Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2860

نکاح کا بیان

جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)

11 hadiths in this chapter

13784

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13784

Zaeef

(۱۳۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا بَنِی بَیَاضَۃَ أَنْکِحُوا أَبَا ہِنْدٍ وَانْکِحُوا إِلَیْہِ ۔ قَالَ : وَکَانَ حَجَّامًا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٧٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو بیاضہ ! ابو ہند کا نکاح کراؤ اور خود بھی اس قبیلہ میں شادی کراؤ اور وہ حجام تھا۔

13785

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13785

Zaeef

(۱۳۷۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٧٩) ایضاً ۔

13786

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13786

Zaeef

(۱۳۷۸۰) وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَکَثِیرِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ أَنَّہُمْ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ نُزَوِّجُ بَنَاتِنَا مَوَالِیَنَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَأُنْثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا } الآیَۃَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٠) زہری اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنی بیٹیوں کی شادی اپنے غلاموں سے کردیتے ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل کی : { اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا } [الحجرات ١٣] ” تحقیق ہم نے تم کو ایک مرد سے اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تم کو کنبے اور قبیلے میں بانٹ دیا تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو۔ “

13787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13787

Zaeef

(۱۳۷۸۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ الْعَدَوِیِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ تَقُولُ : إِنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ثَلاَثًا فَلَمْ یَجْعَلْ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سُکْنَی وَلاَ نَفَقَۃً قَالَتْ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی ۔ فَآذَنْتُہُ فَخَطَبَہَا مُعَاوِیَۃُ وَأَبُو جَہْمٍ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَرَجُلٌ لاَ مَالَ لَہُ وَأَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلَکِنْ أُسَامَۃُ ۔ فَقَالَتْ بِیَدِہَا ہَکَذَا أُسَامَۃُ أُسَامَۃُ قَالَ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : طَاعَۃُ اللَّہِ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ خَیْرٌ لَکَ ۔ قَالَتْ : فَزُوِّجْتُہُ فَاغْتَبَطْتُ بِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَفَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ قُرَشِیَّۃٌ مِنْ بَنِی فِہْرٍ فَإِنَّہَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ وَہْبِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ وَائِلَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنُ شَیْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِہْرٍ وَأُسَامَۃُ ہُوَ ابْنُ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ شَرَاحِیلَ الْکَلْبِیُّ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ-۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨١) ابوبکر بن ابی الجہم عدوی فرماتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس سے سنا وہ کہہ رہی تھی کہ اس کے خاوند نے تین طلاقین دے دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے خرچہ اور رہائش مقرر نہ کی۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حلال ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی تو مجھے ابو جہم، معاویہ، اسامہ بن زید نے نکاح کا پیغام دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاویہ ایسا آدمی ہے جس کے پاس مال نہیں اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارتا ہے۔ لیکن اسامہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اور رسول کی اطاعت تیرے لیے بہتر ہے۔ فرماتی ہیں : میں نے شادی کرلی تو میں رشک کی جانے لگی۔ (ب) فاطمہ بنت قیس قریشیہ بنو فہر سے تھی اور اسامہ بن زید یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام تھے۔

