Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 37 · Chapter 2529

گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان

لقطہ میں سے کیا لینا جائز ہے اور کیا جائز نہیں

13 hadiths in this chapter

12070

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12070

Sahih

(۱۲۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ بْنِ أَعْیَنَ الْمِصْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَسُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّوْرِیُّ وَغَیْرُہُمْ أَنَّ رَبِیعَۃَ بْنَ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَہُمْ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدَ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّہُ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا مَعَہُ فَسَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا وَإِلاَّ فَشَأْنَکَ بِہَا ۔ قَالَ : فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ؟ قَالَ : لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ قَالَ : فَضَالَّۃُ الإِبِلِ؟ قَالَ : مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ وَالثَّوْرِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ ثَلاَثَتِہِمْ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٦٥) حدیث نمبر ١٢٠٥٠ والا ترجمہ ہے۔

12071

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12071

Sahih

(۱۲۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ اسْتَنْفَقَ بِہَا فَإِنْ جَائَ رَبُّہَا فَأَدِّہَا إِلَیْہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : خُذْہَا فَإِنَّمَا ہِیَ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَضَالَّۃُ الإِبِلِ؟ قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ أَوِ احْمَرَّ وَجْہُہُ قَالَ : مَا لَکَ وَلَہَا مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا ۔ وَقَالَ یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ : دَعْہَا حَتَّی یَلْقَاہَا رَبُّہَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٦٦) حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال تک اعلان کرو ۔ پھر اس کی تھیلی اور بندھن کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر اسے اپنے خرچہ میں شامل کرلو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! گم شدہ بکریوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ تیرے لیے ہیں یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑے کے لیے ہیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ میں آگئے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس میں کیا ہے ؟ اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنا ہے، یہاں تک کہ اسے اس کا مالک پالے۔

12072

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12072

Sahih

(۱۲۰۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ وَیَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَشْمَرْدُ أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ أَنَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ اللُّقَطَۃِ الذَّہَبِ أَوِ الْوَرِقِ فَقَالَ: اعْرِفْ وِکَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاسْتَنْفِقْہَا وَلْتَکُنْ وَدِیعَۃً عِنْدَکَ فَإِنْ جَائَ طَالِبُہَا یَوْمًا مِنَ الدَّہْرِ فَأَدِّہَا إِلَیْہِ۔ وَسَأَلَہُ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَقَالَ: مَا لَکَ وَلَہَا دَعْہَا فَإِنْ مَعَہَا حِذَائَ ہَا وَسِقَائَ ہَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی یَجِدَہَا رَبُّہَا۔ وَسَأَلَہُ عَنِ الشَّاۃِ فَقَالَ: خُذْہَا فَإِنَّمَا ہِیَ لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٦٧) زید بن خالد جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر نہ پہچانی جائے تو اسے اپنے خرچہ میں شامل کرلے اور وہ تیرے پاس امانت ہوگی۔ اگر اس کا مالک کسی بھی وقت آجائے تو اسے دے دینا، اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس میں کیا ہے ! پس اسے چھوڑ دو اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنا ہے، وہ پانی پر وارد ہوسکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پالے۔

