Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 35 · Chapter 2498

راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث

محرمات صدقوں کا بیان

16 hadiths in this chapter

11891

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11891

Zaeef

(۱۱۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أُسَامَۃَ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا أَشْہَلُ یَعْنِی ابْنَ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصَابَ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا وَاللَّہِ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ ہُوَ أَنْفَسُ عِنْدِی مِنْہَا فَمَا تَأْمُرُنِی یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِہَا وَحَبَّسْتَ أَصْلَہَا ۔ قَالَ فَجَعَلَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَدَقَۃً لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوہَبُ وَلاَ تُورَثُ تَصَدَّقَ بِہَا عَلَی الْفُقَرَائِ وَلِذَوِی الْقُرْبَی وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَحْسَبُہُ قَالَ : وَالضَّیْفِ وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَیُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بِشْرَانَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ۔ [اخرجہ البخاری ۲۷۳۷۔ مسلم ۴۲۲۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٦) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو چاہے تو پیداوار صدقہ کر دے اور اصل زمین روک لے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ نہ اسے بیچا جائے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ اس کا کوئی وارث بنے گا، اسے فقراء، مساکین، رشتہ داروں، اللہ کے راستے میں اور گردن آزاد کرنے میں صدقہ کیا جائے گا۔ ابن عون کا خیال ہے کہ مہمان اور جو اس کا والی ہو وہ بھی معروف طریقے سے کھالے اور محتاج کو دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

11892

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11892

Sahih

(۱۱۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِی مِنْہُ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا۔ فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ أَنَّہُ لاَ یُبَاعُ أَصْلُہَا وَلاَ یُورَثُ وَلاَ یُوہَبُ لِلْفُقَرَائِ وَالْقُرْبَی وَالرِّقَابِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالضَّیْفِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسی کوئی چیز میرے نزدیک اچھی نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اصل زمین روک لے اور پیداوار صدقہ کردے۔ پس عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اسے نہ بیچا جائے گا نہ اس کا کوئی وارث بنے گا اور نہ ہبہ کی جائے گی۔ فقراء کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، گردن آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے میں، مہمان کے لیے، مسافر کے لیے صدقہ کردیا اور اس کا والی اگر معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج کو کھلا دے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔

11893

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11893

Sahih

(۱۱۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَسْتَأْمِرُہُ فِیہَا فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ ہُوَ أَنْفَسُ عِنْدِی مِنْہُ فَمَا تَأْمُرُ بِہِ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا۔ قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ أَنْ لاَ یُبَاعُ أَصْلُہَا لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُورَثُ وَلاَ یُوہَبُ قَالَ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِی الْفُقَرَائِ وَفِی الْقُرْبَی وَالرِّقَابِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَالضَّیْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا بِالْمَعْرُوفِ وَیُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ ہَذَا الْمَکَانَ غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً قَالَ مُحَمَّدٌ : غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَخْبَرَنِی مَنْ قَرَأَ ہَذَا الْکِتَابَ أَنَّ فِیہِ غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، مشورہ مانگا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے، آپ مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اس کی اصل روک لے اور اس کی پیداوار صدقہ کر دے، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے گا، نہ اس کا کوئی وارث بنے گا، نہ ہبہ کی جائے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فقراء، رشتہ داروں، گردن آزاد کرنے، اللہ کے راستے میں، مسافر اور مہمان کے لیے صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

11894

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11894

Sahih

(۱۱۸۸۹) أَخْبَرنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَیْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِی مِنْہُ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَسْتَأْمِرُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَیْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً أَنْفَسَ عِنْدِی مِنْہُ قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا ۔ فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ عَلَی أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوہَبَ وَلاَ تُورَثَ قَالَ فَتَصَدَّقَ بِہَا فِی الْفُقَرَائِ وَالأَقْرَبِینَ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَفِی الضَّیْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا یَأْکُلُ بِالْمَعْرُوفِ وَیُعْطِی بِالْمَعْرُوفِ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَکَرْتُہُ لاِبْنِ سِیرِینَ فَقَالَ : غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی دَاوُدَ الْحَفَرِیِّ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٩) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا : مجھے خیبر میں زمین ملی، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ مانگا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اس سے پسندیدہ چیز میرے نزدیک کوئی نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اگر تو چاہے تو اس کی پیداوار کو صدقہ کر دے اور اصل زمین اپنے پاس رکھ۔ پس حضرت عمر (رض) نے اس شرط پر صدقہ کردیا کہ نہ بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ وارث بنایا جائے گا، پس فقراء رشتہ دار، اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مسافر، مہمان کے لیے صدقہ کردیا اور کہا جو اس کا والی ہو اگر وہ معروف طریقے سے کھالے یا اپنے محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