13788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13788

Zaeef

(۱۳۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ أَبِی السَّرِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْیَنَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَسَدِیُّ عَنِ الْکُمَیْتِ بْنِ زَیْدٍ الأَسَدِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی مَذْکُورٌ مَوْلَی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَطَبَنِی عِدَّۃٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ أُخْتِی أُشَاوِرُہُ فِی ذَلِکَ قَالَ : فَأَیْنَ ہِیَ مِمَّنْ یُعَلِّمُہَا کِتَابَ رَبِّہَا وَسُنَّۃَ نَبِیِّہَا ۔ قَالَتْ : مَنْ؟ قَالَ : زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ ۔فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ : تُزَوِّجُ بِنْتَ عَمِّکَ مَوْلاَکَ ثُمَّ أَتَتْنِی فَأَخْبَرَتْنِی بِذَلِکَ فَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِہَا وَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولَہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ) قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ زَوِّجْنِی مَنْ شِئْتَ قَالَتْ فَزَوَّجَنِی مِنْہُ فَأَخَذْتُہُ بِلِسَانِی فَشَکَانِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ ثُمَّ أَخَذْتُہُ بِلِسَانِی فَشَکَانِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَقَالَ أَنَا أُطَلِّقْہَا فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِی لَمْ أَشْعُرْ إِلاَّ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- وَأَنَا مَکْشُوفَۃُ الشَّعَرِ فَقُلْتُ : ہَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَائِ وَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بِلاَ خُطْبَۃٍ وَلاَ شَہَادَۃٍ قَالَ : اللَّہُ الْمُزَوِّجُ وَجِبْرِیلُ الشَّاہِدُ ۔ وَہَذَا وَإِنْ کَانَ إِسْنَادُہُ لاَ تَقُومُ بِمِثْلِہِ حُجَّۃٌ فَمَشْہُورٌ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَہِیَ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَأُمُّہَا أُمَیْمَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ عَمَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ عِنْدَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ حَتَّی طَلَّقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِہَا وَکَذَا فِی الْحَدِیثِ ابْنَۃُ عَمِّکَ وَالصَّوَابُ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٢) زینب بنت جحش فرماتی ہیں کہ کئی صحابہ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اپنی بہن کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مشورہ کے لیے بھیجا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی تعلیم دے۔ کہنے لگی : وہ کون ؟ فرمایا : زید بن حارثہ تو وہ ناراض ہوگئی اور کہنے لگی : آپ اپنے چچا کی بیٹی کا نکاح اپنے غلام سے کرو گے تو زینب بنت جحش کہتی ہیں۔ میری بہن نے مجھے بتایا تو میں نے اس سے بھی سخت بات کہی اور زیادہ غصے ہوئی تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ } [الاحزاب ٣٦] ” اور کسی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ فرما دیں تو انھیں اپنے معاملے میں اختیار ہو۔ “ کہتی ہیں : میں نے کہا : جس سے چاہو نکاح کر دو ۔ فرماتی ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے میرا نکاح کردیا، میں نے زبان درازی کی تو اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی اور کہنے لگے : میں اس کو طلاق دیتا ہوں، انھوں نے مجھے طلاق بائنہ دے دی، جب میری عدت ختم ہوئی تو مجھے معلوم بھی نہ تھا کہ میرے کھلے ہوئے بالوں کی حالت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ میں نے کہا : یہ آسمان کا معاملہ ہے۔ میں نے کہہ دیا : اے اللہ کے رسول ! بغیر خطبہ اور گواہ کے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نکاح کرنے والے اور جبرائیل گواہ ہے۔ (ب) زینب بنت جحش یہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں اور ان کی والدہ امیمہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی ہے اور زینب زید بن حارثہ کے نکاح میں تھی۔ جب انھوں نے طلاق دے دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے شادی کی اور حدیث میں ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہے لیکن درست الفاظ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہیں۔

13789

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13789

Sahih

(۱۳۷۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَہَا : کَأَنَّکِ تُرِیدِینَ الْحَجَّ ۔ قَالَتْ : أَجِدُنِی شَاکِیَۃً قَالَ لَہَا : حُجِّی وَاشْتَرِطِی أَنَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی ۔وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۰۸۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس آئے اور فرمایا : تو حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ کہنے لگی : میں بیماری محسوس کرتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حج کر اور شرط رکھ کہ میرے حلال ہونے کی وہی جگہ ہے جہاں تو نے مجھے روک لیا اور یہ مقداد بن اسود کے نکاح میں تھی۔

13790

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13790

Zaeef

(۱۳۷۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : زَوَّجْتُ الْمِقْدَادَ وَزَیْدًا لِیَکُونَ أَشْرَفَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَحْسَنُکُمْ خُلُقًا ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَفِیمَا قَبْلَہُ کِفَایَۃٌ وَالْمِقْدَادُ ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ مَالِکٍ حَلِیفُ الأَسْوَدِ رَجُلٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ فَنُسِبَ إِلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ صُلْبِہِمْ وَقَدْ زُوِّجَتْ مِنْہُ ضُبَاعَۃُ بِنْتُ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٤) حضرت جابر شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے مقداد اور زید کی شادی کی۔ تاکہ وہ اللہ کے ہاں بلند مرتبہ ہو جو تم سے اچھے اخلاق کا ہو۔ (ب) مقداد بنو زہرہ سے ہیں جبکہ ضباعۃ بنو ہاشم سے ہیں۔

