Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 37 · Chapter 2544

گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان

جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے

10 hadiths in this chapter

12151

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12151

Zaeef

(۱۲۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُکْرَمٍ الطَّسْتِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنٍ شِہَابٍ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا عَقَلْتُ أَبَوَیَّ قَطُّ إِلاَّ یَدِینَانِ الدِّینَ وَمَا مَرَّ عَلَیْنَا یَوْمٌ قَطُّ إِلاَّ یَأْتِینَا فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بُکْرَۃً وَعَشِیًّا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [بخاری ۴۷۶] قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَعَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وُلِدَتْ عَلَی الإِسْلاَمِ لأَنَّ أَبَاہَا أَسْلَمَ فِی ابْتِدَائِ الْمَبْعَثِ وَثَابِتٌ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَزَوَّجَہَا وَہِی ابْنَۃُ سِتٍّ وَبَنَی بِہَا وَہِیَ ابْنَۃُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْہَا وَہِی ابْنَۃُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَکِنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ وُلِدَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ثُمَّ أَسْلَمَتْ بِإِسْلاَمِ أَبِیہَا لأَنَّہَا ہَاجَرَتْ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہِیَ حُبْلَی بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ فَوَضَعَتْہُ بِقُبَائٍ فَلَمْ تُرْضِعْہُ حَتَّی أَتَتْ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَحَنَّکَہُ وَدَعَا لَہُ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الإِسْلاَمِ بَعْدَ مَقْدَمِہِ الْمَدِینَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٤٦) عروہ بن زبیر (رض) نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تو میں نے اپنے والدین کو اسلام پر ہی پایا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن صبح اور شام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر نہ آئے ہوں۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں : سیدہ عائشہ (رض) اسلام پر پیدا ہوئیں اس لیے کہ ان کے والدین ابتدائً اسلام پر تھے اور سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان سے شادی کی تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب رخصتی ہوئی اس وقت ٩ سال تھی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے اس وقت آپ (رض) کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ لیکن اسماء بنت ابی بکر جاہلیت میں پیدا ہوئیں۔ پھر اپنے باپ کی وجہ سے مسلمان ہوئی، اس لیے کہ اس نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی۔ اس وقت وہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے ساتھ حاملہ تھیں۔ اسماء نے اس (ابن زبیر) کو قباء میں جنم دیا۔ اسے دودھ نہ پلایا یہاں تک کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے تالو کو کوئی چیز لگائی (گھٹی دی) اور اس کے لیے دعا کی اور وہ اسلام کے پہلے بچے تھے جو مدینہ آنے کے بعد پیدا ہوئے۔