11895

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11895

Sahih

(۱۱۸۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادِ بْنِ بِشْرٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ سَہْلٍ التُّسْتَرِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ مَالاً بِخَیْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْہُ فَقَالَ لَہُ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِہِ وَإِنْ شِئْتَ أَمْسَکْتَ أَصْلَہُ ۔ قَالَ فَتَصَدَّقَ بِہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الضُّعَفَائِ وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یُطْعِمْ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ مَالاً أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْہُ مَالاً۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ یُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَیُّوبَ وَعَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ أَیُّوبَ وَأَرْسَلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ حَمَّادٍ وَأَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ آخِرَہُ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ حَمَّادٍ مَوْصُولاً۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اس سے محبوب چیز میرے نزدیک کوئی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : اگر تو چاہے تو صدقہ کر دے اور اصل کو روک لے، پس حضرت عمر (رض) نے کمزوروں، مساکین، مسافر پر صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھالے یا محتاج دوست کو کھلا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

11896

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11896

Sahih

(۱۱۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی ہَارُونُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَہُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ یُقَالُ لَہُ ثَمْغٌ وَکَانَ نَخْلاً فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی اسْتَفَدْتُ مَالاً وَہُوَ عِنْدِی نَفِیسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : تَصَدَّقَ بِأَصْلِہِ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُوہَبُ وَلاَ یُورَثُ وَلَکِنْ یُنْفَقُ ثَمَرُہُ ۔ فَتَصَدَّقَ بِہِ عُمَرُ فَصَدَقَتُہُ ذَلِکَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ وَالْمَسَاکِینِ وَالضَّیْفِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہُ أَنْ یَأْکُلَ مِنْہُ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یُؤْکِلَ صَدِیقَہُ غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ بِہِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ َکَذَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩١) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مال صدقہ کیا، اسے ثمغ کہا جاتا تھا۔ وہ ایک باغ تھا، حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے مال ملا ہے جو بڑا پسندیدہ ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے صدقہ کر دوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اس کی اصل صدقہ کر دے، نہ بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے، نہ وارث بنایا جائے، لیکن اس کا پھل صدقہ کر دے پس حضرت عمر (رض) نے اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مساکین، مہمان، مسافر، رشتہ داروں کے لیے صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ اس سے معروف طریقے سے کھالے یا اپنے دوست کو کھلا دے اور جو محتاج ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

11897

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11897

Sahih

(۱۱۸۹۲) وَبِہَذَا الْمَعْنَی رُوِیَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمَالِہِ الَّذِی بِثَمْغٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : تَصَدَّقَ بِثَمَرِہِ وَاحْبِسْ أَصْلَہُ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُورَثُ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٢) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ کیا، اپنا ثمغ والا مال صدقہ کرنے کے بارے میں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا پھل صدقہ کر دے اور اصل روک لے۔ نہ اسے بیچا جائے اور نہ اس کا وارث بنایا جائے۔

