Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 37 · Chapter 2533

گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان

اعلان کی مدت کا بیان سلمہ بن کہیل والی روایت دلالت کرتی ہے کہ تین سال تک اعلان کرو۔ شعبہ کہتے ہیں : میں سلمہ سے مکہ میں ملا اس کے بعد انھوں نے کہا : میں نے نہیں جانتا کہ ایک سال ہے یا تین سال۔

5 hadiths in this chapter

12096

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12096

Sahih

(۱۲۰۹۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَیْدَ بْنَ غَفَلَۃَ یَقُولُ : غَزَوْتُ أَنَا وَزَیْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُہُ فَقَالاَ لِی : أَلْقِہِ فَقُلْتُ : لاَ وَلَکِنِّی أُعَرِّفُہُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ یَعْرِفُہُ وَإِلاَّ اسْتَمْتَعْتُ بِہِ فَأَبَیْتُ عَلَیْہِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مَنْ غَزَاتِنَا قُضِیَ لِی أَنِّی حَجَجْتُ فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَلَقِیتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِہِمَا فَقَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : وَجَدْتُ صُرَّۃً فِیہَا مِائَۃُ دِینَارٍ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا حَوْلاً ۔ فَعَرَّفْتُہَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ : احْفَظْ عَدَدَہَا وَوِکَائَ ہَا وَوِعَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِہَا ۔ قَالَ شُعْبَۃُ فَلَقِیتُ سَلَمَۃَ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ : لاَ أَدْرِی ثَلاَثَۃَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلاً وَاحِدًا فَأَعْجَبَنِی ہَذَا الْحَدِیثُ فَقُلْتُ لأَبِی صَادِقٍ : تَعَالَ فَاسْمَعْہُ مِنْہُ۔ وَرَوَاہُ بَہْزُ بْنُ أَسَدٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ قَالَ شُعْبَۃُ : فَسَمِعْتُہُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِینَ یَقُولُ : عَرِّفْہَا عَامًا وَاحِدًا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٩١) سلمۃ بن کہیل فرماتی ہیں : میں نے سوید بن غفلہ سے سنا کہ میں غزوہ میں تھا، مجھے ایک کوڑا ملا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ مجھے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے کہا : اسے پھینک دو ۔ میں نے انکار کر دیاہم نے غزوہ مکمل کیا، پھر میں نے حج کیا اور میں مدینہ سے گزرا تو مجھے ابی بن کعب ملے۔ میں نے یہ قصہ ذکر کیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سود ینار کی تھیلی ملی، میں وہ لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ نے مجھے کہا : ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا، لیکن میں نے ایسا کوئی نہ پایا جو اسے پہچان لیتا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ نے کہا : ایک سال اس کا اعلان کرو، میں نے ایسا ہی کیا، پھر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے کہا : ایک سال اور اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیاچوتھی دفعہ تو آپ نے کہا : ان کو شمار کرو اور اس کے بندھن کو اچھی طرح یاد کرلو۔ اگر اس کا مالک آئے تو دے دینا ورنہ اس سے فائدہ اٹھا۔ سلمہ کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ آپ نے تین دفعہ اعلان کا کہا یا ایک دفعہ۔

12097

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12097

Sahih

(۱۲۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَأَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ کُہَیْلٍ کَانَ یَشُکُّ فِیہِ ثُمَّ تَذَکَّرَہُ فَثَبَتَ عَلَی عَامٍ وَاحِدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٩٢) صحیح مسلم میں عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل کو شک تھا، پھر ان کو یاد آگیا، پھر وہ ایک سال پر ثابت قدم رہے۔

