Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 43 · Chapter 2980

مہر کا بیان۔

تصاویر کی ممانعت میں سختی کا بیان

17 hadiths in this chapter

14572

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14572

Sahih

(۱۴۵۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ الَّذِینَ یَصْنَعُونَ ہَذِہِ الصُّوَرَ یُعَذَّبُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُقَالُ لَہُمْ أَحْیُوا مَا خَلَقْتُمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۰۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٦٦) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، کہا جائے گا : تم ان کو زندہ کرو جو تم نے بنایا ہے۔

14573

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14573

Sahih

(۱۴۵۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَیْحٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ مَسْروقٍ فِی دَارِ یَسَارِ بْنِ نُمَیْرٍ فَرَأَی مَسْروقٌ فِی صُفَّتِہِ تَمَاثِیلَ فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُصَوِّرُونَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۰۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٦٧) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے زیادہ سخت عذاب تصاویر بنانے والوں کو دیا جائے گا۔

14574

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14574

Sahih

(۱۴۵۶۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَارَ مَرْوَانَ فَرَأَی فِیہَا تَصَاوِیرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَہَبَ یَخْلُقُ خَلْقًا کَخَلْقِی فَلْیَخْلُقُوا ذَرَّۃً أَوْ لِیَخْلُقُوا حَبَّۃً أَوْ لِیَخْلُقُوا شَعِیرَۃً ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔[صحیح۔ مسلم ۲۱۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٦٨) ابو زرعہ فرماتے ہیں : میں ابوہریرہ (رض) کے ساتھ مروان کے گھر داخل ہوا جس میں تصاویر تھیں تو ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے میری مخلوق کی مانند بنانے کی کوشش کی۔ وہ ایک ذرہ، دانا یا جو ہی پیدا کردیں۔

14575

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14575

Sahih

(۱۴۵۶۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَہُوَ یُفْتِی النَّاسَ لاَ یُسْنِدُ شَیْئًا مِنْ فُتْیَاہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ وَإِنِّی أُصَوِّرُ ہَذِہِ التَّصَاوِیرَ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : ادْنُہْ ادْنُہْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَدَنَا فَقَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً فِی الدُّنْیَا کُلِّفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْ یَنْفُخَ فِیہَا الرُّوحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیث سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۱۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٦٩) نضر بن انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دیتے، لیکن اپنے فتویٰ کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نہ کرتے۔ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : میں عراقی ہوں اور تصاویر بنانے کا کام کرتا ہوں، تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ دو یا تین مرتبہ فرمایا، پھر کہنے لگے : میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جو اس دنیا میں تصاویر بناتا ہے قیامت کے دن اس کو مکلف ٹھہرا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے لیکن وہ روح نہ پھونک سکے گا۔

14576

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14576

Sahih

(۱۴۵۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ مَحْمُوَیْہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ لَعَنَ الْمُصَوِّرَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ [صحیح۔ البخاری ۲۰۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٠) ابو جحیفہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تصاویر بنانے والے پر لعنت کی ہے۔

14577

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14577

Sahih

(۱۴۵۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَکُنْ یَدَعُ فِی بَیْتِہِ ثَوْبًا فِیہِ تَصْلِیبٌ إِلاَّ نَقَضَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۵۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھر میں کوئی کپڑا نہیں چھوڑا جس میں تصاویر ہو مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کاٹ ڈالا۔

14578

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14578

Sahih

(۱۴۵۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً عُذِّبَ وَکُلِّفَ أَنْ یَنْفُخَ فِیہَا وَلَیْسَ بِنَافِخٍ وَمَنْ تَحَلَّمَ کَاذِبًا عُذِّبَ وَکُلِّفَ أَنْ یَعْقِدَ بَیْنَ شَعِیرَتَیْنِ وَلَیْسَ بِعَاقِدٍ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَی حَدِیثِ قَوْمٍ وَہُمْ لَہُ کَارِہُونَ صُبَّ فِی أُذُنِہِ الآنُکُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ سُفْیَانُ : الآنُکُ الرَّصَاصُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۱۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور روح پھونکنے کا مکلف ٹھہرا جائے گا لیکن وہ روح پھونک نہ سکے گا اور جس نے جھوٹا خواب بیان کیا اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ دو جَو کے درمیان گرا لگائے حالانکہ وہ گرا نہ لگا سکے گا اور جس نے کسی قوم کی بات کو سننا چاہا جس کو وہ سنانا ناپسند کرتے ہیں کل قیامت کے دن اس کے کانوں میں شیشہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ (٣٨) باب الرُّخْصَۃِ فِیمَا یُوطَأُ مِنَ الصُّوَرِ أَوْ یُقْطَعُ رُئُ وسُہَا وَفِی صُوَرِ غَیْرِ ذَوَاتِ الأَرْوَاحِ مِنَ الأَشْجَارِ وَغَیْرِہَا جس تصویر کو روندا جائے یا اس کے سر کو کاٹا جائے یا غیرذی روح اشیاء کی تصاویر ہو تو ان میں رخصت ہے

