Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2941

نکاح کا بیان

میاں بیوی مجامعت کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اگر عورت ثیبہ ہے تو مرد کی بات معتبر ہے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : وہ نکاح فسخ کرنا چاہتی ہے اور مرد کے ذمہ قسم ہے۔

2 hadiths in this chapter

14307

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14307

Sahih

(۱۴۳۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً دَخَلَتْ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَعَلَیْہَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَکَتْ إِلَیْہَا زَوْجَہَا وَأَرَتْہَا ضَرْبًا بِجِلْدِہَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ لَہُ ذَلِکَ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَالَتْ : مَا تَلْقَی نِسَائُ الْمُسْلِمِینَ مِنْ أَزْوَاجِہِنَّ وَقَالَتْ لِلَّذِی بِجِلْدِہَا أَشَدُّ خُضْرَۃً مِنْ خِمَارِہَا قَالَ عِکْرِمَۃُ : وَالنِّسَائُ یَنْصُرُ بَعْضُہُنَّ بَعْضًا وَجَائَ الرَّجُلُ فَقَالَتْ : مَا الَّذِی عِنْدَہُ بِأَغْنَی عَنِّی مِنْ ہَذَا وَقَالَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِہَا فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ إِنِّی لأَنْفُضُہَا نَفْضَ الأَدِیمِ وَلَکِنَّہَا نَاشِزٌ تُرِیدُ رِفَاعَۃَ وَکَانَ رِفَاعَۃُ زَوْجَہَا قَدْ طَلَّقَہَا قَبْلَ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہُ إِنْ کَانَ کَمَا تَقُولِینَ لَمْ تَحِلِّی لَہُ حَتَّی یَذُوقَ مِنْ عُسَیْلَتِکِ وَتَذُوقِی مِنْ عُسَیْلَتِہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٣٠١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، اس پر سبز اوڑھنی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی اور اپنی جلد پر مار کا نشان بھی دکھایا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا اور کہنے لگی کہ مسلمان عورتوں کو ان کے خاوندوں سے اتنی تکلیف آتی ہے اور فرمانے لگیں کہ اس کی جلد پر اس کی اوڑھنی سے بھی زیادہ سبز داغ تھے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور مرد بھی آگیا تو عورت نے کہہ دیا جو اس کے پاس ہے وہ مجھ سے بے پروا ہے (یعنی میری حاجت پوری نہیں کرتا) اور اپنے کپڑے کے سرے کو پکڑ کر کہنے لگی : اس طرح ہے اور مرد کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میں اس کو اس طرح چھانٹتا ہوں جیسے چمڑے کو چھانٹا جاتا ہے، لیکن یہ نافرمانی کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ رفاعہ کا ارادہ رکھتی ہے جس نے پہلے اس کو طلاق دے دی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر بات ایسے ہے تو پھر تیرے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ تو اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تیرا۔

14308

Sunan Al Kubra Bayhaqi #14308

Zaeef

(۱۴۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَشْہَلُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَکَرَتْ : أَنَّ زَوْجَہَا لاَ یَصِلُ إِلَیْہَا فَسَأَلَ الرَّجُلَ قَالَ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ۔ وَکَتَبَ فِیہِ إِلَی مُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَکَتَبَ أَنَّ زَوِّجْہُ امْرَأَۃً مِنْ بَیْتِ الْمَالِ لَہَا حَظٌّ مِنْ جَمَالٍ وَدِینٍ فَإِنْ زَعَمَتْ أَنَّہُ یَصِلُ إِلَیْہَا فَاجْمَعْ بَیْنَہُمَا وَإِنْ زَعَمَتْ أَنَّہُ لاَ یَصِلُ إِلَیْہَا فَفَرِّقْ بَیْنَہُمَا قَالَ : فَفَعَلَ وَأَتَی بِہِمَا عِنْدَہُ فِی الدَّارِ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ دَخَلَ النَّاسُ وَدَخَلْتُ قَالَ فَجَائَ الرَّجُلُ عَلَیْہِ أَثَرُ صُفْرَۃٍ فَقَالَ لَہُ : مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : فَعَلْتُ وَاللَّہِ حَتَّی خَضْخَضْتُہُ فِی الثَّوْبِ مِنْ وَرَائِہَا قَالَ وَجَائَ تِ الْمَرْأَۃُ مُتَقَنِّعَۃً فَقَامَتْ عِنْدَ رِجْلِہِ قَالَ فَسَأَلَہَا وَعَظَّمَ عَلَیْہَا فَقَالَتْ : لاَ شَیْئَ فَقَالَ : أَمَا یَنْتَشِرُ أَمَا یَدْنُو قَالَتْ : بَلَی وَلَکِنَّہُ إِذَا دَنَا جَائَ شَرُّہُ فَقَالَ سَمُرَۃُ : خَلِّ سَبِیلَہَا یَا مُخَضْخِضُ۔ ہَذَا رَأْیٌ مِنْ مُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ یَکُونُ الرَّجُلُ عِنِّینًا مِنَ امْرَأَۃٍ و لاَ یَکُونُ عِنِّینًا مِنْ أُخْرَی۔ وَمُتَابِعَۃُ السُّنَّۃِ أَوْلَی وَقَدْ قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْیَمِینِ عَلَی مَنْ أَنْکَرَ وَالزَّوْجُ یُنْکَرُ مَا یُدَّعَی عَلَیْہِ مِنَ الْعِنَّۃِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ قَالَ : مَا زِلْنَا نَسْمَعُ أَنَّہُ إِذَا أَصَابَہَا مَرَّۃً فَلاَ کَلاَمَ لَہَا وَلاَ خُصُومَۃَ وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ طَاوُسٍ وَالْحَسَنِ وَالزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٤٣٠٢) عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت سمرہ بن جندب کے پاس آئی۔ اس نے تذکرہ کیا کہ میرا خاوند دخول کے قابل نہیں ہے۔ جب سمرہ (رض) نے مرد سے پوچھا تو اس نے انکار کردیا، انھوں نے معاویہ کو خط لکھا کہ اس عورت کی شادی بیت المال کے مال سے کردی جائے اس کی خوبصورتی اور دین کی وجہ سے۔ اگر وہ گمان کرے کہ وہ دخول کے قابل ہے تو ان کو جمع کردینا۔ اگر عورت کا خیال ہو کہ وہ اس قابل نہیں ہے تو تفریق کردینا۔ کہتے ہیں وہ ان کے گھر آئے تو لوگ داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہوا۔ مرد آیا تو اس پر زردی کے نشانات تھے تو اس سے کہا کہ تو نے کیا کیا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے کپڑے میں اس کے پیچھے سے بہت حرکت دی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عورت اس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہوگئی، جب اس نے اس سے سوال کیا تو کہنے لگی : یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ تو سمرہ نے کہا کہ اب جدا ہونا ہے یا قریب قریب رہنا ہے ؟ عورت کہنے لگی : کیوں نہیں۔ لیکن وہ جب بھی قریب آتا ہے تو شر ہی لاتا ہے تو سمرہ نے کہا : اے حرکت دینے والے ! تو اس کا راستہ چھوڑ دے۔ یہ معاویہ (رض) کی رائے ہے اور کبھی ایک عورت سے تو نامرد ہوتا ہے لیکن دوسری کے لیے نہیں اور سنت کی پیروی میں بہتری ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کا فیصلہ فرمایا جو انکار کرے اور خاوند نامردی کے دعویٰ کو نہیں مانتا اور حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں : جب ایک مرتبہ جماع کرلے تو پھر اس میں کوئی جھگڑا اور کلام نہیں ہے۔