Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2867

نکاح کا بیان

یتیم بچی جو ولی کی پرورش میں ہو، پھر وہ اس کے نکاح میں رغبت کرنے لگے

4 hadiths in this chapter

13816

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13816

Sahih

(۱۳۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَانَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : ہِیَ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ فِی حَجْرِ وَلِیِّہَا فَیَرْغَبُ فِی جَمَالِہَا أَوْ مَالِہَا وَیُرِیدُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا بِأَدْنَی مِنْ سُنَّۃِ نِسَائِہَا فَنُہُوا عَنْ نِکَاحِہِنَّ إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہُنَّ فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِکَاحِ مِنْ سِوَاہُنَّ مِنَ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ اسْتَفْتَی النَّاسُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بَیَّنَ اللَّہُ تَعَالَی لَہُمْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّ الْیَتِیمَۃَ إِذَا کَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِی نِکَاحِہَا وَلَمْ یَلْحَقُوا بِسُنَّۃِ نِسَائِہَا فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَإِذَا کَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْہَا فِی قِلَّۃِ الْمَالِ تَرَکُوہَا وَالْتَمَسُوا غَیْرَہَا مِنَ النِّسَائِ ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَکَمَا تَرَکُوہَا حِینَ یَرْغَبُونَ عَنْہَا فَلَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَنْکِحُوہَا إِذَا رَغِبُوا فِیہَا إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہَا وَیُعْطُوہَا حَقَّہَا الأَوْفَی مِنَ الصَّدَاقِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۰۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨١٠) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) سے اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٣] ” اگر تم ڈرو کہ تم یتیم عورتوں میں انصاف نہ کرسکو گے۔ تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں ان عورتوں میں سے دو دو اور تین تین اور چار چار۔ پس اگر ڈرو کہ تم نہ عدل کرسکو گے تو پھر ایک ہی ہے یا جس کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ۔ “ کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک یتیم بچی اپنے ولی کی پرورش میں ہو، پھر اس سے نکاح اس کی خوبصورتی یا مال کی وجہ سے کیا گیا لیکن تھوڑے حق مہر کے عوض تو انھیں نکاح سے روک دیا گیا، یعنی یتیم بچیوں سے مگر یہ کہ وہ مکمل حق مہر ادا کریں اور ان کو دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں جو کتاب میں تمہارے اوپر پڑھا جاتا ہے۔ جن کو تم ان کا مقرر کردہ (حق مہر) بھی نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ نے اس آیت میں واضح بیان کردیا کہ جب یتیم بچی حسب و نسب والی اور خوبصورت، مالدار ہو تو اس کے نکاح میں رغبت کرتے ہیں لیکن حق مہر اپنے عورتوں جیسا مکمل ادا نہیں کرتے اور جب یتیم بچی سے مال کی کمی کی وجہ نکاح کی رغبت نہیں ہوتی، پھر دوسری عورتیں تلاش کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب بےرغبتی کی وجہ سے اس بچی کو چھوڑتے ہیں تو پھر جس بچی کی طرف رغبت ہے تو اس کا مکمل حق مہر ادا کیا جائے یہ انصاف کی بات ہے۔

