Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 36 · Chapter 2519

ہبہ کا بیان

اولاد کے درمیان عطیہ میں برابری کرنے میں اختیار ہے واجب نہیں

7 hadiths in this chapter

12006

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12006

Sahih

(۱۲۰۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا رِبْعِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ : جَائَ بِی أَبِی یَحْمِلُنِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اشْہَدْ أَنِّی نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِی کَذَا وَکَذَا قَالَ : کُلَّ بَنِیکَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِی نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی أَلَیْسَ یَسُرُّکَ أَنْ یَکُونُوا إِلَیْکَ فِی الْبِرِّ سَوَائً ۔ قَالَ : بَلَی قَالَ : فَلاَ إِذًا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُغِیرَۃُ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَلَیْسَ یَسُرُّکَ أَنْ یَکُونُوا لَکَ فِی الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَائً ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠١) نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں : میرے والد مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے اتنا عطیہ دیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے، جس طرح نعمان کو دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو، کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی میں سب برابر ہوں، اس نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا : اس وقت نہیں۔ شعبی کے الفاظ ہیں : کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی اور کرم میں برابر ہوں ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔

12007

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12007

Sahih

(۱۲۰۰۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا سَیَّارٌ وَأَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَمُجَالِدٌ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ : نَحَلَنِی أَبِی نُحْلاً قَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَیْنَ الْقَوْمِ : نَحَلَہُ غُلاَمًا لَہُ قَالَ فَقَالَتْ لَہُ أُمِّی عَمْرَۃُ بِنْتُ رَوَاحَۃَ : ائْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَشْہِدْہُ قَالَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : إِنِّی نَحَلْتُ ابْنِی النُّعْمَانَ نُحْلاً وَإِنَّ عَمْرَۃَ سَأَلَتْنِی أَنْ أُشْہِدَکَ عَلَی ذَلِکَ قَالَ فَقَالَ : أَلَکَ وَلَدٌ سِوَاہُ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : وَکُلَّہُمْ أَعْطَیْتَہُ مِثْلَ الَّذِی أَعْطَیْتَ النُّعْمَانَ؟ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ فَقَالَ بَعْضُ ہَؤُلاَئِ الْمُحَدِّثِینَ : ہَذَا جَوْرٌ ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہَذَا تَلْجِئَۃٌ فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی ۔ قَالَ مُغِیرَۃُ فِی حَدِیثِہِ : أَلَیْسَ یَسُرُّکَ أَنْ یَکُونُوا لَکَ فِی الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَائً ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی ۔ وَذَکَرَ مُجَالِدٌ فِی حَدِیثِہِ : إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَیْنَہُمْ کَمَا أَنَّ لَکَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ یَبَرُّوکَ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٢) نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے والدنے عطیہ دیا، اسماعیل بن سالم نے لوگوں کے درمیان سے کہا : غلام کا عطیہ دیا۔ نعمان نے کہا : میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا : تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا اور آپ کو گواہ بنا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، آپ کے سامنے یہ ذکر کیا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے سب کو نعمان کی طرح عطیہ دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ یہ ظلم ہے اور بعض نے کہا : یہ خاص عطیہ ہے جو دوسروں کو چھوڑ کر اسے دیا گیا ہے یا مجبوری کا عطیہ ہے۔ پس میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔ مغیرہ کے الفاظ ہیں : کیا تجھے پسند نہیں وہ کہ نیکی اور کرم میں تیرے لیے برابر ہوں۔ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو اور مجاہد نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ تیرے اوپر ان کے لیے حق ہے کہ ان کے درمیان عدل کر، جس طرح ان پر تیرا حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔

12008

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12008

Sahih

(۱۲۰۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ بِطُولِہَا قَالَ فِی آخِرِہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : فَإِنِّی لاَ أَشْہَدُ عَلَی ہَذَا ہَذَا جَوْرٌ أَشْہَدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی اعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ فِی النُّحْلِ کَمَا تُحِبُّون أَنْ یَعْدِلُوا بَیْنَکُمْ فِی الْبِرِّ وَاللُّطْفِ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٣) شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر (رض) سے لمبا قصہ سنا، انھوں نے آخر میں کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس پر گواہ نہیں بنتا، یہ ظلم ہے اس پر کسی اور کو گواہ بنالے اور اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں عدل کرو جس طرح تم پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی میں تمہارے ساتھ عدل کریں۔

