Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 43 · Chapter 2982

مہر کا بیان۔

گھروں کو کس چیز سے ڈھانپا جائے

6 hadiths in this chapter

14592

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14592

Sahih

(۱۴۵۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ أَبِی الْحُبَابِ مَوْلَی بَنِی النَّجَّارِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِکَۃُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ تَمَاثِیلُ ۔ قَالَ : فَأَتَیْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ لَہَا : إِنَّ ہَذَا یُخْبِرُنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ لاَ تَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ تَمَاثِیلُ ۔ فَہَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ ذَلِکَ قَالَتْ : لاَ وَلَکِنْ سَأُحَدِّثُکُمْ مَا رَأَیْتُہُ فَعَلَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ فِی غَزَاتِہِ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُہُ عَلَی الْبَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَی النَّمَطَ عَرَفْتُ الْکَرَاہِیَۃَ فِی وَجْہِہِ فَجَذَبَہُ حَتَّی ہَتَکَہُ أَوْ قَطَعَہُ وَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَأْمُرْنَا أَنْ نَکْسُوَ الْحِجَارَۃَ وَالطِّینَ ۔ قَالَتْ : فَقَطَعْنَا مِنْہُ وِسَادَتَیْنِ وَحَشَوْتُہُمَا لِیفًا فَلَمْ یَعِبْ ذَلِکَ عَلَیَّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُہَیْلٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : الْحِجَارَۃَ وَاللَّبِنَ۔ (ق) وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ تَدُلُّ عَلَی کَرَاہِیَۃِ کِسْوَۃِ الْجِدَارِ وَإِنْ کَانَ سَبَبُ اللَّفْظِ فِیمَا رُوِّینَا مِنْ طُرُقِ ہَذَا الْحَدِیثِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْکَرَاہِیَۃَ کَانَتْ لِمَا فِیہِ مِنَ التِّمْثَالِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨٦) حضرت ابو طلحہ انصاری فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جس گھر میں کتا یا تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں : میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا تو ان سے کہا انھوں نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، میں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ فرماتی ہیں : لیکن میں تمہیں بیان کرتی ہوں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ میں گئے تو میں نے ایک پردہ لے کر دروازے پر ڈال دیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے تو پردے کو دیکھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کراہت کو محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پردہ کو پھاڑ یا کاٹ دیا اور فرمایا کہ اللہ رب العزت نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو پہنانے سے منع کیا ہے۔ فرماتی ہیں : ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لیے اور ان کو کھجور کے پتوں سے بھر لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے اوپر عیب نہیں لگایا۔ سہل کی حدیث میں ہے کہ پتھر اور اینٹوں کے لفظ آتے ہیں اور یہ دلالت کرتے ہیں دیواروں پر پردے ڈالنے کی کراہت پر، اگرچہ دوسری حدیث میں کراہت تصاویر کے بارے میں ہے۔

14593

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14593

Zaeef

(۱۴۵۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : دُعِیَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ إِلَی طَعَامٍ فَلَمَّا جَائَ رَأَی الْبَیْتَ مُنَجَّدًا فَقَعَدَ خَارِجًا وَبَکَی قَالَ فَقِیلَ لَہُ : مَا یُبْکِیکَ؟ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا شَیَّعَ جَیْشًا فَبَلَغَ عَقَبَۃَ الْوَدَاعِ قَالَ : أَسْتَوْدِعُ اللَّہَ دِینَکُمْ وَأَمَانَاتِکُمْ وَخَوَاتِیمَ أَعْمَالِکُمْ ۔ قَالَ : فَرَأَی رَجُلاً ذَاتَ یَوْمٍ قَدْ رَقَّعَ بُرْدَۃً لَہُ بِقِطْعَۃٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَقَالَ ہَکَذَا وَمَدَّ یَدَیْہِ وَمَدَّ عَفَّانُ یَدَیْہِ وَقَالَ : تَطَالَعَتْ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَیْ أَقْبَلَتْ حَتَّی ظَنَنَّا أَنْ یَقَعَ عَلَیْنَا ثُمَّ قَالَ : أَنْتُمُ الْیَوْمَ خَیْرٌ أَمْ إِذَا غَدَتْ عَلَیْکُمْ قَصْعَۃٌ وَرَاحَتْ أُخْرَی وَیَغْدُو أَحَدُکُمْ فِی حُلَّۃٍ وَیَرُوحُ فِی أُخْرَی وَتَسْتُرُونَ بُیُوتَکُمْ کَمَا تُسْتَرُ الْکَعْبَۃُ ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ : أَفَلاَ أَبْکِی وَقَدْ بَقِیتُ حَتَّی تَسْتُرُونَ بُیُوتَکُمْ کَمَا تُسْتَرُ الْکَعْبَۃُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨٧) محمد بن کعب کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن یزید کو کھانے کی دعوت دی گئی۔ جب انھوں نے گھر کی زیب وزینت دیکھی تو باہر بیٹھ کر رونے لگے۔ ان سے کہا گیا : آپ کو کس چیز نے رلا دیا ؟ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لشکر ترتیب دیتے اور انھیں الوداع کہنے کے لیے پہنچتے تو فرماتے : میں تمہارا دین، تمہاری امانتیں اور تمہارے اعمال کا اختتام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ آپ نے ایک دن ایک شخص کی چادر کو پیوند لگے ہوئے دیکھا تو سورج کے طلوع ہونے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ عفان نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دیکھائے اور فرمانے لگے کہ تمہیں دنیا وافر مل گئی ہے، تین مرتبہ فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ ہمارے اوپر گرپڑیں گے۔ پھر فرمانے لگے : تم آج بہتر ہو یا جب صبح کے وقت تمہارے سامنے ایک پلیٹ ہو اور شام کے وقت دوسری اور صبح تم ایک جوڑے میں کرو اور شام دوسرے میں اور تم اپنے گھروں کو پردوں سے اس طرح ڈھانپوں جیسے بیت اللہ کو ڈھانپا جاتا ہے اور عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ کیا میں نہ رؤں کہ میں باقی ہوں یہاں تک کہ تم نے اپنے گھروں کو پردوں سے چھپالیا ہے جیسا کہ بیت اللہ کو چھپایا جاتا تھا۔