11898

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11898

Sahih

(۱۱۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ صَدَقَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ نَسَخَہَا لِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی ثَمْغٍ أَنَّہُ إِلَی حَفْصَۃَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَہُ حَیْثُ أَرَاہَا اللَّہُ فَإِنْ تُوُفِّیَتْ فَإِنَّہُ إِلَی ذِی الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا لاَ یُشْتَرَی أَصْلُہُ أَبَدًا وَلاَ یُوہَبُ وَمَنْ وَلِیَہُ فَلاَ حَرَجَ عَلَیْہِ فِی ثَمَرِہِ إِنْ أَکَلَ أَوْ آکَلَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً فَما عَفَا عَنْہُ مِنْ ثَمَرِہِ فَہُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالضَّیْفِ وَذَوِی الْقُرْبَی وَابْنِ السَّبِیلِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ تُنْفِقُہُ حَیْثُ أَرَاہَا اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ فَإِنْ تُوُفِّیَتْ فَإِلَی ذِی الرَّأْیِ مِنْ وَلَدِی وَالْمِائَۃُ الْوَسْقِ الَّذِی أَطْعَمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْوَادِی بِیَدِی لَمْ أَہْلِکْہَا فَإِنَّہُ مَعَ ثَمْغٍ عَلَی سُنَتِہِ الَّتِی أَمَرْتُ بِہَا وَإِنْ شَائَ وَلِیُّ ثَمْغٍ اشْتَرَی مِنْ ثَمَرِہِ رَقِیقًا لِعَمَلِہِ۔ وَکَتَبَ مُعَیْقِیبٌ وَشَہِدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الأَرْقَمِ بِسْم اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا مَا أَوْصَی بِہِ عَبْدُ اللَّہِ عُمَرُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ إِنْ حَدَثَ بِہِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا وَصِرْمَۃَ ابْنِ الأَکْوَعِ وَالْعَبْدَ الَّذِی فِیہِ وَالْمِائَۃَ السَّہْمِ الَّذِی بِخَیْبَرَ وَرَقِیقَہُ الَّذِی فِیہِ وَالْمِائَۃَ یَعْنِی الْوَسْقَ الَّذِی أَطْعَمَہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَلِیہِ حَفْصَۃُ مَا عَاشَتْ ثُمَّ یَلِیہِ ذُو الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُشْتَرَی یُنْفِقُہُ حَیْثُ رَأَی مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِی الْقُرْبَی وَلاَ حَرَجَ عَلَی وَلِیِّہِ إِنْ أَکَلَ أَوْ آکَلَ أَوِ اشْتَرَی لَہُ رَقِیقًا مِنْہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٣) حضرت عمر بن خطاب (رض) کا ثمغ والا مال حضرت حفصہ کے لیے تھا، جب تک وہ زندہ رہیں، اس کا پھل خرچ کریں گی، جتنا اللہ نے لگایا، پس اگر وہ فوت ہوجائیں تو وہ ان کے خاندان میں سے زیادہ عقل مند کی طرف منتقل ہوجائے گا، اس کی کبھی نہ بیع نہیں کی جائے گی اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور جو اس کا والی ہوگا، اس پر اس کا پھل کھانا معروف طریقے سے یا اپنے محتاج دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا، جو پھل بچے وہ سائل، محروم، مہمان، رشتہ داروں، مسافر، اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ پس اگر (حفصہ) فوت ہوجائیں تو میری اولاد میں سے عقل مند کی طرف لوٹ جائے گا اور ایک سو وسق جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی میں کھلائے ان کبھی ختم کروں گا اور وہ ثمغ کے ساتھ اسی طریقے پر رہیں گے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ اگر ثمغ کا والی چاہے اس کے پھل سے کام کرنے کے لیے غلام خرید سکتا ہے اور معیقیب نے لکھا : عبداللہ بن ارقم اس پر گواہ تھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ وہ ہے جو اللہ کے بندے عمر نے وصیت کی : اگر وہ فوت ہوجائے بیشک ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور وہ بندہ جو اس میں ہو اور ایک سو حصے خیبر والے اور اس کا غلام اور ایک سو وسق جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلایا، حفصہ کے پاس ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے پھر اس کو ملے کا جو اس کے اہل میں سے عقل مند ہو۔ نہ بیچا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔ وہ اس سے خرچ کرے گا، جب دیکھے گا کہ کوئی سائل، محرم، رشتہ دارہو اور اس کے والی پر کوئی حرج نہیں کہ اس سے کھالے یا کوئی غلام خرید لے۔

11899

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11899

Zaeef

(۱۱۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ : لَمْ یَتْرُکْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ بَغْلَۃً بَیْضَائَ وَسِلاَحًا وَأَرْضًا جَعَلَہَا صَدَقَۃً۔ [ابن الجعد ۲۵۳۴۔ ابن سعد ۲/ ۳۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٤) حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفید خچر اپنی زرع اور زمین ترکہ کے طور پر چھوڑی۔ اس کو صدقہ کردیا گیا۔

