Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2849

نکاح کا بیان

باپ کی موجودگی میں کوئی دوسرا ولی نہیں بن سکتا

4 hadiths in this chapter

13752

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13752

Zaeef

(۱۳۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَیَّاشٌ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِیمَا یَحْسَبُ حَمَّادٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ خَدِیجَۃَ بِنْتَ خُوَیْلِدٍ وَکَانَ أَبُوہَا یَرْغَبُ عَنْ أَنْ یُزَوِّجَہُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاہَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَیْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّی ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لأَبِیہَا : إِنَّ مُحَمَّدًا یَخْطُبُنِی فَزَوِّجْہُ فَزَوَّجَہَا إِیَّاہُ فَخَلَّقَتْہُ وَأَلْبَسَتْہُ حُلَّۃً وَکَانُوا یَصْنَعُونَ بِالآبَائِ إِذَا زَوَّجُوا بَنَاتِہِمْ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ السُّکْرُ نَظَرَ فَإِذَا ہُوَ مُخَلَّقٌ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ فَقَالَ : مَا شَأْنِی؟ قَالَتْ : زَوَّجْتَنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ یَتِیمَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ : لاَ لَعَمْرِی فَقَالَتْ خَدِیجَۃُ : أَمَا تَسْتَحْیِی تُرِیدُ أَنْ تُسَفِّہَ نَفْسَکَ عِنْدَ قُرَیْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّکَ کُنْتَ سَکْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِہِ حَتَّی أَقَرَّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٤٦) عمار بن ابی عمار حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حماد کا گمان تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خدیجہ بنت خویلد کا تذکرہ کیا، لیکن ان کے والد آپ سے ان کی شادی کرنے سے بےرغبت تھے۔ حضرت خدیجہ نے کھانے پینے کا اہتمام کیا اور اپنے والد اور قریبیوں کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ جب انھوں نے کھا پی لیا اور مدہوش ہوگئے تو حضرت خدیجہ نے اپنے والد سے کہا : محمد بن عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے، آپ میری شادی کردیں تو ان کے والد نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شادی کردی تو حضرت خدیجہ نے اپنے والد کو خوشبو لگائی، حلۃ پہنایا۔ یہ اس وقت کرتے تھے جب والد اپنے بیٹیوں کی شادی کرتے تھے۔ جب ان کے والد سے نشہ کی کیفیت ختم ہوئی تو اس نے اپنے اوپر خوشبودار حلہ کو دیکھا تو کہنے لگے : میری یہ کیا حالت ہے ؟ تو حضرت خدیجہ کہنے لگی : آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کردی ہے۔ اس نے کہا : میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں گا۔ نہیں میری عمر کی قسم ! حضرت خدیجہ فرمانے لگیں : کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ آپ قریشیوں کے نزدیک بیوقوف ٹھہریں کہ آپ لوگوں کو اس بات کی خبر دیں کہ آپ نشہ کی حالت میں تھے۔ وہ یہی بات بار بار ان کو کہتی رہیں یہاں تک کہ انھوں نے اقرار کرلیا۔

13753

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13753

Zaeef

(۱۳۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُؤَمَّلِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مِقْسَمٍ أَبِی الْقَاسِمِ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَہُ : أَنَّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ ذَکَرَ قِصَّۃَ تَزْوِیجِ خَدِیجَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَذَکَرَتْ : أَنَّہَا کَلَّمَتْ أَخَاہُ فَکَلَّمَ أَبَاہُ وَقَدْ سُقِی خَمْرًا فَذَکَرَ لَہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَمَکَانَہُ وَسَأَلَہُ أَنْ یُزَوِّجَہُ فَزَوَّجَہُ خَدِیجَۃَ وَنَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ صَاحِیًا فَأَنْکَرَ أَنْ یَکُونَ زَوَّجَہُ فَقَالَ : أَیْنَ صَاحِبُکُمُ الَّذِی تَزْعُمُونَ أَنِّی زَوَّجْتُہُ؟ فَبَرَزَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمَّا نَظَرَ إِلَیْہِ قَالَ: إِنْ کُنْتُ زَوَّجْتُہُ فَسَبِیلُ ذَاکَ وَإِنْ لَمْ أَکُنْ فَعَلْتُ فَقَدْ زَوَّجْتُہُ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَزَوَّجَ خَدِیجَۃَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَنْکَحَہُ إِیَّاہَا أَبُوہَا خُوَیْلِدُ بْنُ أَسَدٍ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٤٧) حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے حضرت خدیجہ کی شادی کا قصہ ذکر کیا کہ حضرت خدیجہ نے اپنے بھائی سے بات کی اور انھوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے شراب پی رکھی تھی۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے مرتبہ کا تذکرہ کیا اور حضرت خدیجہ کی شادی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے حضرت خدیجہ کی شادی کردی۔ پھر سوئے ہوئے اٹھے اور چیخ رہے تھے اور حضرت خدیجہ کی شادی سے انکار کردیا۔ پھر کہنے لگا : تمہارا وہ صاحب کہاں ہے کہ جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے کہ میں نے اس سے شادی کردی ہے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سامنے آئے تو اس نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے : اگر میں نے شادی کردی ہے تو درست۔ اگر نہیں کی تو اب میں نے شادی کردی ہے۔ (ب) زہری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) سے زمانہ جاہلیت میں نکاح کیا اور ان کا نکاح ان کے والد خویلد بن اسد نے کروایا۔