13817

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13817

Sahih

(۱۳۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ } قَالَتْ : یَا ابْنَ أُخْتِی ہَذِہِ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ فِی حَجْرِ وَلِیِّہَا تُشَارِکُہُ فِی مَالِہِ فَیُعْجِبُہُ مَالُہَا وَجَمَالُہَا فَیُرِیدُ وَلِیُّہَا أَنْ یَتَزَوَّجَہَا بِغَیْرِ أَنْ یُقْسِطَ فِی صَدَاقِہَا فَیُعْطِیَہَا مِثْلَ مَا یُعْطِیہَا غَیْرُہُ فَنُہُوا أَنْ یَنْکِحُوہُنَّ إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہُنَّ وَیَبْلُغُوا بِہِنَّ أَعْلَی سُنَّتِہِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ یَنْکِحُوا مَا طَابَ لَہُمْ مِنَ النِّسَائِ سِوَاہُنَّ قَالَ عُرْوَۃُ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ ہَذِہِ الآیَۃِ فِیہِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ { یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ } قَالَ وَالَّذِی ذَکَرَ أَنَّہُ یُتْلَی عَلَیْہِمْ فِی الْکِتَابِ الآیَۃُ الأُولَی الَّتِی قَالَ فِیہَا { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ } قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی الآیَۃِ الأُخْرَی (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ) رَغْبَۃَ أَحَدِکُمْ عَنْ یَتِیمَتِہِ الَّتِی تَکُونُ فِی حَجْرِہِ حِینَ تَکُونُ قَلِیلَۃَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُہُوا أَنْ یَنْکِحُوا مَا رَغِبُوا فِی مَالِہَا وَجَمَالِہَا مِنْ یَتَامَی النِّسَائِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِہِمْ عَنْہُنَّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨١١) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) سے اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ } [النساء ٣] ” اگر تم ڈرو کہ تم یتیم عورتوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں۔ “ کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگیں : اے بھتیجے ! یہ یتیم بچیاں اپنے ولیوں کی پرورش میں ہوتی تھیں، ان کا مال مشترک ہوتا تھا۔ وہ اس کے مال و جمال کو تو پسند کرتے ہوئے اس سے نکاح کرنا چاہتے، لیکن دوسری عورتوں کی طرح ان کو حق مہر نہ دیتے اور بےانصافی کرتے تو انھیں منع کردیا گیا کہ ان یتیم بچیوں سے نکاح کریں، لیکن اگر وہ انصاف کریں اور بہتر حق مہر ادا کریں تو نکاح کرسکتے ہیں۔ وگرنہ ان کے علاوہ جو عورتیں ان کو پسند ہو ان سے شادی کرلیں۔ عروہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ پوچھنا شروع کردیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کردی { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے ! اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں اور یتیم بچیوں کے بارے میں جو کتاب میں تمہارے اوپر تلاوت کیا جاتا ہے جن کو تم ان کا مقرر کردہ (حق مہر) بھی نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ راوی ذکر کرتے ہیں کہ جو پہلی آیت میں ذکر کیا گیا جو اس سے پہلے ہے، یعنی { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ } [النساء ٣] حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا : { وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] جب تم ایسی یتیم بچی جس کا مال و جمال کم ہو، اس سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتے تو پھر ایسی یتیم بچی جس کے مال و جمال کی وجہ سے نکاح میں رغبت رکھتے ہو اگر انصاف کرو تو درست ہے وگرنہ ان سے نکاح کرنا ممنوع ہے۔

13818

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13818

Sahih

(۱۳۸۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِیُّ وَہُوَ أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ یُونُسُ وَقَالَ رَبِیعَۃُ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی } قَالَ یَقُولُ : اتْرُکُوہُنَّ إِنْ خِفْتُمْ فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَکُمْ أَرْبَعًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨١٢) ربیعہ اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی } [النساء ٣] ” اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے۔ “ فرماتے ہیں کہ تم ان کو چھوڑ دو ، اگر تمہیں بےانصافی کا خوف ہے، میں نے تمہارے لیے چار بیویاں حلال ٹھہرائی ہیں۔

13819

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13819

Sahih

(۱۳۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ ہُوَ الْحَافِظُ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَہْمِ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الْحَوَارِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قَوْلِہِ { یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ قَالَتْ : ہِیَ الْیَتِیمَۃُ فِی حَجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِکَتْہُ فِی مَالِہِ فَیَرْغَبُ عَنْہَا أَنْ یَتَزَوَّجَہَا وَیَرْغَبُ أَنْ یُزَوِّجَہَا غَیْرَہُ فَیَدْخُلَ عَلَیْہِ فِی مَالِہِ فَیَحْبِسَہَا فَنَہَاہُمُ اللَّہُ عَنْ ذَلِکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ وَاخْتُلِفَ فِی لَفْظِہِ عَلَی ہِشَامٍ وَحَدِیثُ الزُّہْرِیِّ أَکْمَلُ وَأَحْفَظُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٨١٣) حضرت عائشہ (رض) اللہ کے اس قول : { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ } [النساء ١٢٧] ” وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے : اللہ تم کو ان کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں “ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ ایک یتیم بچی کسی آدمی کی پرورش میں تھی۔ وہ بچی اس کے مال میں شریک تھی، لیکن وہ مرد اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا نکاح کسی دوسری عورت سے چاہتا تھا لیکن مال کی وجہ سے اس کو روکے ہوئے تھا تو اللہ نے اس سے منع فرما دیا۔