Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 36 · Chapter 2518

ہبہ کا بیان

آدمی کو اپنی اولاد کو عطیہ دینے کا بیان اولاد کو عطیہ دینے میں برابری اختیار کرنا سنت ہے

9 hadiths in this chapter

11997

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11997

Zaeef

(۱۱۹۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ یُحَدِّثَانِہِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَنَّہُ قَالَ أَنَّ أَبَاہُ أَتَی بِہِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی نَحَلْتُ ابْنِی ہَذَا غُلاَمًا کَانَ لِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَہُ مِثْلَ ہَذَا ۔ قَالَ : لاَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَارْجِعْہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [بخاری ۲۵۸۷۔ مسلم ۱۶۲۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٢) حضرت نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں : ان کو ان کا والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا اور کہا : میں نے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح غلام دیا ہے ؟ اس نے نہ میں جواب دیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو واپس لوٹا دو ۔

11998

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11998

Sahih

(۱۱۹۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ وَحُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّہُمَا سَمِعَا النُّعْمَانِ یَقُولُ : نَحَلَنِی أَبِی غُلاَمًا فَأَمَرَتْنِی أُمِّی أَنْ أَذْہَبَ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَأُشْہِدَہُ عَلَی ذَلِکَ فَقَالَ : أَکُلَّ وَلَدِکَ أَعْطَیْتَہُ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَارْدُدْہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٣) محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمن دونوں نے نعمان بن بشیر (رض) سے سنا کہ میرے والدنے مجھے غلام دیا، میری ماں نے کہا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر گواہ مقرر کرلوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو نے ساری اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے۔ اس نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : پس اسے بھی واپس لوٹا دو ۔

11999

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11999

Sahih

(۱۱۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا تَمِیمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنِ بَشِیرٍ یَقُولُ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ : أَعْطَانِی أَبِی عَطِیَّۃً فَقَالَتْ لَہُ عَمْرَۃُ بِنْتُ رَوَاحَۃَ : لاَ أَرْضَی حَتَّی تُشْہِدَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی أَعْطَیْتُ ابْنَ عُمْرَۃَ بِنْتِ رَوَاحَۃَ عَطِیَّۃً وَأَمَرَتْنِی أَنْ أُشْہِدَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : أَعْطَیْتُ سَائِرَ وَلَدِکَ مِثْلَ ہَذَا ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ ۔ قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِیَّتَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ حُصَیْنٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٤) حضرت عامر کہتے ہیں : میں نے نعمان بن بشیر (رض) سے سنا، وہ منبر پر فرما رہے تھے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں یہاں تک کہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گواہ بنا لے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں نے عمرہ بنت وہب کے بیٹے کو غلام دیا ہے اور اس (عمرۃ) نے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بنا لوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔ راوی کہتے ہیں : وہ واپس لوٹے اور اپنے عطیہ کو واپس لے لیا۔

12000

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12000

Sahih

(۱۱۹۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ الدَارَبُرْدِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُوحَیَّانَ التَّیْمِیُّ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّی أَبِی بَعْضَ الْمَوْہِبَۃِ لِی مِنْ مَالِہِ فَالْتَوَی بِہَا سَنَۃً ثُمَّ بَدَا لَہُ فَوَہَبَہَا لِی وَإِنَّہَا قَالَتْ: لاَ أَرْضَی حَتَّی تُشْہِدَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی مَا وَہَبْتَ لاِبْنِی فَأَخَذَ بِیَدِی وَأَنَا یَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ فَأَتَی بِی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أُمَّ ہَذَا ابْنَۃُ رَوَاحَۃَ قَاتَلَتْنِی مُنْذُ سَنَۃً عَلَی بَعْضِ الْمَوْہِبَۃِ لاِبْنِی ہَذَا وَقَدْ بَدَا لِی فَوَہَبْتُہَا لَہُ وَقَدْ أَعْجَبَہَا أَنْ تُشْہِدَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ فَقَالَ: یَا بَشِیرُ أَلَکَ وَلَدٌ سِوَی وَلَدِکَ ہَذَا۔ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلاَ تُشْہِدْنِی أَوْ قَالَ لاَ أَشْہَدُ عَلَی جَوْرٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ أَبِی حَیَّانَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ : فَلاَ تُشْہِدْنِی إِذًا فَإِنِّی لاَ أَشْہَدُ عَلَی جَوْرٍ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٥) حضرت نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں : میری ماں نے میرے باپ سے اپنے مال میں سے کچھ میرے لیے ہبہ کرنے کا سوال کیا، ایک سال تک اس نے نہ کیا۔ پھر والد نے میرے لیے ہبہ کیا، میری ماں نے کہا : میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں، یہاں تک کہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر گواہ بنا لے جو تو نے میرے بیٹے کو ہبہ کیا ہے۔ پس باپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس وقت بچہ تھا اور وہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے، کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی ماں رواحہ کی بیٹی ہے، ایک سال سے وہ مجھ سے اسے ہبہ کرنے کے بارے میں لڑائی کر رہی تھی، پس اب میں نے ہبہ کردیا اور اس کو پسند ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر گواہ بن جائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے بشیر ! کیا تیری اس کے علاوہ اور بھی اولاد ہے ؟ اس نے کہا : ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو مجھے گواہ نہ بنایا کہا : میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔

12001

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12001

Sahih

(۱۱۹۹۶) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَنَّ أَبَاہُ نَحَلَہُ نُحْلاً فَأَرَادَ أَنْ یُشْہِدَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَ کَمَا نَحَلْتَہُ۔ فَقَالَ: لاَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: إِنَّ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَیْنَ وَلَدِکَ کَمَا عَلَیْہِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ یَبَرُّوکَ ۔ تَفَرَّدَ مُجَالِدٌ بِہَذِہِ اللَّفْظَۃِ۔[صحیح لغیرہ۔ الی قولہ نحلۃ، اخرجہ الطیالسی]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٦) حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ ان کو ان کے باپ نے عطیہ دیا ۔ اس نے ارادہ کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر گواہ بنالیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح عطیہ دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تیرے اوپر حق ہے کہ تو اپنی اولاد کے درمیان عدل کرے۔ جس طرح ان پر حق ہے کہ وہ تیرے ساتھ نیکی کریں۔

12002

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12002

Sahih

(۱۱۹۹۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَتِ امْرَأَۃُ بَشِیرٍ : انْحَلِ ابْنِی غُلاَمَکَ وَأَشْہِدْ عَلَیْہِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ ابْنَۃَ فُلاَنٍتَسْأَلُنِی أَنْ أَنْحَلَ ابْنَہَا غُلاَمِی وَقَالَتْ أَشْہِدْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَلَہُ إِخْوَۃٌ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَکُلَّہُمْ أَعْطَیْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَیْتَہُ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَلَیْسَ یَصْلُحُ ہَذَا وَإِنِّی لاَ أَشْہِدُ عَلَی جَوْرٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔وَرَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زُہَیْرٍ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَإِنِّی لاَ أَشْہِدُ إِلاَّ عَلَی حَقٍّ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٧) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ بشیر کی بیوی نے کہا : میرے بیٹے کو عطیہ دے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر گواہ مقرر کر۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : فلاں کی بیٹی مجھ سے سوال کرتی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو عطیہ دوں اور کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گواہ بناؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں، اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ صحیح نہیں ہے اور نہ میں ظلم پر گواہ بنتا ہوں۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں : میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں۔

12003

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12003

Sahih

(۱۱۹۹۸) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَاصِمٌ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٨) زہیرنے اسی طرح روایت کیا ہے۔

12004

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12004

Sahih

(۱۱۹۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ ْنِ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُہَلَّبِ بْنِ أَبِی صُفْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنِ بَشِیرٍ یَخْطُبُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمُ اعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ ۔ لَفْظُہُمَا سَوَائٌ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٩٩) حضرت نعمان بن بشیر (رض) خطبہ دے رہے تھے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔

12005

Sunan Al Kubra Bayhaqi #12005

Sahih

(۱۲۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَوُّوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ فِی الْعَطِیَّۃِ فَلَوْ کُنْتُ مُفَضِّلاً أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَائَ۔ [صحیح لغیرہ۔ الی کل العطیۃ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٠٠٠) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں برابری کرو اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو فضیلت دیتا۔