11900

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11900

Sahih

(۱۱۸۹۵) وَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا الْفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَخِی امْرَأَتِہِ قَالَ : وَاللَّہِ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دِینَارًا وَلاَ دِرْہَمًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَۃً وَلاَ شَیْئًا إِلاَّ بَغْلَتَہُ الْبَیْضَائَ وَسِلاَحَہُ وَأَرْضًا تَرَکَہَا صَدَقَۃً۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَأَبِی الأَحْوَصِ وَالثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٥) حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار ، نہ غلام، نہ لونڈی اور نہ کوئی اور چیز سوائے سفید خچر کے اور اپنی زرع اور زمین کے اس کو بھی صدقہ کردیا گیا۔

11901

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11901

Zaeef

(۱۱۸۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی نَذِیرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِی الأَحْوَصِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ زِیَادٍ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَعَلَ سَبْعَ حِیطَانٍ لَہُ بِالْمَدِینَۃِ صَدَقَۃً عَلَی بَنِی الْمُطَّلِبِ وَبَنِی ہَاشِمٍ۔ [موضوع]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں سات باغ بنی عبدالمطلب پر اور بنی ہاشم پر صدقہ کیے۔

11902

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11902

Zaeef

(۱۱۸۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ قَطَعَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَنْبُعَ ثُمَّ اشْتَرَی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی قَطِیعَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَشْیَائَ فَحَفَرَ فِیہَا عَیْنًا فَبَیْنَا ہُمْ یَعْمَلُونَ فِیہَا إِذْ تَفَجَّرَ عَلَیْہِمْ مِثْلُ عُنُقِ الْجَزُورِ مِنَ الْمَائِ فَأُتِیَ عَلِیٌّ وَبُشِّرَ بِذَلِکَ قَالَ : بَشِّرِ الْوَارِثَ ثُمَّ تَصَدَّقْ بِہَا عَلَی الْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِینِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ الْقَرِیبِ وَالْبَعِیدِ وَفِی السِّلْمِ وَفِی الْحَرْبِ لِیَوْمٍ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ لِیَصْرِفَ اللَّہُ تَعَالَی بِہَا وَجْہِی عَنِ النَّارِ وَیَصْرِفَ النَّارَ عَنْ وَجْہِی۔ وَرُوِّینَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ أَنَّ عُمَرَ وَعَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَقَفَا أَرْضًا لَہُمَا بَتًا بَتْلاً۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٧) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی (رض) کے لیے جاگیر دی ایک کنواں۔ پھر حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) کی جاگیر بھی خرید لی، اس میں ایک چشمہ بنایا، وہ اس میں کام کر رہے تھے کہ اونٹ کی گردن کی مثل کوئی چیز نکلی۔ اسے حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا اور خوشخبری دی گئی۔ حضرت علی (رض) نے کہا : وارث کو خوشخبری دو ، پھر اس کو فقراء، مساکین، اللہ کے راستے میں، مسافر اگرچہ قریبی ہو یا دور کا، حالت امن میں ہو یا جنگ میں سب کے لیے صدقہ کردیا تاکہ اللہ تعالیٰ میرے چہرے سے آگ پھیر دے۔

11903

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11903

Zaeef

(۱۱۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَافِعٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُاللَّہِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ وَأَحْسَبُہُ قَالَ زَیْدُ بْنُ عَلِیٍّ : أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَصَدَّقَتْ بِمَالِہَا عَلَی بَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ وَأَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقَ عَلَیْہِمْ وَأَدْخَلَ مَعَہُمْ غَیْرَہُمْ۔ [ضعیف۔ الام للشافعی ۴/ ۵۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٨) زید بن علی (رض) فرماتے ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب پر اپنے مال سے صدقہ کیا اور حضرت علی (رض) نے بھی ان پر صدقہ کیا اور ان کے علاوہ اور لوگوں کو بھی شامل کیا۔