12073

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12073

Sahih

(۱۲۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّۃِ مِنَ الإِبِلِ فَقَالَ : مَعَہَا سِقَاؤُہَا وَحِذَاؤُہَا لاَ یَأْکُلُہَا الذِّئْبُ تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ مِنْ الشَّجَرَ فَدَعْہَا مَکَانَہَا حَتَّی یَأْتِیَ بَاغِیہَا ۔ قَالَ : فَضَالَّۃُ الْغَنَمِ؟ قَالَ : لَکَ أَوْ لأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ اجْمَعْہَا حَتَّی یَأْتِیَ بَاغِیہَا ۔ قَالَ : اللُّقَطَۃُ نَجِدُہَا قَالَ : مَا کَانَ فِی الْعَامِرَۃِ وَالسَّبِیلِ الْعَامِرَۃِ فَعَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ جَائَ بَاغِیہَا فَأَدِّہَا إِلَیْہِ وَإِلا فَہِیَ لَکَ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا یُوجَدُ فِی الْقَرْیَۃِ الْخَرَابِ الْعَادِیِّ قَالَ : فِیہِ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ ۔ وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ وَبِمَعْنَاہُ قَالَ فِیہِ : فَکَیْفَ تَرَی فِی ضَالَّۃِ الْغَنَمِ قَالَ : طَعَامٌ مَأْکُولٌ لَکَ أَوْ لأَخِیکِ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَی أَخِیکِ ضَالَّتَہُ ۔ وَقَدْ مَضَی بِإِسْنَادِہِ فِی کِتَابِ الزَّکَاۃِ۔ [حسن۔ ابوداود ۱۷۰۸۔ ترمذی ۱۲۸۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٦٨) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مزینہ کے ایک آدمی سے سنا، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا اور میں سن رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنے کی چیز ہے۔ اسے بھیڑیا نہیں کھا سکتا۔ وہ پانی پی لیتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے۔ اسے اس کی جگہ پر چھوڑ دو یہاں تک اس کو تلاش کرنے والا آجائے۔ اس نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے۔ اس کو پکڑ لو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آجائے۔ اس نے کہا : جو گری پڑی چیز ہم پالیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آبادی میں ہو یا آباد راستے میں اسے ایک سال تک متعارف کراؤ۔ اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لیے ہے، اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! جو کسی غیر آباد جگہ سے ملے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں اور رکاز میں خمس ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے کہا : گمشدہ بکری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کھانا ہے جو تیرے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے ؟ اسے روک لو اپنے بھائی کے لیے جس نے اسے گم کیا ہے۔

12074

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12074

Zaeef

(۱۲۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی حَیَّانَ التَّیْمِیِّ حَدَّثَنِی الضَّحَّاکُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیرٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیرٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی بِالْبَوَازِیجِ بِالسَّوَادِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَی بَقَرَۃً أَنْکَرَہَا فَقَالَ : مَا ہَذِہِ الْبَقَرَۃُ؟ قَالُوا : بَقَرَۃٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِہَا فَطُرِدَتْ حَتَّی تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَأْوِی الضَّالَّۃَ إِلاَّ ضَالٌّ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٦٩) حضرت منذر بن جریر فرماتی ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج مقام پر ایک لشکر میں تھا، ایک گائے آئی۔ انھوں نے اس نئی گائے کو دیکھا اور کہا یہ گائے کس کی ہے ؟ انھوں نے (لشکر والوں) نے جواب دیا : یہ گائے ہماری گائے کے ساتھ مل گئی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اسے نکال دو ۔ وہ نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ چھپ گئی۔ پھر کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گمشدہ چیز کو گمراہ شخص ہی پناہ دیتا ہے۔

12075

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12075

Zaeef

(۱۲۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَلِیٍّ الْخُطَبِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ تَأْتِی عَلَی ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَأَتْرُکُہَا فَقَالَ: ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٠) جارود سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کوئی گمشدہ اونٹ پاؤں تو اسے چھوڑ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔

12076

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12076

Zaeef

(۱۲۰۷۱) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ: یَزِیدَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧١) جارود سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔

12077

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12077

Zaeef

(۱۲۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ قَالَ : أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ عَلَی إِبِلٍ عِجَافٍ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نَمُرُّ بِالْجَرْفِ فَنَجِدُ إِبِلاً فَنَرْکَبُہَا فَقَالَ : ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ۔وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَخِیہِ مُطَرِّفٍ عَنِ الْجَارُودِ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٢) جارود سے روایت ہے کہ ہم ایک دبلے اونٹ پر تھے، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم جرف مقام سے گزرے۔ ہم نے وہاں اونٹ پایا، لہٰذا ہم اس پر سوار ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگار ہے۔

12078

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12078

Zaeef

(۱۲۰۷۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنِ الْجَارُودِ الْعَبَدِیِّ یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلاَ تَقْرَبَنَّہَا ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی مُسْلِمٍ عَنِ الْجَارُودِ۔وَقَدْ قِیلَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ أَبِیہِ ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٣) جارود عبدی سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے اسے اپنے قریب نہ کرو۔

