Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2834

نکاح کا بیان

یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق

6 hadiths in this chapter

13594

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13594

Zaeef

(۱۳۵۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدَّادٍ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٨٨) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفر کرو، صحت مند رہو گے اور غنیمت حاصل کرو گے (یعنی غنی ہوجاؤ گے) ۔

13595

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13595

Zaeef

(۱۳۵۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ : أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّامَغَانِیُّ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : وَإِنَّمَا ہَذَا دَلاَلَۃٌ لاَ حَتْمًا أَنْ یُسَافِرَ لِطَلَبِ صِحَّۃٍ وَرِزْقٍ قَالَ وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ الأَمْرُ بِالنِّکَاحِ حَتْمًا وَفِی کُلِّ الْحَتْمِ مِنَ اللَّہِ الرُّشْدُ قَالَ وَقَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ الأَمْرُ کُلُّہُ عَلَی الإِبَاحَۃِ وَالدَّلاَلَۃُ عَلَی الرُّشْدِ حَتَّی تُوجَدَ الدِّلاَلَۃُ عَلَی أَنَّہُ أُرِیدَ بِالأَمْرِ الْحَتْمُ وَمَا نَہَی اللَّہُ عَنْہُ فَہُوَ مُحَرَّمٌ حَتَّی تُوجَدَ الدِّلاَلَۃُ عَلَیْہِ بِأَنَّ النَّہْیَ عَنْہُ عَلَی غَیْرِ التَّحْرِیمِ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٨٩) ایضاً ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ دلالت حتمی نہیں ہے کہ طلب رزق اور صحت کے لیے سفر کیا جائے، یہ ممکن ہے کہ نکاح کا حکم حتمی ہو اور جو اللہ کی طرف سے ہو اس میں بھلائی ہے۔

13596

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13596

Sahih

(۱۳۵۹۰) وَاسْتَدَلَّ لِہَذَا الْقَائِلُ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّہُ إِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ فَمَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ مِنْ أَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا۔ [صحیح۔ بخاری ۷۲۸۸۔ مسلم ۱۳۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٩٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ اسی پر اکتفا کرو جو میں نے تمہارے درمیان چھوڑا ہے، بیشک جو تم سے پہلے لوگ تھے وہ سوال کی کثرت کی وجہ سے اور انبیاء کرام ۔ سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جس چیز کا میں حکم دوں اس کام کو کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو اور جس سے منع کروں اس سے رک جایا کرو۔

13597

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13597

Sahih

(۱۳۵۹۱) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ مَعْنَاہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٩١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے پچھلی روایت کے ہم معنی روایت ہے۔

13598

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13598

Sahih

(۱۳۵۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٩٢) صحیح مسلم میں سیدنا ابن عمر (رض) سے پچھلی روایت کے ہم معنی منقول ہے۔

13599

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13599

Sahih

(۱۳۵۹۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ فَخُذُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْئٍ فَانْتَہُوا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ۔ (ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الأَمْرُ فِی مَعْنَی النَّہْیِ فَیَکُونَانِ لاَزِمَیْنِ إِلاَّ بِدَلاَلَۃِ أَنَّہُمَا غَیْرُ لاَزِمَیْنِ وَیَکُونُ قَوْلُہُ -ﷺ- : فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ۔ أَنْ یَقُولَ عَلَیْہِمْ إِتْیَانُ الأَمْرِ فِیمَا اسْتَطَاعُوا لأَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا کُلِّفُوا مَا اسْتَطَاعُوا وَعَلَی أَہْلِ الْعِلْمِ طَلَبُ الدَّلاَئِلِ لِیُفَرِّقُوا بَیْنَ الْحَتْمِ وَالْمُبَاحِ وَالإِرْشَادِ الَّذِی لَیْسَ بِحَتْمٍ فِی الأَمْرِ وَالنَّہْیِ مَعًا۔ [صحیح تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٩٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو (اور سوالات وغیرہ نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہوگئیں، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ، جس حد تک تم میں طاقت ہو اور جب تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے بچو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ امر نہی کے معنی میں ہو تو دونوں لازم ہوجائے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول سے وہ دونوں غیر لازم ہیں : (فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) تو امر کا حکم استطاعت کے مطابق ہے؛ چونکہ لوگ استطاعت کے مطابق مکلف ٹھہراتے ہیں۔