13754

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13754

Zaeef

(۱۳۷۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ الأَوْدِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لَمَّا مَاتَتْ خَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا جَائَ تْ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیمٍ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تَزَوَّجُ؟ قَالَ : وَمَنْ ۔ قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ بِکْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَیِّبًا۔ قَالَ : وَمَنِ الْبِکْرُ وَمَنِ الثَّیِّبُ ۔ قَالَتْ أَمَّا الْبِکْرُ فَابْنَۃُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّہِ إِلَیْکَ عَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِی بَکْرٍ وَأَمَّا الثَّیِّبُ فَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ قَدْ آمَنَتْ بِکَ وَاتَّبَعَتْکَ۔ قَالَ : فَاذْکُرِیہِمَا لِی ۔ قَالَتْ : فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ فَقَالَتْ : یَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ قَالَتْ : وَمَا ذَاکَ قَالَتْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ عَائِشَۃَ قَالَتِ : انْتَظِرِی فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ آتٍ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : أَوَتَصْلُحُ لَہُ وَہِیَ ابْنَۃُ أَخِیہِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَا أَخُوہُ وَہُوَ أَخِی وَابْنَتُہُ تَصْلُحُ لِی ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَقَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قُولِی لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلْیَأْتِ قَالَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَلَکَہَا قَالَتْ خَوْلَۃُ : ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی سَوْدَۃَ وَأَبُوہا شَیْخٌ کَبِیرٌ قَدْ جَلَسَ عَنِ الْمَوَاسِمِ فَحَیَّیْتُہُ بِتَحِیَّۃِ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَقُلْتُ : أَنْعِمْ صَبَاحًا قَالَ : مَنْ أَنْتِ؟ قُلْتُ : خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیمٍ قَالَ : فَرَحَّبَ بِی وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ قَالَتْ قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَذْکُرُ سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ فَقَالَ : کُفُؤٌ کَرِیمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُکِ قُلْتُ : نَعَمْ تُحِبُّ۔ قَالَ فَقُولِی لَہُ : فَلْیَأْتِ قَالَتْ : فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَلَکَہَا وَقَدِمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ فَجَعَلَ یَحْثُو عَلَی رَأْسِہِ التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَوْدَۃَ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٤٨) یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : جب خدیجہ بنت خویلد فوت ہوگئی تو خولہ بنت حکیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! آپ شادی نہ کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کس سے ؟ کہنے لگی : کنواری سے چاہو یا بیوہ سے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کنواری کون ؟ اور بیوہ کون ؟ خولہ بنت حکیم کہنے لگی کہ کنواری تو عائشہ بنت ابی بکر جو اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب بیٹی ہے اور بیوہ حضرت سودہ بنت زمعہ جس نے ایمان قبول کرنے کے بعد آپ کی پیروی بھی کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے پاس میرا تذکرہ کرنا۔ خولہ بنت حکیم کہتی ہیں : وہ ام رومان کے پاس آئیں اور کہا : اے ام رومان ! اللہ نے تمہارے گھر میں خیر و برکت کو داخل کردیا ہے۔ ام رومان نے پوچھا : وہ کیا ؟ خولہ بنت حکیم کہنے لگیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) کا تذکرہ کیا ہے۔ ام رومان کہنے لگیں : ذرا انتظار کرو۔ ابوبکر ابھی آجاتے ہیں۔ اتنی دیر میں ابوبکر (رض) بھی تشریف لے آئے تو ام رومان نے اس بات کا تذکرہ ابوبکر (رض) سے کیا، حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : کیا یہ ان کے لیے درست ہے یہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے۔ خولہ بنت حکیم فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس کا بھائی وہ میرے بھائی لیکن اس کی بیٹی سے نکاح درست ہے۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے خولہ بنت حکیم سے کہا کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہیں کہ آپ آجائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آکر نکاح کرلیا۔ پھر حضرت خولہ بنت حکیم کہتی ہیں کہ میں حضرت سودہ بنت زمعہ کے پاس گئی۔ ان کے والد بوڑھے آدمی تھے، وہ کام کاج سے فارغ بیٹھے تھے۔ حضرت خولہ فرماتی ہیں کہ میں نے جاہلیت والاسلام کہا تو انھوں نے کہا : تو اچھی صبح کرے۔ وہ کہنے لگے : آپ کون ؟ میں نے کہا : خولہ بنت حکیم تو انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہا : جو اللہ چاہے کہو۔ کہتی ہیں : میں نے کہا کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب سودہ بنت زمعہ کا تذکرہ کرتے ہیں (یعنی نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں) وہ کہنے لگے : اچھا کفو ہے آپ اس کے بارے میں کیا کہتی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! وہ پسند کرتی ہیں۔ کہنے لگے : جاؤ ان سے کہہ دینا آجائیں۔ خولہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سودہ سے نکاح کرلیا، جب عبد بن زمعہ آیا تو اس نے اپنے سر پر خاک ڈالنا شروع کردی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سودہ سے نکاح کرلیا ہے۔ باقی حدیث کو بھی اس نے ذکر کیا ہے۔