12152

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12152

Zaeef

(۱۲۱۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ : أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائٍ فَوَلَدْتُہُ بِقُبَائٍ ثُمَّ أَتَیْتُ َسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَوَضَعَہُ فِی حَجْرِہِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ فَمَضَغَہَا ثُمَّ تَفَلَ فِی فِیہِ فَکَانَ أَوَّلَ شَیْئٍ دَخَلَ جَوْفَہُ رِیقُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ حَنَّکَہُ ثُمَّ دَعَا لَہُ وَبَرَّکَ عَلَیْہِ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الإِسْلاَمِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ زَادَ فِیہِ عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ فَلَمْ تُرْضِعْہُ حَتَّی أَتَتْ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ-۔ وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو عَبْدِاللَّہِ بْنُ مَنْدَۃَ حِکَایَۃً عَنِ ابْنِ أَبِی الزِّنَادِ: أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ کَانَتْ أَکْبَرُ مِنْ عَائِشَۃَ بِعَشْرِ سِنِینَ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِسْلاَمُ أُمِّ أَسْمَائَ تَأَخَّرَ قَالَتْ أَسْمَائُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : قَدِمَتْ عَلَیَّ أُمِّی وَہِیَ مُشْرِکَۃٌ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَتْہُ وَہِیَ قُتَیْلَۃُ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حِسْلٍ وَلَیْسَتْ بِأُمِّ عَائِشَۃَ فَکَانَ إِسْلاَمُ أَسْمَائَ بِإِسْلاَمِ أَبِیہَا دُونَ أُمِّہَا وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فَکَأَنَّہُ کَانَ بَالِغًا حِینَ أَسْلَمَ أَبَوَاہُ فَلَمْ یَتْبَعْہُمَا فِی الإِسْلاَمِ حَتَّی أَسْلَمَ بَعْدَ مُدَّۃٍ طَوِیلَۃٍ وَکَانَ أَسَنَّ أَوْلاَدِ أَبِی بَکْرٍ۔[بخاری ۳۹۰۹۔ مسلم ۲۱۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٤٧) حضرت اسماء (رض) فرماتی ہیں کہ میں عبداللہ بن زبیر (رض) کے ساتھ مکہ میں حاملہ تھیں جب میں نکلی تو مکمل مدت والی تھی، میں مدینہ میں قباء پہنچی تو میں نے اسے جنم دیا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنی گود میں رکھا۔ پھر کھجور منگوائی اسے چبایا اور عبداللہ کے منہ میں رکھا اور تھوک بھی ڈالا۔ پس پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب تھا، پھر اس کے لیے دعا کی اور برکت کی دعا کی اور یہ اسلام میں پہلے بچے تھے جو پیدا ہوئے۔

12153

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12153

Zaeef

(۱۲۱۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْمَعْنَی قَالَ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ قَالَ: کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَی أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِیعِ وَکَانَتْ یَتِیمَۃً فِی حَجْرِ أَبِی بَکْرٍ فَقَرَأْتُ {وَالَّذِینَ عَاقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ} فَقَالَتْ : لاَ تَقْرَأْ {وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ} إِنَّمَا نَزَلَتْ فِی أَبِی بَکْرٍ وَابْنِہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِینَ أَبَی الإِسْلاَمَ فَحَلَفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ لاَ یُوَرِّثَہُ فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَہُ نَبِیُّ اللَّہُ -ﷺ- أَن یُؤْتِیَہُ نَصِیبَہُ زَادَ عَبْدُ الْعَزِیزِ وَمَا أَسْلَمَ حَتَّی حُمِلَ عَلَی الإِسْلاَمِ بِالسَّیْفِ۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَزَعَمَ الْوَاقِدِیُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْلَمَ فِی ہُدْنَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَزَعَمَ عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ أَنَّہُ ہَاجَرَ فِی فَتِیَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَبْلَ الْفَتْحِ وَزَعَمَ أَبُو عُبَیْدَۃَ أَنَّ اسْمَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَبْدُ الْعُزَّی فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَزَعَمَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزُّبَیْرِیُّ أَنَّ أُمَّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَائِشَۃَ أَمُّ رُومَانَ بِنْتُ عَامِرٍ أَسْلَمْتْ وَحَسُنَ إِسْلاَمُہَا۔ [ضعیف۔ ابوداود ۲۹۲۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٤٨) حضرت داؤد بن حصین فرماتے ہیں : میں ام سعد بنت ربیع کے پاس پڑھتا تھا، اور وہ ابوبکر (رض) کے پاس یتیمی کی حالت میں رہ چکی تھیں، میں نے آیت پڑھی : { وَالَّذِینَ عَاقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ } انھوں نے کہا : اس طرح نہ پڑھ بلکہ { وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ } ہے، یہ آیت حضرت ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمن (رض) کے بارے میں نازل ہوئی جب عبدالرحمن نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو ابوبکر (رض) نے قسم اٹھائی کہ وہ اسے وراثت سے محروم کردیں گے، جب وہ مسلمان ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ اس کا حصہ اسے دے دیں۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ اسلام پر آمادہ تلوار کے ساتھ ہوا تھا۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں واقدی کا خیال ہے کہ عبدالرحمن حدیبیہ کی صلح کے وقت مسلمان ہوا اور علی بن زید کا خیال ہے کہ اس نے قریش کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر فتح مکہ سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی تھی اور ابوعبید کا خیال ہے کہ جاہلیت میں عبدالرحمن کا نام عبدالعزیٰ تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام عبدالرحمن رکھا اور مصعب بن عبداللہ کا خیال ہے کہ ام عبدالرحمن، عائشہ، ام رومان بنت عامر اسلام لائیں اور ان کا اسلام بہترین ہے۔

