Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 43 · Chapter 2983

مہر کا بیان۔

کھانے کی دعوت کو قبول کرنا مستحب ہے اگرچہ کوئی وجہ نہ بھی ہو امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر بازو مجھے تحفہ میں دیا جائے تو میں قبول کروں گا، اگر پائے کھانے کی دعوت تو جائے تب بھی قبول کروں گا۔

7 hadiths in this chapter

14598

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14598

Sahih

(۱۴۵۹۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْبَاشَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ دُعِیتُ إِلَی کُرَاعٍ لأَجَبْتُ وَلَوْ أُہْدِیَ إِلَیَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ وَکِیعٌ قَوْلَہُ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۶۸۔ ۵۱۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مجھے پائے کھانے کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا اگر دستی یا بازو مجھے تحفے میں دیا جائے تو میں قبول کروں گا۔ لیکن وکیع نے والذی نفسی بیدہ کے لفظ ذکر نہیں کیے۔

14599

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14599

Sahih

(۱۴۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ السُّرِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ لأُمِّ سُلَیْمٍ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ضَعِیفًا أَعْرِفُ فِیہِ الْجُوعَ فَہَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَیْئٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِیرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَہَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِہِ ثُمَّ دَسَّتْہُ تَحْتَ یَدِی وَرَدَّتْنِی بِبَعْضِہِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : فَذَہَبْتُ بِہِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْمَسْجِدِ وَمَعَہُ النَّاسُ فَقُمْتُ أَوْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَۃَ؟ ۔ فَقُلْتُ : نَعَمْ۔ فَقَالَ : أَلِطَعَامٍ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِمَنْ مَعَہُ : قُومُوا ۔ قَالَ فَانْطَلَقَ فَانْطَلَقْتُ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : یَا أُمَّ سُلَیْمٍ قَدْ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّاسِ وَلَیْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُہُمْ۔ قَالَتْ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَۃَ حَتَّی لَقِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو طَلْحَۃَ حَتَّی دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلُمِّی یَا أُمَّ سُلَیْمٍ مَا عِنْدَکِ فَأَتَتْہُ بِذَلِکَ الْخُبْزِ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ عُکَّۃً لَہَا فَأَدَمَتْہُ یَعْنِی الإِدَامَ ثُمَّ قَالَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ۔ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ۔ [صحیح۔ بخاری ، مسلم ۲۰۴۰]ق

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٣) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ (رض) نے ام سلیم (رض) سے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کمزور سی آواز سنی ہے جس سے میں نے پہچانا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھوکے ہیں، کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے ؟ ام سلیم (رض) کہتی ہیں : ہاں تو ام سلیم نے جَو کا آٹا نکالا۔ پھر ام سلیم نے اس کا خمار نکالا، پھر اس کی روٹی پکا کر میرے ہاتھ کے نیچے چھپا دی اور پھر اس کا کچھ حصہ مجھے ویسے دے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیج دیا۔ کہتے ہیں : جب میں وہ لے کر گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں لوگوں کے ساتھ موجود تھے، میں کھڑا رہا یا میں نے سلام کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہا : آپ کو ابو طلحہ نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں، فرمایا : کیا کھانے کے لیے ؟ میں نے کہا : جی ہاں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں سے کہا : اٹھو۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے آگے چل رہا تھا کہ میں نے آکر ابوطلحہ کو خبر دے دی ابو طلحہ کہنے لگے : اے ام سلیم (رض) ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو لے کر آگئے اور ہمارے پاس ان کو کھلانے کے لیے کھانا بھی نہیں ہے، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ (رض) جا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابو طلحہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام سلیم ! جو آپ کے پاس ہے لاؤ وہ روٹیاں لے کر آگئیں۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا، روٹیاں ٹکڑے ٹکڑے کردی گئیں اور ام سلیم نے سالن والی تھیلی نچوڑ دی۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں جو چاہا کیا، پھر فرمایا : دس آدمیوں کو اجازت دو تو ابو طلحہ (رض) نے دس آدمیوں کو بلایا۔ انھوں نے سیر ہو کر کھایا اور چلے گئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس آدمی اور بلاؤ، انھوں نے بھی سیر ہو کر کھایا اس طرح تمام لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا اور لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔

14600

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14600

Sahih

(۱۴۵۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ثُمَّ دَسَّتْہُ تَحْتَ ثَوْبِی وَرَدَّتْنِی بِبَعْضِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَرَوَاہُ سَعْدُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَزَادَ فِیہِ قَالَ : ثُمَّ ہَیَّأَہَا فَإِذَا ہِیَ مِثْلُہَا حِینَ أَکَلُوا مِنْہَا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٤) یحییٰ بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک پر پڑھا تو انھوں نے اس کی مثل حدیث کو پڑھا کہ اس نے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور کچھ مجھے ویسے دے دیا۔ (ب) سعد بن سعید حضرت انس بن مالک (رض) سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ام سلیم اس کھانے کے پاس آئیں جب تمام لوگ کھا کر چلے گئے تو کھانا ویسے کا ویسا ہی تھا۔

14601

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14601

Sahih

(۱۴۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ ہُوَ ابْنُ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ ح وَأَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنَّ خَیَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِطَعَامٍ صَنَعَہُ لَہُ قَالَ أَنَسٌ : فَذَہَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی ذَلِکَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خُبْزًا مِنْ شَعِیرٍ وَمَرَقًا فِیہِ دُبَّاء ٌ وَقَدِیدٌ۔ قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَتْبَعُ الدُّبَّائَ مِنْ حَوَالَیِ الصَّحْفَۃِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّائَ بَعْدَ ذَلِکَ الْیَوْمِ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ بَعْدَ یَوْمِئِذٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۰۴۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں اس کہ ایک درزی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانے کی دعوت دی۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھانے گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جَو کی روٹی اور شوربہ لایا گیا، جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ پلیٹ کے کناروں سے کدو تلاش کر رہے تھے۔ میں بھی اس دن کے بعد کدو کو پسند کرتا ہوں۔

14602

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14602

Sahih

(۱۴۵۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ حَدَّثَنَا حَنْظَلَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مِینَائَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لأَصْحَابِہِ : قُومُوا فَقَدْ صَنَعَ جَابِرٌ سُوْرًا ۔ قَالَ أَبُو الْفَضْلِ وَہُوَ الدُّورِیُّ وَإِنَّمَا یُرَادُ بِہَذَا الْحَدِیثِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَکَلَّمَ بِالْفَارِسِیَّۃِ۔ سُوْرٌ عُرْسٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِیٍّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ بِطُولِہِ۔ وَسِیَاقُہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ قَالَ ذَلِکَ فِی دَعْوَۃٍ إِلَی طَعَامٍ فِی غَیْرِ عُرْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۰۷۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ، جابر (رض) نے دعوت پکائی ہے۔ (ب) حجاج بن شاعر ابو عاصم (رض) سے ایک لمبی حدیث ذکر کرتے ہیں اور اس حدیث کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ یہ کھانے کی دعوت شادی کے علاوہ تھی۔