13755

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13755

Sahih

(۱۳۷۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَنَّ شُعَیْبَ بْنَ أَبِی حَمْزَۃَ أَخْبَرَہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یُحَدِّثُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ تَأَیَّمَتْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَیْسِ بْنِ حُذَافَۃَ السَّہْمِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ شَہِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّیَ بِالْمَدِینَۃِ قَالَ عُمَرُ : فَلَقِیتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ حَفْصَۃَ فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ فَقَالَ : سَأَنْظُرُ فِی أَمْرِی فَلَبِثْتُ لَیَالِیَ ثُمَّ لَقِیَنِی فَقَالَ : قَدْ بَدَا لِی أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ یَوْمِی ہَذَا۔ قَالَ عُمَرُ : فَلَقِیتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ فَقُلْتُ لَہُ : إِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ فَصَمَتَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ یَرْجِعْ إِلَیَّ شَیْئًا فَکُنْتُ عَلَیْہِ أَوْجَدَ مِنِّی عَلَیَّ عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَیَالِیَ ثُمَّ خَطَبَہَا إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْکَحْتُہَا إِیَّاہُ فَلَقِیَنِی أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ : لَعَلَّکَ وَجَدْتَ عَلَیَّ حِینَ عَرَضْتَ عَلَیَّ حَفْصَۃَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَیْکَ شَیْئًا قَالَ فَقُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرْجِعَ إِلَیْکَ فِیمَا عَرَضْتَ عَلَیَّ إِلاَّ أَنِّی قَدْ کُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ ذَکَرَ حَفْصَۃَ فَلَمْ أَکُنْ لأُفْشِیَ سِرَّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلَوْ تَرَکَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبِلْتُہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۴۵۔ ۴۰۰۵۔ ۵۱۲۲۔ ۵۱۲۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٧٤٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی بیٹی حضرت حفصہ بنت عمر جب بیوہ ہوئیں خنیس بن حذافہ سہمی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی اور بدری تھے، مدینہ میں ان کی وفات کی وجہ سے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) پر اپنی بیٹی کو پیش کیا (یعنی نکاح کا کہا) ۔ میں نے کہا : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے کہا : میں اپنے معاملہ میں سوچ و بچار کرلوں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں چند دن ٹھہرا رہا ۔ پھر عثمان بن عفان کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہہ دیا کہ میں آج کے دن شادی نہ کروں گا۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ملاقات کی اور کہا : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر (رض) سے کر دوں۔ حضرت ابوبکر (رض) خاموش ہوگئے۔ مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے بڑھ کر اپنے اندر غم پایا۔ چند دنوں کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کا پیغام دے دیا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کا نکاح کردیا تو ابوبکر ملے اور فرمانے لگے، آپ کو پریشانی ہوتی ہوگی جب آپ نے حضرت حفصہ کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش کیا اور میں نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : ہاں تو حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : مجھے کسی چیز نے بھی جواب سے نہ روکا تھا، جب آپ نے نکاح کے لیے کہا ۔ البتہ میں یہ جانتا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کا تذکرہ کیا تھا۔ لیکن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز کو ظاہر کرنا نہ چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ چھوڑ دیتے تو میں قبول کرلیتا۔