14579

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14579

Sahih

(۱۴۵۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ عَلَی سَہْوَۃٍ لِی فِیہِ تَمَاثِیلُ فَلَمَّا رَآہُ ہَتَکَہُ وَقَالَ : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِینَ یُضَاہُونَ بِخَلْقِ اللَّہِ ۔ قَالَتْ : فَقَطَعْنَاہُ فَجَعَلْنَا مِنْہُ وِسَادَۃً أَوْ وِسَادَتَیْنِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۱۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر سے آئے تو میں نے ایک طاقچہ پر پردہ ڈال رکھا تھا، جس میں تصاویر تھیں، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پردہ کو دیکھا تو پھاڑ ڈالا اور فرمایا : قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس کو ہوگا جو اللہ کی پیدائش کی مشابہت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں : پھر ہم نے کاٹ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔

14580

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14580

Sahih

(۱۴۵۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِیہِ تَصَاوِیرُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَنَزَعَہُ فَقَطَعَہُ وِسَادَتَیْنِ فَقَالَ رَجُلٌ فِی الْمَجْلِسِ حِینَئِذٍ یُقَالُ لَہُ رَبِیعَۃُ بْنُ عَطَائٍ مَوْلَی بَنِی زُہْرَۃَ أَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ یَذْکُرُ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَرْتَفِقُ عَلَیْہِمَا۔ قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ : لاَ۔قَالَ : لَکِنِّی قَدْ سَمِعْتُہُ۔ یُرِیدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی زَکَرِیَّا قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ : لَکَأَنِّی قَدْ سَمِعْتُہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے تصاویر والا پردہ لٹکا رکھا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے۔ مجلس سے ربیعہ بن عطاء جو بنو زہرہ کے غلام تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : کیا آپ نے ابو محمد سے سنا وہ حضرت عائشہ (رض) سے ذکر کرتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں پر ٹیک لگاتے تھے تو ابن قاسم کہتے ہیں : نہیں بلکہ ان کا ارادہ تھا کہ قاسم بن محمد تھے۔

14581

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14581

Sahih

(۱۴۵۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّیْثِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَخِی الْمَاجِشُونِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَإِذَا بِسِتْرٍ فِیہِ صُوَرٌ قَالَتْ : فَعَرَفْتُ فِی وَجْہِہِ الْغَضَبَ ثُمَّ جَائَ فَہَتَکَہُ قَالَتْ فَأَخَذْتُہُ فَجَعَلْتُہُ مِرْفَقَتَیْنِ قَالَتْ فَکَانَ یَرْتَفِقُ بِہِمَا فِی الْبَیْتِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٥) قاسم بن محمد حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) کے گھر آئے تو وہاں تصاویر والا پردہ تھا، فرماتی ہیں : میں نے آپ کے چہرہ سے غصہ کو پہچان لیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آکر پھاڑ ڈالا۔ فرماتی ہیں : میں نے اس کو دو تکیوں میں تقسیم کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دونوں پر گھر میں ٹیک لگاتے تھے۔

14582

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14582

Sahih

(۱۴۵۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَتَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ : إِنِّی أَتَیْتُکَ الْبَارِحَۃَ فَلَمْ یَمْنَعْنِی مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَیْکَ الْبَیْتَ الَّذِی کُنْتَ فِیہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَدْ کَانَ فِی بَابِ الْبَیْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَسِتْرٌ فِیہِ تِمْثَالٌ وَکَانَ فِی الْبَیْتِ جِرْوٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِی فِی الْبَیْتِ فَلْیُقْطَعْ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْیُقْطَعْ فَلْتُجْعَلْ مِنْہُ وِسَادَتَیْنِ تُبْتَذَلاَنِ وَتُوطَئَانِ وَمُرْ بِالْکَلْبِ فَلْیُخْرَجْ۔ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَإِذَا کَلْبٌ أَوْ جِرْوٌ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأُخْرِجَ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۹۴۸۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل آئے اور فرمایا : میں گزشتہ رات اس وجہ سے نہ آیا کہ گھر کے دروازے پر مرد کی تصویر اور پردہ پر تصاویر تھیں اور گھر میں کتیا کا بچہ تھا تو گھر کی تصاویر کے سر کاٹنے کا حکم دیں اور پردہ کو کاٹ کر تکیے بنانے کا حکم فرمائیں، جن کو روندا جائے اور کتیا کے بچے کو گھر سے نکالنے کا حکم دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے ہی کیا۔ وہ کتا یا کتے کا بچہ حسن و حسین کا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو نکالنے کا حکم فرمایا۔