13791

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13791

Sahih

(۱۳۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَبَنَّی سَالِمًا وَزَوَّجَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ ہِنْدَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ وَہُوَ مَوْلًی لاِمْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِیُّ -ﷺ- زَیْدًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ فَہَذِہِ قُرَشِیَّۃٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ زُوِّجَتْ مِنْ مَوْلًی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۰۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے تھے، انھوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنی بھتیجی کی شادی ان سے کردی، یعنی ہند بنت ولید بن عتبہ وہ انصار کی ایک عورت کے غلام تھے، جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ (ب) امام بخاری ابو الیمان سے نقل فرماتے ہیں : یہ قریشی تھی بنو عبد شمس بن عبد مناف سے تھی۔ اس کی شادی غلام سے کی گئی۔

13792

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13792

Zaeef

(۱۳۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِیقُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ الْجُمَحِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: رَأَیْتُ أُخْتَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ تَحْتَ بِلاَلٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدارقطنی ۲۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٦) حنظلہ بن ابی سفیان جمحی اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کی بہن کو بلال کے نکاح میں دیکھا۔

13793

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13793

Zaeef

(۱۳۷۸۷) وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدٌ بْنِ أَسْلَمَ مُرْسَلاً : أَنَّ بَنِی بُکَیْرٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : زَوِّجْ أُخْتَنَا مِنْ فُلاَنٍ فَقَالَ : أَیْنَ أَنْتُمْ عَنْ بِلاَلٍ ۔ فَعَادُوا فَأَعَادَ ثَلاَثًا فَزَوَّجُوہُ قَالَ وَکَانَ بَنُو بُکَیْرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ مِنْ بَنِی لَیْثٍ۔أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٧) زید بن اسلم مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ بنو بکیر کے بیٹے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بہن کی شادی فلاں سے کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال کے بارے تمہاری کیا رائے ہے تو انھوں نے شادی کردی۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو بکیر مہاجرین کے قبیلہ بنو لیث سے تھے۔

13794

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13794

Sahih

(۱۳۷۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الزَّاہِدُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنِی أَبِی : أَنَّ أَخًا لِبِلاَلٍ کَانَ یَنْتَمِی فِی الْعَرَبِ وَیَزْعُمُ أَنَّہُ مِنْہُمْ فَخَطَبَ امْرَأَۃً مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا : إِنْ حَضَرَ بِلاَلٌ زَوَّجْنَاکَ قَالَ فَحَضَرَ بِلاَلٌ فَقَالَ : أَنَا بِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ وَہَذَا أَخِی وَہُوَ امْرُؤُ سَوْئٍ سَیِّئُ الْخُلُقِ وَالدِّینِ فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تُزَوِّجُوہُ فَزَوِّجُوہُ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَدَعُوا فَدَعُوا فَقَالُوا : مَنْ تَکُنْ أَخَاہُ نُزَوِّجْہُ فَزَوَّجُوہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٨٨) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ بلال کا ایک بھائی تھا جو اپنی نسبت عرب کی طرف کرتا تھا اور اپنے آپ کو عرب ہی خیال کرتا تھا۔ اس نے عرب کی ایک عورت کو پیغام نکاح دیا۔ انھوں نے کہا : اگر بلال آجائیں تو ہم آپ کی شادی کردیں گے۔ بلال آگئے تو انھوں نے کہا : میں بلال بن رباح ہوں اور یہ میرا بھائی جو دین و اخلاق کے اعتبار سے برا ہے۔ اگر تم چاہو تو شادی کر دو اور شادی کرا دو ۔ اگر تم چھوڑنا چاہو تو چھوڑ دو ۔ انھوں نے کہا : جس کے آپ بھائی ہوں ہم اس کی شادی کردیتے ہیں تو انھوں نے شادی کردی۔