12009

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12009

Sahih

(۱۲۰۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عِیسَی الْبِسْطَامِیُّ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ : نَحَلَنِی أَبِی نِحْلَۃً ثُمَّ أَتَی بِی النَّبِیَّ -ﷺ- یُشْہِدُہُ فَقَالَ : أَکُلَّ بَنِیکَ أَعْطَیْتَہُ ہَذَا ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : أَلَیْسَ تُرِیدُ مِنْہُمْ مِنَ الْبِرِّ مَا تُرِیدُ مِنْ ہَذَا ۔ قَالَ : بَلَی قَالَ : فَإِنِّی لاَ أَشْہَدُ ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُہُ مُحَمَّدًا یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ فَقَالَ إِنَّمَا تَحَدَّثَنَا أَنَّہُ قَالَ : قَارِبُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ ۔[صحیح] رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیِّ عَنْ أَزْہَرَ بْنِ سَعْدٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ فَضَّلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِنُحْلٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ :وَہَذَا فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحَلَنِی جِدَادَ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ مَالِہِ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ جَلَسَ فَاحْتَبَی ثُمَّ تَشْہَّدَ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ أَیْ بُنَیَّۃُ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَیَّ غِنًی بَعْدِی لأَنْتِ وَإِنِّی کُنْتُ نَحَلْتُکَ جَدَادَ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ مَالِی فَوَدِدْتُ وَاللَّہِ إِنَّکَ کُنْتُ حُزْتِیہِ وَاجْتَدَدْتِیہِ وَلَکِنْ إِنَّمَا ہُوَ الْیَوْمَ مَالُ الْوَارِثِ وَإِنَّمَا ہُوَ أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا أَبَتَاہُ ہَذِہِ أَسْمَائُ فَمَنِ الأُخْرَی قَالَ : ذُو بَطْنِ ابْنَۃِ خَارِجَۃَ أُرَاہُ جَارِیَۃً قَالَتْ فَقُلْتُ : لَوْ أَعْطَیْتَنِی مَا بَیْنَ کَذَا إِلَی کَذَا لَرَدَدْتُہُ إِلَیْکَ۔ [ضعیف] قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَفَضَّلَ عُمَرُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بِشَیْئٍ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ وَفَضَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَلَدَ أُمِّ کُلْثُومٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٤) حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میرے والدنے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے کہ آپ کو گواہ بنالیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو ان سے نیکی کا ارادہ نہیں رکھتاجس طرح اس سے رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں گواہ نہیں بن سکتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد میں قربت اختیار کرو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو عطیہ کے ساتھ فضیلت دی۔ شیخ فرماتے ہیں : عروہ بن زبیر کہتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) نے کہا : حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے اپنے مال سے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دیں، جب وفات کا وقت آیا تو بیٹھ گئے پھر گواہ بنایا، پھر کہا : اے پیاری بیٹی ! لوگوں میں سے میرے بعد تیرا غنی ہونا زیادہ پسندیدہ ہے اور بیشک میں نے تجھے بیس وسق کا ٹنے والی کھجوریں دیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اسے اپنے قبضے میں لے اور کاٹ لے۔ لیکن آج وہ وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اے ابا جان ! یہ اسماء میری بہن ہے تو دوسری کون ہے ؟ آپ نے کہا : خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں جو ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہے، حضرت عائشہ (رض) نے کہا اگر آپ مجھے اتنا زیادہ بھی دیتے تو میں آپ کی طرف لوٹا دیتی،۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے عاصم بن عمر کو عطیہ دے کر فضیلت دی اور عبدالرحمن بن عوف نے ام کلثوم کے بیٹے کو فضیلت دی۔

12010

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12010

Zaeef

(۱۲۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَطَعَ ثَلاَثَۃَ أَرْؤُسٍ أَوْ أَرْبَعَۃً لِبَعْضِ وَلَدِہِ دُونَ بَعْضِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٥) نافع سے منقول ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنی بعض اولاد کے لیے تین یا چار برابر حصے کیے۔

12011

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12011

Zaeef

(۱۲۰۰۶) قَالَ بُکَیْرٌ وَحَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیُّ : أَنَّہُ انْطَلَقَ ہُوَ وَابْنُ عُمَرَ حَتَّی أَتَوْا رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَسَاوَمُوہُ بِأَرْضٍ لَہُ فَاشْتَرَاہَا مِنْہُ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی رَأَیْتُ أَنَّکَ اشْتَرَیْتَ أَرْضًا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَإِنَّ ہَذِہِ الأَرْضَ لاِبْنِی وَاقِدٍ فَإِنَّہُ مِسْکِینٌ نَحَلَہُ إِیَّاہَا دُونَ وَلَدِہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٦) قاسم بن عبدالرحمن انصاری اور ابن عمر (رض) انصار کے ایک آدمی کے پاس گئے۔ انھوں نے اس سے زمین کا سودا کیا اور اس سے خرید لیا، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے زمین خریدی ہے اور اس کو صدقہ کیا ہے، ابن عمر (رض) نے کہا : یہ زمین میرے بیٹے واقد کی ہے، وہ مسکین ہے، آپ نے اپنی دوسری اولاد کے علاوہ اس کو عطیہ دیا۔

12012

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12012

Zaeef

(۱۲۰۰۷) قَالَ بُکَیْرٌ وَحَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ : أَنَّ أَبَاہُ کَانَ یَقْطَعُ وَلَدَہُ دُونَ بَعْضٍ۔ قَالَ وَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ بْنِ بَشِیرِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : کُلُّ ذِی مَالٍ أَحَقُّ بِمَالِہِ ۔ قَالَ ابْنُ وَہْبٍ یَصْنَعُ بِہِ مَا شَائَ ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٧) عمر بن منکدر سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مال والا اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے، ابن وہب نے کہا : وہ جو چاہے اس سے کرے۔