12079

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12079

Sahih

(۱۲۰۷۴) أَخْبَرَنَا الأَسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّا نُصِیبُ ہَوَامِیَ الإِبِلِ فَقَالَ : ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ أَوِ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٤) مطرف بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں : ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہم کوئی پیاسا اونٹ پالیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان یا مومن کی گمشدہ چیز آگ کا انگارہ ہے۔

12080

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12080

Zaeef

(۱۲۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَہُوَ مُسْنِدٌ ظَہْرَہُ إِلَی الْکَعْبَۃِ : مَنْ أَخَذَ ضَالَّۃً فَہُوَ ضَالٌّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٥) سعید بن مسیب سے منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا اور وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے کہ جو گمشدہ چیز اٹھاتا ہے ، وہ گمراہ ہے۔

12081

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12081

Zaeef

(۱۲۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ قَالَ سَمِعْتُ أَعْرَابِیًّا مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ سَأَلَہُ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ : مَا تَرَی فِی الضَّوَالِّ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَہُو ضَالٌّ۔ قَالَ : مَا تَرَی فِی الضَّوَالِّ قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنَ الضَّوَالِّ فَہُو ضَالٌّ ثُمَّ سَکَتَ الرَّجُلُ وَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُفْتِی النَّاسَ یَقُولُ أَبُو الْجُوَیْرِیَۃِ فَتْوًی کَثِیرَۃً لاَ أَحْفَظُہَا فَقَالَ الأَعْرَابِیُّ : أَرَاکَ قَدْ أَصْدَرْتَ النَّاسَ غَیْرِی أَفَتُرَی لِی تَوْبَۃً قَالَ : وَیْلَکَ لاَ تَسْأَلْ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ قَالَ : وَمَا أَشَدَّ مَسْأَلَتَکَ قَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَأَجْلَ مَا صَنَعْتُ۔ قَالَ : أَتَدْرِی مَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ) حَتَّی فَرَغَ مِنَ الآیَۃِ کُلِّہَا قَالَ : کَانَ قَوْمٌ یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتِہْزَائً فَیَقُولُ الرَّجُلُ : مَنْ أَبِی وَیَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتَہُ أَیْنَ نَاقَتِی؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ ہَذِہِ الآیَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مُخْتَصَرًا۔ [بخاری ۴۶۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٦) ابوالجویرہ سے روایت ہے کہ میں نے بنی سلیم کے ایک دیہاتی سے سنا اس نے ابن عباس (رض) سے گمشدہ چیز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : جس نے گمشدہ چیز سے کھایا وہ گمراہ ہے پھر وہ آدمی خاموش ہوگیا اور ابن عباس (رض) لوگوں میں فتویٰ دینے میں مصروف ہوگئے، ابوالجویریہ کہتے ہیں : وہ بہت زیادہ فتوے دیتے تھے، جنہیں میں یاد نہیں رکھ سکا۔ دیہاتی نے کہا : میں خیال کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے علاوہ لوگوں کو روکا ہوا ہے، آپ کے خیال میں میرے لیے توبہ ہے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : تیری ہلاکت ہو اس بارے سوال نہ کر اور کہا : تیرا مسئلہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں جب سے میں نے یہ کام کیا، ابن عباس (رض) نے کہا : کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس بارے نازل ہوئی : اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں نقصان پہنچے۔ جب آیت پڑھ کر فارغ ہوئے تو کہا : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذاقاً سوال کرتے تھے، آدمی کہتا : میرا باپ کون ہے ؟ یا کہتا میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، میری اونٹنی کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

12082

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12082

Zaeef

(۱۲۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ أَحْسِبُہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ضَالَّۃُ الإِبِلِ الْمَکْتُومَۃِ غَرَامَتُہَا وَمِثْلُہَا مَعَہَا ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٧٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گمشدہ اونٹ کو چھپانے پر اس جیسا اونٹ اور اس کی مثل اس کے ساتھ دینا ہوگا۔