12154

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12154

Sahih

(۱۲۱۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَیْہِ قَالُوا صَبَأَ عُمَرُ صَبَأَ عُمَرُ وَأَنَا عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ فَجَائَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ وَعَلَیْہِ قَبَائُ دِیبَاجٍ مُکَفَّفَۃٌ بِحَرِیرٍ فَقَالَ صَبَأَ عُمَرُ فَمَہْ أَنَا لَہُ جَارٌ قَالَ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ قَالَ : فَعَجِبْتُ مِنْ عِزِّہِ یَوْمَئِذٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [بخاری ۳۸۶۸] فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْلَمَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ صَبِیٌّ فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلاَمِہِ وَذَلِکَ لِمَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَرَضَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَاسْتَصْغَرَنِی۔ وَقَدْ قِیلَ إِنَّ حَفْصَۃَ وَعَبْدَ اللَّہِ أَسْلَمَا قَبْلَ أَبِیہِمَا وَعَبْدُ اللَّہِ کَانَ صَغِیرًا حِینَئِذٍ فَإِنَّمَا تَمَّ إِسْلاَمُہُ بِإِسْلاَمِ أَبِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنَّہُ خَرَجَ إِلَی بَدْرٍ مَعَ الْمُشْرِکِینَ وَأُسِرَ حَتَّی فَدَی نَفْسَہُ وَأَسْلَمَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٤٩) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) اسلام لائے تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے اور کہنے لگے : عمر بےدین ہوگیا اور میں گھر کی چھت پر تھا، عاص بن وائل میرے پاس آئے جو ریشم کی قبا پہنے ہوئے تھے، کہنے لگے : عمر بےدین ہوگئے لیکن میں نے اسے پناہ دی ہوئی ہے۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : لوگ بکھر گئے، میں نے بڑا تعجب کیا اس دن آپ کی عزت پر۔ عمر بن خطاب (رض) اسلام لائے اور عبداللہ بن عمر (رض) ابھی بچے تھے، وہ بھی عمر (رض) کی وجہ سے مسلمان ہوئے اور یہ اس حدیث کی بنا پر ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے، ابن عمر (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن مجھے پیش کیا اور میں اس وقت (١٤) چودہ سال کا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چھوٹا خیال کیا اور کہا گیا ہے کہ حفصہ اور عبداللہ دونوں اپنے باپ سے پہلے مسلمان ہوئے اور عبداللہ اس وقت چھوٹے تھے، ان کا اسلام باپ کے اسلام کی وجہ سے ہوا۔ اور عباس بن عبدالمطلب (رض) بدر کے دن مشرکوں کے ساتھ نکلے اور قیدی بنا لیے گئے، یہاں تک کہ فدیہ دیا اور اسلام قبول کرلیا۔

12155

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12155

Zaeef

(۱۲۱۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا: ائْذَنْ لَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَلْنَتْرُکْ لاِبْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَائَ ہُ فَقَالَ: لاَ وَاللَّہِ لاَ تَذَرُونَ دِرْہَمًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ إِذْ ذَاکَ کَانَ صَبِیًّا صَغِیرًا إِلاَّ أَنَّ أُمَّہُ کَانَتْ أَسْلَمَتْ فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلاَمِ أُمِّہِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ أُمِّہِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ وَلَمْ یَکُنْ مَعَ أَبِیہِ عَلَی دِینِ قَوْمِہِ۔ [بخاری ۲۵۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٥٠) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ انصار کے آدمیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں اجازت دے دیں۔ ہم عباس (رض) کا فدیہ چھوڑ دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس وقت بچے تھے، مگر ان کی والدہ مسلمان ہوگئیں، چنانچہ عبداللہ بھی ماں کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوگئے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) اپنی والدہ کے ساتھ کمزوروں میں سے تھے، اپنے باپ کے ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہ تھے۔