11904

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11904

Zaeef

(۱۱۸۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ : أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ قَدْ حَبَسَ دَارَہُ الَّتِی فِی الْبَقِیعِ وَدَارَہُ الَّتِی عِنْدَ الْمَسْجِدِ وَکَتَبَ فِی کِتَابِ حُبْسِہِ عَلَی مَا حَبَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ مَالِکٌ وَحُبْسُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عِنْدِی قَالَ : وَکَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْکُنُ مَنْزِلاً فِی دَارِہِ الَّتِی حَبَسَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ حَتَّی مَاتَ فِیہِ وَقَدْ کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلَ ذَلِکَ حَبَس َدَارَہُ وَکَانَ یَسْکُنُ مَسْکَنًا مِنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٩٩) حضرت زید بن ثابت (رض) نے اپنا وہ گھر رکھ لیا جو بقیع کے پاس تھا اور وہ گھر جو مسجد کے پاس تھا اور حبسہ میں لکھ دیا، جو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے روکا تھا، مالک کہتے ہیں : زید بن ثابت کا لکھا ہواحبس میرے پاس ہے اور زید بن ثابت مسجد کے پاس والے گھر میں رہے، یہاں تک کہ اسی میں فوت ہوئے اور ابن عمر (رض) نے بھی ایسا ہی کیا۔ اپنا گھر روک رکھا جو ان کا مسکن (رہائش) تھا۔

11905

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11905

Zaeef

(۱۱۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمِہْرَجَانِیُّ الْخَطِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیُّ قَالَ وَتَصَدَّقَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ عَلَی وَلَدِہِ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَبْعِہِ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ وَبِالثَّنِیَّۃِ عَلَی وَلَدِہِ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَرْضِہِ بِیَنْبُعَ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ فِی الْحَرَامِیَّۃِ وَدَارِہِ بِمِصْرَ وَأَمْوَالِہِ بِالْمَدِینَۃِ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِالْمَدِینَۃِ وَبِدَارِہِ بِمِصْرَ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرُومَۃَ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْوَہْطِ مِنَ الطَّائِفِ وَدَارِہِ بِمَکَّۃَ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ وَحَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ قَالَ : وَمَا لاَ یَحْضُرُنِی ذِکْرُہُ کَثِیرٌ یُجْزِئُ مِنْہُ أَقُلَّ مِمَّا ذَکَرْتُ قَالَ : وَفِیمَا ذَکَرْتُ مِنْ صَدَقَاتِ مَنْ تَصَدَّقَ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ حُجَّۃٌ لأَہْلِ مَکَّۃَ فِی مِلْکِ بُیُوتِہَا وَکِرَائِ مَنَازِلِہَا لأَنَّہُ لاَ یَعْمِدُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَالزُّبَیْرُ َعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَحَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ إِلَی شَیْئٍ النَّاسُ فِیہِ شَرَعٌ سَوَاء ٌ فَیَتَصَدَّقُونَ بِہِ عَلَی أَوْلاَدِہِمْ دُونَ مَالِکِیہِ مَعَہُمْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٠٠) ابوبکر عبداللہ بن زبیرحمیدی فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنا مکہ والا گھر اپنے بیٹے پر صدقہ کیا۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنی مروہ اور ثنیہ والی جگہ اپنی اولاد پر صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور علی بن ابی طالب نے اپنی کنویں والی زمین صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور زبیر بن عوام (رض) نے اپنا مکہ اور مصر والا گھر اور اپنے مدینہ والے اموال اپنی اولاد پر صدقہ کیے۔ وہ آج تک اسی طرح ہیں اور سعد بن ابی وقاص (رض) نے اپنا مدینہ اور مصر والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور عثمان بن عفان (رض) نے بئر رومہ صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور عمرو بن عاص (رض) نے طائف اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور حکیم بن حزام نے اپنا مدینہ اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے، فرمایا : اور جو مجھے یاد نہیں وہ اس سے زیادہ ہے جو میں نے ذکر کردیا۔ اور جو میں نے ذکر کیا کہ جس نے اپنا گھر صدقہ کردیا مکہ میں اس میں اہل مکہ کے لیے دلیل ہے ان کے گھروں کی ملکیت اور ان کو کرایہ پر دینے کی اس لیے کہ ابوبکر، عمر، زبیر، عثمان عمرو بن عاص، حکیم بن حزام نے کسی چیز کا قصد نہیں کیا انھوں نے صرف اپنی اولاد پر صدقہ کیا نہ مالک بنایا۔

11906

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11906

Zaeef

(۱۱۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ ثُمَامَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّہُ وَقَفَ دَارًا بِالْمَدِینَۃِ فَکَانَ إِذَا حَجَّ مَرَّ بِالْمَدِینَۃِ فَنَزَلَ دَارَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٩٠١) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے مدینہ میں اپنا گھر صدقہ کیا جب وہ حج کے لیے آتے تو اپنے گھر میں ٹھہر جاتے۔