14594

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14594

Zaeef

(۱۴۵۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ الضَّبِّیُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ یَرْفَعُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ لِکُلِّ شَیْئٍ شَرَفًا وَأَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِہِ الْقِبْلَۃُ لاَ تُصَلُّوا خَلْفَ نَائِمٍ وَلاَ مُتَحَدِّثٍ وَاقْتُلُوا الْحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ وَإِنْ کُنْتُمْ فِی صَلاَتِکُمْ وَلاَ تَسْتُرُوا الْجُدُرَ بِالثِّیَابِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ (ت) وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ ہِشَامِ بْنِ زِیَادٍ أَبِی الْمِقْدَامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ وَلَمْ یَثْبُتْ فِی ذَلِکَ إِسْنَادٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر چیز کے لیے ایک شرف ہوتا ہے اور تمام مجالس سے شرف والی مجلس وہ ہے جس کے ذریعے قبلہ کی طرف متوجہ ہوا جاتا ہے۔ تم سونے والے اور بدعتی آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو اور تم سانپ اور بچھو کو نماز کی حالت میں قتل کر دو اور دیواروں پر پردے نہ لٹکاؤ۔

14595

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14595

Zaeef

(۱۴۵۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ حَکِیمِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ تُسْتَرَ الْجُدُرُ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨٩) حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیواروں کو پردے لٹکانے سے ڈھانپا منع کیا ہے۔

