Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 42 · Chapter 2804

نکاح کا بیان

کسی شخص کا اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے الگ کرلینا جب کہ اس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو

4 hadiths in this chapter

13488

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13488

Sahih

(۱۳۴۸۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَسَیِّدًا وَحَصُورًا} قَالَ : الْحَصُورُ الَّذِی لاَ یَقْرَبُ النِّسَائَ ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٨٢) عبداللہ بن مسعود اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حصور وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے قریب نہ جائے۔

13489

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13489

Sahih

(۱۳۴۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : الْحَصُورُ الَّذِی لاَ یَأْتِی النِّسَائَ ۔ وَرُوِّینَا ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَعَنْ عِکْرِمَۃَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٨٣) ایضاً

13490

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13490

Sahih

(۱۳۴۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ مِنْ أَصْلِہِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ حَدَّثَنَا مُجَاہِدٌ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنْ کُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِکَبِدِی عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ وَإِنْ کُنْتُ لأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِی مِنَ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ یَوْمًا عَلَی طَرِیقِہِمُ الَّذِی یَخْرُجُونَ مِنْہُ فَمَرَّ بِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِی عُمَرُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِی أَبُو الْقَاسِمِ -ﷺ- فَتَبَسَّمَ حِینَ رَآنِی وَعَرَفَ مَا فِی نَفْسِی وَمَا فِی وَجْہِی ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الْحَقْ ۔ وَمَضَی وَاتَّبَعْتُہُ فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِی فَدَخَلْتُ فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِی قَدَحٍ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ ہَذَا اللَّبَنُ؟ ۔ قَالُوا : أَہْدَاہُ لَکَ فُلاَنٌ أَوْ فُلاَنَۃُ قَالَ : أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ فَقُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الْحِقْ إِلَی أَہْلِ الصُّفَّۃِ فَادْعُہُمْ لِی ۔ قَالَ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ إِذَا أَتَتْہُ صَدَقَۃٌ بَعَثَ بِہَا إِلَیْہِمْ وَلَمْ یَتَنَاوَلْ مِنْہَا شَیْئًا وَإِذَا أَتَتْہُ ہَدِیَّۃٌ أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَأَصَابَ مِنْہَا وَأَشْرَکَہُمْ فِیہَا فَسَائَ نِی ذَلِکَ قُلْتُ : وَمَا ہَذَا اللَّبَنُ فِی أَہْلِ الصُّفَّۃِ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِیبَ مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ شَرْبَۃً أَتَقَوَّی بِہَا وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَائُ وا أَمَرَنِی أَنْ أُعْطِیَہُمْ وَمَا عَسَی أَنْ یَبْلُغَنِی مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ طَاعَۃِ اللَّہِ وَطَاعَۃِ رَسُولِہِ بُدٌّ فَأَتَیْتُہُمْ فَدَعَوْتُہُمْ فَأَقْبَلُوا حَتَّی اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَہُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَہُمْ مِنَ الْبَیْتِ فَقَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : خُذْ فَأَعْطِہِمْ ۔ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِیہِ الرَّجُلَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحِ فَأُعْطِیہِ الآخَرَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ رَوِیَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَہُ عَلَی یَدِہِ وَنَظَرَ إِلَیَّ وَتَبَسَّمَ وَقَالَ : أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : بَقِیتُ أَنَا وَأَنْتَ ۔ قُلْتُ : صَدَقْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : اقْعُدْ فَاشْرَبْ ۔ فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ فَقَالَ : اشْرَبْ ۔ فَشَرِبْتُ فَقَالَ : اشْرَبْ ۔ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ یَقُولُ : اشْرَبْ ۔ فَأَشْرَبُ حَتَّی قُلْتُ : لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَہُ مَسْلَکًا قَالَ : فَادْنُ ۔ فَأَعْطَیْتُہُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَسَمَّی وَشَرِبَ الْفَضْلَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَالْمَوْضِعُ الْمَقْصُودُ مِنْ ہَذَا الْخَبَرِ فِی ہَذَا الْبَابِ قَوْلُہُ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۷۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٨٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں ایک دن بھوک کی وجہ سے زمین پر پڑا تھا اور میرا پیٹ بھوک کی وجہ سے پتھر بن گیا تھا ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ نکل رہے تھے ابوبکر میرے پاس سے گزرے۔ میں نے اللہ کی آیت کے بارے میں سوال کیا تاکہ وہ مجھے کچھ دیں تو وہ گزر گئے اور انھوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ عمر (رض) گزرے۔ میں نے ان سے سوال کیا وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہ دیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے، جب مجھے دیکھا اور فرمایا : آؤ میں آپ کے ساتھ چلا گیا، آپ داخل ہوئے میں نے بھی اجاز طلب کی اور اجازت مل گئی۔ میں نے دودھ کا ایک پیالہ پایا : تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ پیالہ کہاں سے آیا ہے ؟ جواب ملا کہ فلاں مرد یا عورت نے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! جاؤ اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ فرمایا : اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں ان کا نہ کوئی گھر ہے اور نہ مال ہے۔ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ آتا، آپ ان کی طرف پیغام بھیجتے اور ان کو شریک کرتے۔ یہ بات مجھ پر گراں گذری، یہ ایک پیالہ ہے، مجھے تو اس میں سے صرف ایک گھونٹ ملے گا۔ میں ان کو بلا کرلے آیا، جب وہ آگئے کہ تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ہر ایک کو دودھ پیش کروں۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے نہیں ملے گا لیکن اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ماننا بھی ضروری تھا، جب وہ آئے انھوں نے اجازت طلب کی، اجازت دے دی گئی اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں مجلس بنا کر بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے کہا : حاضر اے اللہ کے رسول ! فرمایا : پکڑو اور ان کو دو ۔ میں نے پیالہ پکڑا اور آدمی کو دے دیا اس نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا پھر میں نے دوسرے کو پیالہ دیا وہ بھی سیر ہوگیا۔ پھر میں پیالہ لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تمام لوگ سیر ہوچکے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ پکڑا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے فرمایا : اے ابوہریرہ (رض) ! میں نے کہا : حاضر اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرمایا : میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جا اور پینا شروع کرو۔ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور پیو میں نے پیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اور پیو میں پیتا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس کی جگہ نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیالہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی اور بچا ہوا دودھ پی لیا۔