14583

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14583

Sahih

(۱۴۵۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ جِبْرَئِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَوْتَہُ فَقَالَ : ادْخُلْ ۔ فَقَالَ : إِنَّ فِی الْبَیْتِ سِتْرًا فِی الْحَائِطِ فِیہِ تَمَاثِیلُ فَاقْطَعُوا رُئُ وسَہَا وَاجْعَلُوہُ بُسُطًا أَوْ وَسَائِدَ فَأَوْطِئُوہُ فَإِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ تَمَاثِیلُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَیْدُ بْنُ أَبِی أُنَیْسَۃَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل امین نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آواز پہچان لی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : داخل ہوجاؤ تو وہ کہنے لگے : گھر کی دیوار پر پردہ تھا جس میں تصویریں تھیں۔ ان کے سر کاٹ کر چٹائی یا تکیے بنا لو اور ان کو روندو۔ کیونکہ ہم تصاویر والے گھر نہیں آتے۔

14584

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14584

Sahih

(۱۴۵۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ : مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَازِیُّ عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِی فِی بَابِ الْبَیْتِ یُقْطَعْ فَیَصِیرَ کَہَیْئَۃِ الشَّجَرَۃِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٨) یونس بن ابی اسحاق نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ گھر کے دروازے والی تصاویر کے سر کاٹ کر درختوں کی مانند بنا لو۔

14585

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14585

Sahih

(۱۴۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّی إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِیشَتِی مِنْ صَنْعَۃِ یَدِی إِنِّی أَصْنَعُ ہَذِہِ التَّصَاوِیرَ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : ادْنُہْ ادْنُہْ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً فِی الدُّنْیَا کُلِّفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْ یَنْفُخَ فِیہَا الرُّوحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ ۔ قَالَ : فَرَبَا لَہَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیدَۃً وَقَالَ : وَیْحَکَ إِنْ أَبَیْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَیْکَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَیْسَ فِیہِ الرُّوحُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۲۵۔ ۷۰۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٧٩) سعید بن ابو حسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : تصاویر بنانا میرا پیشہ ہے، میں اس سے روزی کماتا ہوں تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : میرے قریب ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا میں تصویر بنائی قیامت کے دن اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ روح پھونک نہ سکے گا۔ اس شخص نے زیادہ بحث کی تو فرمانے لگے : تو ہلاک ہو اگر بنانی ہیں تو درختوں کی تصاویر بنا لیا کرو جس میں روح نہیں ہوتی۔

14586

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14586

Sahih

(۱۴۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا وَہْبٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : الصُّورَۃُ الرَّأْسُ فَإِذَا قُطِعَ الرَّأْسُ فَلَیْسَ بِصُورَۃٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨٠) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تصویر سر ہی تو ہے جب سر کاٹ دیا جائے تو وہ تصویر نہیں ہوتی۔

14587

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14587

Sahih

(۱۴۵۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ مَا نُصِبَ مِنَ التَّمَاثِیلِ نَصْبًا وَلاَ یَرَوْنَ بِمَا وَطِئَتْہُ الأَقْدَامُ بَأْسًا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨١) حضرت عکرمہ لٹکائی گئی تصاویر کو ناپسند کرتے تھے لیکن جو پاؤں میں روندی جائیں ان میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔

14588

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14588

Sahih

(۱۴۵۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ یَعُودُہُ فَرَأَی عَلَیْہِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا ہَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : وَمَا ہُوَ؟ قَالَ : الإِسْتَبْرَقُ۔ قَالَ : إِنَّمَا کُرِہَ ذَلِکَ لِمَنْ یَتَکَبَّرُ فِیہِ۔ قَالَ : مَا ہَذِہِ التَّصَاوِیرُ فِی الْکَانُونِ؟ قَالَ : لاَ جَرَمَ أَلَمْ تَرَ کَیْفَ أُحْرِقُہَا بِالنَّارِ۔ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ : انْزِعُوا ہَذَا الثَّوْبَ عَنِّی وَاقْطَعُوا رُئُ وسَ ہَذِہِ التَّصَاوِیرِ الَّتِی فِی الْکَانُونِ فَقَطَعَہَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٥٨٢) حضرت مسور بن مخرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو ان پر مزین قسم کا لباس دیکھا یعنی ریشم کا تو کہنے لگے : اے ابن عباس ! یہ کیا کپڑا ہے ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : ریشم۔ فرمانے لگے : تکبر کرنے والے کے لیے جائز نہیں ہے۔ کہنے لگے : یہ قالین پر کیسی تصاویر ہیں ؟ فرمانے لگے : میں اس کو آگ سے جلا دوں گا۔ جب مسور چلے گئے تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اس قالین یا کپڑے کو مجھ سے دورلے جاؤ۔ ان تصاویر کے سر کاٹ دو تو انھوں نے کاٹ ڈالے۔