12098

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12098

Zaeef

(۱۲۰۹۳) وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرَ بْنَ الأَشَجِّ حَدَّثَہُ أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ مِقْسَمٍ حَدَّثَہُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَدَ دِینَارًا فَأَتَی بِہِ فَاطِمَۃَ عَلَیْہِا السَّلاَمُ فَقَالَتْ : ہَذَا رِزْقُ رَزَقَنَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِلَّہِ الْحَمْدُ فَاشْتَرِ بِہِ لَحْمًا وَطَعَامًا فَہَیَّأَ طَعَامًا فَقَالَ لِفَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ : أَرْسِلِی إِلَی أَبِیکِ فَتُخْبِرِیہِ فَإِنْ رَآہُ حَلاَلاً أَکَلْنَا بِہِ فَلَمَّا صَنَعُوا طَعَامًا دَعَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا أَتَی ذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہُوَ رِزْقُ اللَّہِ ۔ فَأَکَلَ مِنْہُ وَأَکَلُوا فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أَتَتِ امْرَأَۃٌ تَنْشُدُ الدِّینَارَ أَنْشُدُ اللَّہَ الدِّینَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا عَلِیُّ أَدِّ الدِّینَارَ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٩٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو ایک دینار ملا، وہ حضرت فاطمہ (رض) کے پاس لے کر آئے۔ اس نے کہا : یہ رزق ہے جو ہمیں اللہ نے دیا ہے۔ اللہ کے لیے تعریف ہے، اس کے ساتھ گوشت اور کھانا خرید لاعلی (رض) کھانا خرید لائے۔ پھر فاطمہ سے کہا : اپنے باپ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو اس کی خبر دو ۔ اگر وہ حلال سمجھیں تو ہم کھا لیں گے، جب انھوں نے کھانا بنایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو انھوں نے آپ سے یہ ذکر کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ کا رزق ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کھایا اور انھوں نے بھی کھایا ۔ اس کے بعد ایک عورت آئی، وہ ایک دینار گم کر بیٹھی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! دینار اسے دے دو ۔