12156

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12156

Zaeef

(۱۲۱۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَنَا وَأُمِّی مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ کَانَتْ أُمِّی مِنَ النِّسَائِ وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [بخاری ۱۳۵۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٥١) عبیداللہ بن یزید (رض) فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ میں اور میری ماں کمزوروں میں سے تھے، میری ماں عورتوں میں تھی اور میں بچوں میں تھا۔

12157

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12157

Sahih

(۱۲۱۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُوالنُّعْمَانِ عَارِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ہَذِہ الآیَۃِ {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیعُونَ حِیلَۃَ وَلاَ یَہْتَدُونَ سَبِیلاً} قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَأُمِّی مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ تَعَالَی ذِکْرُہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٥٢) حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کے بارے میں منقول ہے : {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیعُونَ حِیلَۃَ وَلاَ یَہْتَدُونَ سَبِیلاً } آدمیوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور لوگ جو حیلہ کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ راستہ پاتے تھے، ابن عباس (رض) فرماتی ہیں : میں اور میری ماں ان میں سے تھے، جن کو اللہ نے معذور قرار دیا۔

12158

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12158

Zaeef

(۱۲۱۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی حَکِیمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الإِسْلاَمُ یَزِیدُ وَلاَ یَنْقُصُ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۲۹۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٥٣) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام زیادہ ہوتا ہے کم نہیں ہوتا۔

12159

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12159

Zaeef

(۱۲۱۵۴) وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ أَنَّ رَجُلاً حَدَّثَہُ : أَنَّ مُعَاذًا قَالَ فَذَکَرَہُ کَذَلِکَ مَرْفُوعًا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ حُکْمَ الإِسْلاَمِ یُغَلَّبُ وَمِنْ تَغْلِیبِہِ أَنْ یُحْکَمَ لِلْوَلَدِ بِالإِسْلاَمِ بِإِسْلاَمِ أَحَدِ أَبَوَیْہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٥٤) عبدالوارث نے بیان کیا کہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اسلام غلبہ پا جاتا ہے اور اس کا غلبہ پانا اس طرح ہے کہ بچے کو اسلام کا بھی وہی حکم ہے جو اس کے والدین میں سے کسی کو ہو۔

12160

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12160

Zaeef

(۱۲۱۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُبَانَۃَ الشَّاہِدُ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُوَیْہِ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا شَبَابُ بْنُ خَیَّاطٍ الْعُصْفُرِیُّ حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَشْرَجٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّہُ جَائَ یَوْمَ الْفَتْحِ مَعَ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَوْلَہُ أَصْحَابُہُ فَقَالُوا ہَذَا أَبُو سُفْیَانَ وَعَائِذُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَذَا عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سُفْیَانَ الإِسْلاَمُ أَعَزُّ مِنْ ذَلِکَ الإِسْلاَمُ یَعْلُو وَلاَ یُعْلَی ۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَیْحُ وَإِبْرَاہِیمُ وَقَتَادَۃُ : إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا فَالْوَلَدَ مَعَ الْمُسْلِمِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢١٥٥) عائذ بن عمرو فتح مکہ کے دن ابوسفیان بن حرب کے ساتھ آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عائذ بن عمرو اور ابوسفیان ہیں، اسلام ان دونوں سے زیادہ عزت والا ہے، اسلام بلند ہوتا ہے اور اس پر کوئی فوقیت نہیں رکھتا۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں : حسن، شریح، ابراہیم اور قتادہ نے کہا : جب دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو بچہ مسلم کے تابع ہوگا۔