃَ أَنْ أُصِیبَ مِنْہَا شَیْئًا فِی بَعْضِ اللَّیْلِ وَأَتَتَابَعَ فِی ذَلِکَ وَلاَ أَسْتَطِیعَ أَنْ أَنْزِعَ حَتَّی یُدْرِکَنِی الصُّبْحُ فَبَیْنَمَا ہِیَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ بِحِیَالٍ مِنِّی إِذِ انْکَشَفَ لِی مِنْہَا شَیْء ٌ فَوَثَبْتُ عَلَیْہَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی قَوْمِی فَأَخْبَرْتُہُمْ خَبَرِی فَقُلْتُ : انْطَلِقُوا مَعِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : لاَ وَاللَّہِ لاَ نَذْہَبُ مَعَکَ نَخَافُ أَنْ یَنْزِلَ فِینَا شَیْء ٌ مِنَ الْقُرْآنِ وَیَقُولُ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَقَالَۃً یَبْقَی عَلَیْنَا عَارُہَا فَاذْہَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَکَ۔ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ خَبَرِی فَقَالَ : أَنْتَ ذَاکَ ۔ فَقُلْتُ : أَنَا ذَاکَ فَاقْضِ فِیَّ حُکْمَ اللَّہِ فَإِنِّی صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ فَضَرَبْتُ صَفْحَ عُنُقِ رَقَبَتِی بِیَدِی فَقُلْتُ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِکُ غَیْرَہَا قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَہَلْ أَصَابَنِی مَا أَصَابَنِی إِلاَّ فِی الصِّیَامِ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَیْلَتَنَا ہَذِہِ وَحْشًا مَا نَجِدُ عَشَائً قَالَ : انْطَلِقْ إِلَی صَاحِبِ الصَّدَقَۃِ صَدَقَۃِ بَنِی زُرَیْقٍ فَلْیَدْفَعْہَا إِلَیْکَ فَأَطْعِمْ مِنْہَا وَسْقًا سِتِّینَ مِسْکِینًا وَتَسْتَعِینُ بِسَائِرِہَا عَلَی عِیَالِکَ ۔ فَأَتَیْتُ قَوْمِی فَقُلْتُ : وَجَدْتُ عِنْدَکُمُ الضِّیقَ۔ کَذَا رُوِیَ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨١) سلیمان بن یسار حضرت سلمہ بن صخر بیاضی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عورتوں سے جتنی صحبت کرتا تھا میری علاوہ کوئی اتنی خواہش بھی نہ رکھتا تھا، جب رمضان شروع ہوا تو میں نے واقع ہونے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، میں کوشش کرتا رہا، لیکن میں طاقت نہ رکھتا تھا کہ صبح تک الگ رہا کروں، ایک رات وہ میرے قریب بیٹھی ہوئی تھی۔ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ کھل گیا : تو میں اس پر واقع ہوگیا، صبح کے وقت میں نے اپنی قوم کو بتایا اور کہا : میرے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو، انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم تیرے ساتھ نہ جائیں گے، ہمیں خوف ہے کہ کہیں قرآن ہمارے بارے نازل نہ ہوجائے، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں، جو ہمارے لیے عار کا باعث بن جائے۔ خود جا کر جو کرنا ہے سو کرو۔ میں نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں آپ میرے اوپر حد نافذ کریں، میں صبر کرنے والا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گردن آزاد کرو تو میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا۔ میں نے کہا : میں اس کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں۔ فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ سب کچھ روزوں کی وجہ سے ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے خالی پیٹ رات گزاری ہے، ہمارے پاس شام کا کھانا بھی نہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنو زریق سے صدقہ لینے والے کے پاس جاؤ، وہ آپ کو کچھ دے دے گا تو ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور باقی اپنے گھر والوں کو دے دینا۔ میں اپنی قوم کے پاس آیا تو کہا : میں نے تمہارے پاس تنگی پائی ہے

15288

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15288

Sahih

(۱۵۲۸۲) وَقَدْ أَخْبَرَنِیہِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صَبِیحٍ أَخْبَرَہُمْ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ وَقَالَ فِی آخِرِہِ : فَاذْہَبْ إِلَی صَاحِبِ صَدَقَۃِ بَنِی زُرَیْقٍ فَلْیَدْفَعْ إِلَیْکَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَکُلْ بَقِیَّتَہُ أَنْتَ وَأَہْلُکَ ۔ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ یُعْطِی مِنَ الْوَسْقِ سِتِّینَ مِسْکِینًا ثُمَّ یَأْکُلُ بَقِیَّتَہُ یَعْنِی بَقِیَّۃَ الْوَسْقِ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٢) محمد بن اسحاق اپنی سند سے روایت فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ نے فرمایا : آپ بنو زریق سے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جائیں، وہ آپ کو ایک وسق کھجور دے گا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلا کر باقی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا۔ یہ دلالت کرتی ہے کہ وسق سے ساٹھ مسکینوں کو دیا گیا، باقی ماندہ سے اس نے خود بھی کھایا۔