13491

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13491

Sahih

(۱۳۴۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَّاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ السُّکَّرِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَکَمِ الْعُرَنِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْیَمَامِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا فُلاَنَۃُ بِنْتُ فُلاَنٍ قَالَ : قَدْ عَرَفْتُکِ فَمَا حَاجَتُکِ؟ ۔ قَالَتْ : حَاجَتِی إِلَی ابْنِ عَمِّی فُلاَنٍ الْعَابِدِ قَالَ : قَدْ عَرَفْتُہُ ۔ قَالَتْ : یَخْطِبُنِی فَأَخْبِرْنِی مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی الزَّوْجَۃِ فَإِنْ کَانَ شَیْئًا أُطِیقُہُ تَزَوَّجْتُہُ وَإِنْ لَمْ أُطِقْ لاَ أَتَزَوَّجُ قَالَ : مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَی الزَّوْجَۃِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاہُ دَمًا وَقِیحًا وَصَدِیدًا فَلَحِسَتْہُ بِلِسَانِہَا مَا أَدَّتْ حَقَّہُ لَوْ کَانَ یَنْبَغِی لِبَشَرٍ أَنْ یَسْجُدَ لِبَشَرٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا إِذَا دَخَلَ عَلَیْہَا لِمَا فَضَّلَہُ اللَّہُ عَلَیْہَا ۔ قَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ مَا بَقِیتُ فِی الدُّنْیَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٤٨٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھے پہچان لیا ہے، کیا کام ہے ؟ عرض کیا : میرے چچا کے بیٹے نے مجھے منگنی کا پیغام دیا ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے ؟ اگر تو میں اس کی طاقت رکھتی ہوں گی تو میں شادی کروں گی وگرنہ نہیں کروں گی۔ فرمایا : خاوند کا حق بیوی کے ذمے ہے کہ اگر اس سے خون، الٹی یا پیپ وغیرہ بہہ رہی ہو اور عورت اس کو اپنی زبان سے چاٹ لے تو پھر بھی اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ اگر کسی انسان کو سجدہ لائق ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ جب وہ اس پر داخل ہوتا۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اس کو عورت پر افضل کیا ہے۔ تو اس عورت نے کہا : مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گا۔ [صحیح لغیرہ ]