Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2899

نکاح کا بیان

اللہ تعالیٰ کے فرمان : { وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } ” اور حرام کی گئی ہیں بیاہی ہوئی عورتوں میں سے مگر جن کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ “ کا بیان

6 hadiths in this chapter

13960

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13960

Sahih

(۱۳۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ صَالِحٍ أَبِی الخَلِیلِ عَنْ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ یَوْمَ حُنَیْنٍ جَیْشًا إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوہُمْ فَظَہَرُوا عَلَیْہِمْ وَأَصَابُوا لَہُمْ سَبَایَا فَکَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْیَانِہِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِہِنَّ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی ذَلِکَ (وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ) أَیْ فَہُنَّ لَہُمْ حَلاَلٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہُنَّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَوَارِیرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۵۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٥٤) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جنہوں نے دشمن سے لڑ کر غلبہ حاصل کر کے لونڈیاں پائیں تو صحابہ نے ان کے مشرک خاوندوں کے موجود ہونے کی وجہ سے ان سے مجامعت میں حرج محسوس کیا۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] ” کہ یہ ان کے لیے عدت کے ختم ہوجانے کے بعد حلال ہیں۔ “

13961

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13961

Sahih

(۱۳۹۵۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} قَالَ : کُلُّ ذَاتِ زَوْجٍ إِتْیَانُہَا زِنًا إِلاَّ مَا سُبِیَتْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٥٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں : { وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] ہر خاوند والی عورت سے مجامعت کرنا زنا ہے سوائے لونڈی کے۔

13962

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13962

Zaeef

(۱۳۹۵۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} قَالَ : ہُنَّ السَّبَایَا اللاَّتِی لَہُنَّ أَزْوَاجٌ لاَ بَأْسَ بِمُجَامَعَتِہِنَّ إِذَا اسْتُبرِئْنَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٥٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس قول : { وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لونڈیوں سے استبراء رحم کے بعد مجامعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ ان کے خاوند موجود ہوں۔

13963

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13963

Zaeef

(۱۳۹۵۷) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِثْلَہُ۔ وَرَوَی الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِإِسْنَادِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَی قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٥٧) خالی۔

13964

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13964

Sahih

(۱۳۹۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ} ہُنَّ ذَوَاتُ الأَزْوَاجِ۔ وَیَرْجِعُ ذَلِکَ إِلَی أَنَّ اللَّہَ حَرَّمَ الزِّنَا وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی أَنَّ ذَوَاتِ الأَزْوَاجِ مِنَ الإِمَائِ یَحْرُمْنَ عَلَی غَیْرِ أَزْوَاجِہِنَّ وَأَنَّ الاِسْتِثْنَائَ فِی قَوْلِہِ {إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} مَقْصُورٌ عَلَی السَّبَایَا بِأَنَّ السُّنَّۃَ دَلَّتَ عَلَی أَنَّ الْمَمْلُوکَۃَ غَیْرُ الْمَسْبِیَۃِ إِذَا بِیعَتْ أَوْ أُعْتِقَتْ لَمْ یَکُنْ بَیْعُہَا طَلاَقًا لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَیَّرَ بَرِیرَۃَ حِینَ عَتَقَتْ فِی الْمُقَامِ مَعَ زَوْجِہَا أَوْ فِرَاقِہِ وَقَدْ زَالَ مِلْکُ بَرِیرَۃُ بِأَنْ بِیعَتْ فَأُعْتِقَتْ فَکَانَ زَوَالُہُ لِمَعْنَیَیْنِ وَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ فُرْقَۃً قَالَ : فَإِذَا لَمْ یَحِلَّ فَرْجُ ذَوَاتِ الزَّوْجِ بِزَوَالِ الْمِلْکِ فَہِیَ إِذَا لَمْ تُبَعْ لَمْ تَحِلَّ بِمِلْکِ یَمِینٍ حَتَّی یُطَلِّقَہَا زَوْجُہَا قَالَ فِی الْقَدِیمِ وَمِمَّنْ قَالَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ قَالُوا : نِکَاحُ الزَّوْجِ بَعْدَ الشِّرَائِ ثَابِتٌ قَالَ وَمِمَّنْ قَالَ بَیْعُ الأَمَۃِ طَلاَقُہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُمْ قَاسُوہَا عَلَی الْمَسْبِیَّۃِ وَحَدِیثُ بَرِیرَۃَ یَمْنَعُ مِنْ ہَذَا الْقِیَاسِ ثُمَّ الإِجْمَاعُ أَنَّ مَنْ زَوَّجَ أَمَتَہُ لَمْ یَمْلِکْ وَطْئَہَا وَہِیَ مِمَّا مَلَکَتْ یَمِینُہُ وَہَذَا مَعْنَی قَوْلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الطلاق]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٥٨) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں : { وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ } سے مراد خاوندوں والی لونڈیاں ہیں۔ نوٹ : اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ خاوندوں والی لونڈیاں بھی اپنے خاوندوں کے علاوہ دوسروں پر حرام ہیں اور یہ جو استثناء ہے { اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } یہ صرف قیدی عورتوں کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ غیر قیدی عورت جب اس کو فروخت یا آزاد کیا جائے تو اس کو فروخت کرنا اس کی طلاق نہیں ہوتی؛ کیونکہ حضرت بریرہ (رض) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا جب وہ آزاد ہوئی۔ بریرہ کی ملک زائل ہوئی، فروخت یا آزادی کی وجہ سے اس کا زائل ہونا دو طرح تھا، لیکن یہ جدائی نہ تھی۔ جب خاوند والی کی شرمگاہ ملک کے زائل ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوئی یہ فروخت نہ کی گئی۔ یہ ملکیت بننے کی وجہ سے بھی حلال نہ ہوگی، جب تک اس کا خاوند طلاق نہ دے۔ یہ موقف حضرت عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، ابن عمر (رض) کا تھا کہ فروخت ہونے کے بعد بھی خاوند کا نکاح باقی رہتا ہے۔ اور جو کہتے ہیں کہ لونڈی کو فروخت کردینا اس کی طلاق ہے، وہ عبداللہ بن مسعود، ابن ابی کعب، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، انس بن مالک (رض) ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں : انھوں نے قیدی عورت پر قیاس کیا ہے اور حدیث بریرہ اس قیاس کو روکتی ہے۔ پھر اجماع ہے کہ جس نے اپنی لونڈی کی شادی کردی، وہ اس کی وطی کا مالک نہیں ہے اور یہ اس کی ہے جس کی ملکیت ہے۔

13965

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13965

Sahih

(۱۳۹۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَتْ فِی بَرِیرَۃَ ثَلاَثُ سُنَنٍ وَکَانَتْ فِی إِحْدَی السُّنَنِ أَنَّہَا أُعْتِقَتْ فَخُیِّرَتْ مِنْ زَوْجِہَا۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٩٥٩) قاسم بن محمد حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں یا طریقے تھے، ان سنتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آزادی کے بعد اختیار دی گئی۔