12099

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12099

Zaeef

(۱۲۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ یَعْقُوبَ الزَّمَعِیُّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ دَخَلَ عَلَی فَاطِمَۃَ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ عَلَیْہِمُ السَّلاَمُ یَبْکِیَانِ فَقَالَ : مَا یُبْکِیہِمَا؟ قَالَتِ : الْجُوعُ فَخَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَجَدَ دِینَارًا بِالسُّوقِ فَجَائَ إِلَی فَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَہَا فَقَالَتِ : اذْہَبْ إِلَی فُلاَنٍ الْیَہُودِیِّ فَخُذْ لَنَا دَقِیقًا فَجَائَ الْیَہُودِیَّ فَاشْتَرَی بِہِ دَقِیقًا فَقَالَ الْیَہُودِیُّ : أَنْتَ خَتَنُ ہَذَا الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَخُذْ دِینَارَکَ وَلَکَ الدَّقِیقُ فَخَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی جَائَ بِہِ فَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَہَا فَقَالَتِ : اذْہَبْ إِلَی فُلاَنٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْہَمٍ لَحْمًا فَذَہَبَ وَرَہَنَ الدِّینَارَ بِدِرْہَمٍ لَحْمًا فَجَائَ بِہِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَی أَبِیہَا فَجَائَ ہُمْ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَذْکُرُ لَکَ فَإِنْ رَأَیْتَہُ لَنَا حَلاَلاً أَکَلْنَاہُ وَأَکَلْتَ مِنْ شَأْنِہِ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ : کُلُوا بِاسْمِ اللَّہِ ۔ فَأَکَلُوا فَبَیْنَا ہُمْ مَکَانَہُمْ إِذَا غُلاَمٌ یَنْشُدُ اللَّہَ وَالإِسْلاَمَ الدِّینَارَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدُعِیَ لَہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : سَقَطَ مِنِّی فِی السُّوقِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا عَلِیُّ اذْہَبْ إِلَی الْجَزَّارِ فَقُلْ لَہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لَکَ أَرْسِلْ إِلَیَّ بِالدِّینَارِ وَدِرْہَمُکَ عَلِیَّ ۔ فَأَرْسَلَ بِہِ فَدَفَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَیْہِ۔ [ضعیف] قَالَ الشَّیْخُ : ظَاہِرُ الْحَدِیثُ عَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذَا الْبَابِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ أَنْفَقَہُ قَبْلَ التَّعْرِیفِ فِی الْوَقْتِ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہُ أَنْ یُعَرِّفَہُ فَلَمْ یُعْتَرَفْ فَأَمَرَہُ أَنْ یَأْکُلَہُ وَظَاہِرُ تِلْکَ الرِّوَایَۃِ أَنَّہُ شَرَطَ التَّعْرِیفَ فِی الْوَقْتِ وَأَبَاحَ أَکْلَہُ قَبْلَ مُضِیِّ السَّنَۃِ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی وَرَدَتْ فِی اشْتِرَاطِ التَّعْرِیفِ سَنَۃً فِی جَوَازِ الأَکْلِ أَصَحُّ وَأَکْثَرُ فَہِیَ أَوْلَی وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا أَبَاحَ لَہُ إِنْفَاقَہُ قَبْلَ مُضِیِّ سَنَۃٍ لِوُقُوعِ الاِضْطِرَارِ إِلَیْہِ وَالْقِصَّۃُ تَدُلُّ عَلَیْہِ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ لَمْ یَشْتَرِطْ مُضِیَّ سَنَۃٍ فِی قَلِیلِ اللُّقَطَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٩٤) سہل بن سعید نے خبر دی کہ حضرت علی (رض) فاطمہ، حسن، حسین کے پاس گئے، وہ دونوں رو رہے تھے، پوچھا : یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں ؟ فاطمہ (رض) نے بتایا : بھوک کی وجہ سے۔ حضرت علی (رض) گھر سے نکلے، بازار میں سے ایک دینار مل گیا، پھر فاطمہ کے پاس آئے، اسے خبر دی، فاطمہ (رض) نے کہا : فلاں یہودی کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے آٹا لے کر آؤ ۔ وہ یہودی کے پاس آئے اس سے آٹا خریدا۔ یہودی نے کہا : تو اس شخص کا داماد ہے جو گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : ہاں اس نے کہا : دینار بھی لے جاؤ اور آٹا بھی۔ حضرت علی (رض) نکلے اور فاطمہ کے پاس آئے، اسے بتایا، فاطمہ نے کہا : فلاں قصاب کے پاس جاؤ اور درہم کا ہمارے لیے گوشت لے کر آؤ وہ گئے اور دینار ایک درہم گوشت کے بدلے گروی رکھا اور گوشت لے کر آئے، فاطمہ نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی۔ پھر اپنے اباجان (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو بلایا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے پاس آئے۔ حضرت علی (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں آپ کو بتاتا ہوں اگر آپ ہمارے لیے حلال خیال کریں گے تو ہم کھا لیں گے اور آپ بھی کھا لینا معاملہ بیان کیا، آپ نے فرمایا : اللہ کے نام کے ساتھکھاؤ، میں نے کھایا، وہ ابھی اسی جگہ پر تھے کہ ایک غلام دینار گم ہونے کی صدا لگا رہا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اسے بلایا گیا، اس سے سوال کیا گیا : اس نے کہا : بازار میں میرا دینار گرگیا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے علی قصاب کے پاس جاؤ۔ اسے کہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرے لیے کہا ہے کہ دینار واپس کر دو اور تیرا درہم مجھ پر ہے۔ میں نے دینار بھیج دیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ دینار اسے دے دیا۔ شیخ فرماتے ہیں : علی (رض) والی حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علی (رض) نے اسے اعلان سے پہلے ہی خرچ کرلیا تھا، اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا لیکن کوئی بھی پہچان نہ سکا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے کا حکم دیا اور روایت کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت اس کا اعلان کرنا شرط ہے اور ایک سال گزرنے سے پہلے اس کا کھانا جائز ہے اور وہ احادیث جو ایک سال کی شرط کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ کھانا جائز ہے زیادہ صحیح ہیں اور یہی اولیٰ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا کھانا مباح ہے۔ ایک سال گزرنے سے پہلے مجبوری کی وجہ سے اور یہ قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ تھوڑی چیز پر سال گزرنے کی شرط نہ ہو۔

12100

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12100

Sahih

(۱۲۰۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُہَنِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ بِلاَلِ بْنِ یَحْیَی الْعَبْسِیِّ عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : أَنَّہُ الْتَقَطَ دِینَارًا فَاشْتَرَی بِہِ دَقِیقًا فَعَرَفَہُ صَاحِبُ الدَّقِیقِ فَرَدَّ عَلَیْہِ الدِّینَارَ فَأَخَذَہُ عَلِیٌّ فَقَطَعَ مِنْہُ قِیرَاطَیْنِ فَاشْتَرَی بِہِ لَحْمًا۔ فِی مَتْنِ ہَذَا الْحَدِیثِ اخْتِلاَفٌ وَفِی أَسَانِیدِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٩٥) حضرت علی (رض) کو دینار ملا، انھوں نے اس سے آٹا خریداتو آٹے والے نے اسے پہچان لیا اور اس نے دینار لوٹا دیا۔ حضرت علی (رض) نے وہ لے لیا اور دو قیراط کا گوشتخریدا۔