14603

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14603

Sahih

(۱۴۵۹۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِیُّ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ وَہَذَا حَدِیثُہُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَنْظَلَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مِینَائَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ أَصَابَ النَّاسُ خَمَصًا شَدِیدًا قَالَ فَقُلْتُ لأَہْلِی : ہَلْ عِنْدَکِ شَیْء ٌ حَتَّی نَدْعُوَ النَّبِیَّ -ﷺ-؟ قَالَتْ : مَا عِنْدَنَا إِلاَّ صَاعٌ مِنْ شَعِیرٍ قَالَ فَقُلْتُ لَہَا اطْحَنِیہِ قَالَ وَذَبَحْتُ عَنَاقًا عِنْدَنَا قَالَ فَفَرَغَتْ إِلَی فَرَاغِی فَانْطَلَقْتُ أَدْعُو النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عِنْدَنَا صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ وَعِنْدَنَا عَنَاقٌ أَوْ شَاۃٌ فَذَبَحْنَاہَا قَالَ فَصَاحَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی أَصْحَابَہُ : قُومُوا فَقَدْ صَنَعَ جَابِرٌ سُوْرًا ۔ قَالَ : فَانْطَلَقْتُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَأَتَیْتُ امْرَأَتِی فَقَالَتْ : بِکَ وَبِکَ لاَ تَفْضَحْنِی الْیَوْمَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ضَعُوا بُرْمَتَکُمْ۔ قَالَ: فَوَضَعُوا فِیہَا اللَّحْمَ فَبَسَقَ فِیہَا وَبَارَکَ ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوا خَابِزَۃً تَخْبِزُ لَکُمْ ۔ قَالَ : فَجَعَلَتِ الْخَابِزَۃُ تَخْبِزُ قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ادْخُلُوا عَشْرَۃً عَشْرَۃً ۔ قَالَ : فَجَعَلَ یَغْرِفُ لَہُمْ فَیَأْکُلُونَ حَتَّی أَتَی عَلَی آخِرِہِمْ وَإِنَّا لَنَقْدَحُ فِی بُرْمَتِنَا وَإِنَّ عَجِینَنَا لَیُخْبَزُ کَمَا ہُوَ وَإِنَّ قِدْرَنَا لَتَغِطُّ کَمَا ہِیَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۰۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٧) جابر بن عبداللہ انصاری (رض) فرماتے ہیں : جب خندق کے دن لوگوں کو سخت بھوک لگی تو میں نے اپنی بیوی سے کہا : کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دے تو کہنے لگی کہ ہمارے پاس صرف ایک صاع جو کا ہے۔ جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے اس سے کہا : تو اس کو پیس اور میں نے بکری کا بچہ جو ہمارے پاس تھا ذبح کر ڈالا۔ کہتے ہیں : میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہوگئی۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دے دی، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس جَو کا ایک صاع بکری یا بکری کا بچہ تھا جو ذبح کر ڈالا۔ جابر (رض) کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) میں اعلان کروا دیا، چلو جابر (رض) نے دعوت پکائی ہے۔ جابر (رض) کہتے ہیں : میں لوگوں کے آگے آگے چلتا ہوا اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ کہنے لگی کہ آج ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رسوا نہ کرا دینا۔ جابر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، آپ نے فرمایا : اپنی ہنڈیا رکھو، کہتے ہیں : انھوں نے اس میں گوشت رکھ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں تھوکا اور برکت کی دعا کی، پھر فرمایا کہ روٹی پکانے والیوں سے کہو کہ وہ روٹی پکائیں۔ انھوں نے روٹی پکانی شروع کردی۔ جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس دس آدمی آتے جاؤ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ڈال کر دے رہے تھے۔ وہ کھانے گئے یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی آیا اور ہماری ہنڈیا اور آٹا ویسے کا ویسا ہی تھا۔

14604

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14604

Sahih

(۱۴۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بُسْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ بِأَبِیہِ وَہُوَ عَلَی بَغْلَۃٍ لَہُ بَیْضَائَ فَأَتَاہُ فَأَخَذَ بِلِجَامِہَا فَقَالَ : انْزِلْ عَلَیَّ۔ قَالَ : فَنَزَلَ عَلَیْنَا فَأُتِیَ بِتَمْرٍ وَسَوِیقٍ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُ ثُمَّ یَضَعُ النَّوَی عَلَی ظَہْرِ السَّبَّابَۃِ أَوِ الْوُسْطَی أَوْ عَلَیْہِمَا جَمِیعًا ثُمَّ یَرْمِی بِہِ قَالَ وَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُ ثُمَّ أَتَاہُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ سَوِیقٍ فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ أَعْطَاہُ الَّذِی عَنْ یَمِینِہِ فَأَرَادَ أَنْ یَسِیرَ أَوْ یَرْتَحِلَ فَقَالَ : ادْعُ لَنَا فَقَالَ : اللَّہُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ وَابْنِ أَبِی عَدِیٍّ وَیَحْیَی بْنِ حَمَّادٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۰۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٩٨) عبداللہ بن بسر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے والد کے پاس سے گزرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ اس نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خچر کی لگام کو پکڑ لیا اور کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس اتریں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے پاس پڑاؤ کیا تو کھجور اور ستو لائے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجور کھا رہے تھے اور گٹھلی کو شہادت یا درمیان والی انگلی کے اوپر یا دونوں کے اوپر رکھ کر پھینک دیتے۔ راوی کہتے ہیں تو انھوں نے آپ کے لیے کھانا بنایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھایا۔ پھر اس کے بعد دودھ یا ستو کا پیالہ لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیا، پھر اس کو دیا جو آپ کے دائیں جانب تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چلنے یا کوچ کا ارادہ کیا تو اس نے کہا : ہمارے لیے دعا کیجیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ان کے رزق میں برکت دے اور ان کو معاف کر اور ان پر رحم فرما۔