15289

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15289

Sahih

(۱۵۲۸۳) وَیَدُلُّ عَلَیْہِ أَیْضًا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ بِہَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَأُتِی النَّبِیُّ -ﷺ- بِتَمْرٍ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ وَہُوَ قَرِیبٌ مِنْ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ : تَصَدَّقْ بِہَذَا ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی أَفْقَرَ مِنِّی وَمِنْ أَہْلِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کُلْ أَنْتَ وَأَہْلُکَ ۔ فَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ مُوَافِقَۃٌ لِرِوَایَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنِ ثَوْبَانَ فِی قِصَّۃِ سَلَمَۃَ بْنِ صَخْرٍ فَہِیَ أَوْلَی۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٣) سلیمان بن یسار اس حدیث کو بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوریں لائی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دے دیں، جو ١٥ صاع کے قریب تھیں اور فرمایا : صدقہ کرو۔ اس نے کہا : اپنے اور گھر والوں سے زیادہ غریب پر ؟ فرمایا : آپ کھا اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔

15290

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15290

Sahih

(۱۵۲۸۴) وَأَمَّا حَدِیثُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَۃُ فِیہِ فَرُوِیَ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ خُوَیْلَۃَ بِنْتِ مَالِکِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَتْ : ظَاہَرَ مِنِّی زَوْجِی أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَشْکُو إِلَیْہِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُجَادِلُنِی فِیہِ وَیَقُولُ : اتَّقِی اللَّہَ فَإِنَّہُ زَوْجُکِ وَابْنُ عَمِّکِ ۔ فَمَا بَرِحْتُ حَتَّی نَزَلَ الْقُرْآنُ { قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا} قَالَ : یَعْتِقُ رَقَبَۃً ۔ قَالَتْ : لاَ یَجِدُ۔ قَالَ : فَیَصُومُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ شَیْخٌ کَبِیرٌ مَا بِہِ مِنْ صِیَامٍ قَالَ : فَلْیُطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَتْ : مَا عِنْدَہُ مِنْ شَیْئٍ یَتَصَدَّقُ بِہِ قَالَ : فَإِنِّی سَأُعِینُہُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَإِنِّی أُعِینُہُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ : قَدْ أَحْسَنْتِ اذْہَبِی فَأَطْعِمِی بِہَا عَنْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَارْجِعِی إِلَی ابْنِ عَمِّکِ ۔ قَالَ وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا۔ [حسن لغیرہ۔ تقدم لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٤) خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کیا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ مجادلہ فرمایا اور فرمایا : وہ تیرا خاوند اور تیرے چچا کا بیٹا ہے، میں اسی کیفیت میں تھی کہ قرآن نازل ہوا : { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا } [المجادلہ ١] ” اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔ فرمایا : وہ ایک غلام آزاد کرے، خویلہ نے کہا : اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، خویلہ نے کہا : وہ بوڑھا شخص ہے، روزوں کی ہمت نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا : اس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک کھجور کے ٹوکرہ سے اس کی مدد کردیتا ہوں۔ میں نے کہا : دوسرا ٹوکرہ میں ادا کر دوں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اچھا کیا، جاؤ اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور اپنے خاوند کے پاس واپس چلی جاؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ عرق ساٹھ صاع کا ٹوکرہ تھا۔

15291

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15291

Sahih

(۱۵۲۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِہَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَالْعَرَقُ مِکْتَلٌ یَسَعُ ثَلاَثِینَ صَاعًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ آدَمَ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٥) ابن اسحاق نے اس سند سے نقل کیا ہے کہ ایک عرق ٹوکرے میں ٣٠ ساع کھجور آتی ہے۔

15292

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15292

Sahih

(۱۵۲۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی ابْنِ وَزِیرٍ الْمِصْرِیِّ حَدَّثَکُمْ بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا عَطَاء ٌ عَنْ أَوْسٍ أَخِی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَعْطَاہُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ إِطْعَامَ سِتِّینَ مِسْکِینًا۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ عَطَاء ٌ لَمْ یُدْرِکْ أَوْسًا وَہُوَ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ قَدِیمُ الْمَوْتِ وَالْحَدِیثُ مُرْسَلٌ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٦) عبادہ بن صامت کے بھائی اوس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ساٹھ مسکینوں کے لیے پندرہ صاع جو غلے کے دیے۔