14596

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14596

Sahih

(۱۴۵۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَطَائٍ قَالَ : عَرَّسْتُ ابْنًا لِی فَدَعَوْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَعُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا وَقَفَا عَلَی الْبَابِ رَأَی عُبَیْدُ اللَّہِ الْبَیْتَ قَدْ سُتِرَ بِالدِّیبَاجِ فَرَجَعَ وَدَخَلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لَقَدْ مَقَتَنِی حِینَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ وَاللَّہِ إِنَّ ذَلِکَ لَشَیْء ٌ مَا صَنَعْتُہُ وَمَا ہُوَ إِلاَّ شَیْء ٌ صَنَعَہُ النِّسَائُ وَغَلَبُونَا عَلَیْہِ۔ قَالَ فَحَدَّثَنِی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا زَوَّجَ ابْنَہُ سَالِمًا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ عُرْسِہِ دَعَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ نَاسًا فِیہِمْ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَی الْبَابِ رَأَی أَبُو أَیُّوبَ فِی الْبَیْتِ سُتُورًا مِنْ قَزٍّ فَقَالَ : لَقَدْ فَعَلْتُمُوہَا یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ سَتَرْتُمُ الْجُدُرَ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ وَفِی غَیْرِ ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ قَالَ : دَعَا ابْنُ عُمَرَ أَبَا أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَرَأَی فِی الْبَیْتِ سِتْرًا عَلَی الْجِدَارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : غَلَبَنَا عَلَیْہِ النِّسَائُ فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ أَخْشَی عَلَیْہِ فَلَمْ أَکُنْ أَخْشَی عَلَیْکَ وَاللَّہِ لاَ أَطْعَمُ لَکَ طَعَامًا فَرَجَعَ۔ [صحیح۔ فصہ سالم مع ابیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٠) ربیعہ بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی پر قاسم بن محمد اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کو دعوت دی، جب وہ دونوں دروازے پر پہنچے تو عبیداللہ نے گھر کے دروازے پر ریشمی پردے لٹکے ہوئے دیکھے تو واپس چلے گئے۔ لیکن قاسم بن محمد گھر میں داخل ہوگئے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ نے واپس جا کر مجھے ناراض کیا ہے۔ میں نے کہا : اللہ آپ کی اصلاح کرے، اللہ کی قسم ! میں نے یہ کام نہیں کیا، یہ کام تو عورتوں نے زبردستی کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے بیٹے سالم کی شادی کی تو انھوں نے لوگوں کو شادی کی دعوت دی جس میں ابوایوب انصاری بھی تھے جب ابوایوب نے گھر کو ریشم کے پردوں سے مزین دیکھا تو گھر کے دروازے پر ٹھہر گئے اور فرمانے لگے : اے ابوعبدالرحمن ! تم نے یہ کیا ہے کہ تم نے دیواروں پر پردے لٹکا رکھے ہیں ! پھر چلے گئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابن عمر (رض) نے ابوایوب (رض) کو دعوت دی۔ ابوایوب نے گھر میں دیواروں پر لٹکے ہوئے پردے دیکھے تو ابن عمر (رض) کہنے لگے : عورتیں ہم پر غالب آگئیں تو ابوایوب فرماتے ہیں : جس چیز کا میں لوگوں پر خوف کھاتا تھا مجھے آپ سے ڈر نہیں تھا، اللہ کی قسم ! میں آپ کا کھانا نہیں کھاؤں گا۔

14597

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14597

Zaeef

(۱۴۵۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَی أَبِی قُرَّۃَ الْکِنْدِیِّ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا قَالَ : یَا ہَذِہِ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَوْصَانِی إِنْ قَضَی اللَّہُ لَکَ أَنْ تَزَوَّجَ فَیَکُونُ أَوَّلُ مَا تَجْتَمِعَانِ عَلَیْہِ طَاعَۃً فَقَالَتْ : إِنَّکَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْئِ یُطَاعُ أَمْرُہُ فَقَالَ لَہَا : قَوْمِی نُصَلِّی وَنَدْعُو فَفَعَلاَ فَرَأَی بَیْتًا مُسَتَّرًا فَقَالَ : مَا بَالُ بَیْتِکُمْ مَحْمُومٌ أَوَتَحَوَّلَتِ الْکَعْبَۃُ فِی کِنْدَۃَ؟ فَقَالُوا : لَیْسَ مَحْمُومًا وَلَمْ تَتَحَوَّلِ الْکَعْبَۃُ فِی کِنْدَۃَ فَقَالَ: لاَ أَدْخُلُہُ حَتَّی یُہْتَکَ کُلُّ سِتْرٍ إِلاَّ سِتْرًا عَلَی الْبَابِ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔وَرُوِّینَا فِی کَرَاہِیَۃِ ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ لِمَا فِیہِ مِنَ السَّرَفِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩١) ابن جریج کہتے ہیں : سلیمان نے ابو قرۃ کندی سے شادی کی۔ جب ان کے پاس گئے تو کہنے لگے : اے عورت ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نصیحت کی تھی اگر اللہ تیرے نصیب میں شادی کرے تو سب سے پہلی چیز جس پر تم دونوں کا اجتماع ہو وہ اطاعت ہے۔ اس عورت نے کہا : آپ ایسے شخص کی مجلس میں بیٹھتے رہے جس کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہے تو وہ اس عورت سے کہنے لگے کہ میری قوم ہمارے لیے دعا کرے گی اور ہم ان کی دعوت کریں گے۔ ان دونوں نے ایسا کیا۔ جب اس نے گھر کو پردوں سے ڈھکا ہوا دیکھا تو کہنے لگے : تمہارے گھر کو سیاہ کس نے کردیا یا کعبہ کندہ میں آگیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہ تو وہ سیاہ ہے اور نہ ہی کعبہ کندہ میں منتقل ہوا ہے تو کہنے لگے : جب تک تمام پردے پھاڑ نہ دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے میں گھر میں داخل نہ ہوں گا اور دوسری روایت میں حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس کی کراہت منقول ہے اور یہ فضول خرچی کے مشابہہ ہے۔