15293

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15293

Zaeef

(۱۵۲۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ الثُّمَالِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَ قِصَّۃَ ظِہَارِ أَوْسٍ إِلَی أَنْ قَالَ {فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ} قَالَتْ خُوَیْلَۃُ قُلْتُ : وَأَیُّ الرَّقَبَۃِ لَنَا وَاللَّہِ مَا یَخْدُمُہُ غَیْرِی قَالَ {فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ} قَالَتْ : وَاللَّہِ لَوْلاَ أَنَّہُ یَذْہَبُ یَشْرَبُ فِی الْیَوْمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَذَہَبَ بَصَرُہُ قَالَ {فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِینًا} قَالَتْ : فَمِنْ أَیْنَ ہِیَ الأَکْلَۃُ إِلَی مِثْلِہَا فَدَعَا النَّبِیُّ -ﷺ- بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلاَثِینً صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّونُ صَاعًا قَالَ : لِیُطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَلْیُرْجِعْکِ ۔ کَذَا رَوَاہُ أَبُو حَمْزَۃَ الثُّمَالِیُّ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ وَرَوَاہُ الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ دُونَ ذِکْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ فَقَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِشَیْئٍ مِنْ تَمُرٍ یُقَالُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا وَیُقَالُ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : خُذْ ہَذَا فَاقْسِمْہُ ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَفْقَرُ مِنِّی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : کُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُکَ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۱۵۲۴۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٧) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس سے اوس کے ظہار کا قصہ نقل فرماتے ہیں { فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ } [النساء ٩٢] تک۔ خویلہ نے کہا : میرے علاوہ اس کا خدمت گار کوئی نہیں، غلام موجود نہیں ہے۔ فرمایا : { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } [النساء ٩٢] ” جو غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ “ خویلہ کہتی ہے کہ دن میں وہ تین بار کھاتا پیتا ہے، نظر ختم ہوچکی ہے۔ فرمایا : { فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِیْنًا } [المجادلہ ٤] ” جو طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ “ خویلہ نے کہا : اس جیسے کے پاس اتنا کھانا کہاں ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف وسق منگوایا اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، فرمایا : وہ ساٹھ مسکین کو کھلائے اور رجوع کرلے۔ (ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے عبداللہ بن عباس (رض) کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔ اس نے کہا : میرے پاس موجود نہیں۔ راوی کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً ١٥ صاع یا ٢٠ صاع تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے کر تقسیم کر دو تو اس شخص نے کہا : پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔

15294

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15294

Sahih

(۱۵۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیٍّ الْغُجْدَوَانِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّیَّانِ قَالاَ حَدَّثَنَا حُدَیْجُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْجُعْفِیُّ أَخُو زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا حُدَیْجٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ خَوْلَۃَ أَنَّ زَوْجَہَا دَعَاہَا وَکَانَتْ تُصَلِّی فَأَبْطَأَتْ عَلَیْہِ فَقَالَ : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی إِنْ أَنَا وَطِئْتُکِ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَشَکَتْ ذَلِکَ إِلَیْہِ وَلَمْ یَبْلُغِ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی ذَلِکَ شَیْء ٌ ثُمَّ أَتَتْہُ مَرَّۃً أُخْرَی فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ فَقَالَ لَیْسَ عِنْدِی ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ ذَلِکَ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ثَلاَثِینَ صَاعًا ۔ قَالَ : لَسْتُ أَمْلِکُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ أَنْ تُعِینَنِی قَالَ فَأَعَانَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِخَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا وَأَعَانَہُ النَّاسُ حَتَّی بَلَغَ ثَلاَثِینَ صَاعًا وَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَحَدٌ أَفْقَرُ إِلَیْہِ مِنِّی وَأَہْلِ بَیْتِی فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خُذْہُ أَنْتَ وَأَہْلُکَ ۔ فَأَخَذَہُ۔ کَذَا رَوَاہُ حُدَیْجُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ وَرَوَاہُ إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ وَلَمْ یَقُلْ عَنْ خَوْلَۃَ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی الْحَدِیثِ ثَلاَثِینً صَاعًا وَقَالَ فَأَعَانَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِخَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا لَمْ یَزِدْ عَلَیْہِ ثُمَّ ذَکَرَ فَقْرَہُ وَأَنَّہُ أَمَرَہُ بِأَکْلِہِ وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی أَعَانَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِخَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ وَکَذَا قَالَ عَطَاء ٌ الْخُرَاسَانِیُّ وَقَالَ أَبُو یَزِیدَ الْمَدَنِیُّ أَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ بِشَطْرِ وَسْقٍ مِنْ شَعِیرٍ فَأَعْطَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَیْ مُدَّیْنِ مِنْ شَعِیرٍ مَکَانَ مُدٍّ مِنْ بُرٍّ۔ فَہَذِہِ رِوَایَاتٌ مُخْتَلِفَۃٌ وَأَکْثَرُہَا مَرَاسِیلُ وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصِّیَامِ فِی حَدِیثِ الْمُجَامِعِ مِنْ أَوْجُہٍ قَوِیَّۃٍ مَا دَلَّ عَلَی مَا قُلْنَاہُ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٨) یزید بن یزید فرماتے ہیں کہ خولہ کو ان کے خاوند نے آواز دی تو وہ نماز میں مصروف تھی، جس کی وجہ سے آنے میں دیر ہوئی۔ خاوند نے کہہ دیا : تو میرے لیے والدہ کی مانند ہے، اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی تو خولہ نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس بارے میں کچھ حکم موجود نہ تھا۔ پھر دوسری مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر۔ اس نے کہا : میرے پاس موجود نہیں، اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے روزے رکھ۔ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ٣٠ صاع ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ اس نے کہا : اگر آپ میری مدد کریں وگرنہ میں اس کا بھی مالک نہیں ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ١٥ صاع سے اس کی اعانت فرمائی اور پندرہ صاع لوگوں نے دیے، یہ کل تیس صاع ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ اس نے کہا : میرے اور گھر والوں سے زیادہ کوئی اس کا محتاج نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو خود کھالے اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے تو اس نے لے لیا۔ (ب) اسرائیل ابو اسحاق سے نقل فرماتے ہیں، لیکن اس نے خولہ اور ٣٠ صاع کا تذکرہ نہیں کیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی پندرہ صاع سے مدد فرمائی۔ اس سے زائد نہ دیا، اس کے فقر کا تذکرہ فرمایا اور کھانے کا حکم دیا۔ (ج) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ١٥ صاع جو سے اس کی مدد فرمائی۔ (د) ابو یزید مدنی فرماتے ہیں کہ ایک عورت نصف وسق جو لے کر آئی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے دو مد جَو کے دیے، گندم کے بدلے۔

15295

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15295

Sahih

(۱۵۲۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَنْبَأَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ : أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ رَوْحٍ الدِّمَشْقِیَّ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُوعِیُّ حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ۔ قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی قَالَ فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ دُحَیْمٌ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٨٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھ پر افسوس کس چیز نے تجھے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا : میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک غلام آزاد کر۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس شخص نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا، فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے کہا : میں نہیں پاتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ١٥ صاع کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جا کر صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا : اپنے سے زیادہ محتاج پر ؟ اللہ کی قسم ! مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، تو ہنسنے کی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اور اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔ [حسن لغیرہ ]

15296

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15296

Sahih

(۱۵۲۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ : حَرِّرْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَتَصَدَّقْ عَلَی سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِمِکْتَلٍ یَکُونُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ یَکُونُ سِتِّینَ رُبُعًا فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ فَقَالَ لَہُ : أَطْعِمْ ہَذَا سِتِّینَ مِسْکِینًا۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا فَقَالَ لَہُ : اذْہَبْ فَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ ۔ فِی ہَذَا الْمُرْسَلِ تَأْکِیدٌ لِلرِّوَایَۃِ الْمَوْصُولَۃِ وَہَذَا أَوْلَی مِنْ رِوَایَۃِ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ بِالشَّکِّ فِی خَمْسَۃَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِینَ۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ خَمْسَۃَ عَشَرَ بِلاَ شَکٍّ وَسَیُرْوَی إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِ الأَیْمَانِ الآثَارُ عَنِ الصَّحَابَۃِ فِی جَوَازِ التَّصَدُّقِ بِمُدٍّ عَلَی کُلِّ مِسْکِینٍ وَاللَّہُ الْمُوَفِّقُ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٢٩٠) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گردن آزاد کر۔ اس نے کہا : میرے پاس نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ١٥ صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دے دیا اور فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پہاڑ کے دو کناروں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔ اس مرسل روایت میں مرفوع روایات کی تائید ہے، لیکن عطاء خراسانی سعید بن مسیب سے جو نقل فرماتے ہیں ١٥ صاع یا ٢٠ صاع نقل فرماتے ہیں اس میں شک ہے۔