Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 34 · Chapter 2497

غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان

جس نے لوگوں کا فیصلہ ان کی بہتری کے پیش نظر کیا اور کوشش کرکے ان سے نقصان کو دور کیا

9 hadiths in this chapter

11882

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11882

Sahih

(۱۱۸۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ یَحْیَی بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَضَی أَنْ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٧٧) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا کہ نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ انتقاماً کسی کو نقصان دو ۔

11883

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11883

Sahih

(۱۱۸۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہُ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ ضَرَرَ وَلاَإِضِرَارَ ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٧٨) عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ انتقاماً کسی کو نقصان دو ۔

11884

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11884

Sahih

(۱۱۸۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَمْنَعُ أَحَدُکُمْ جَارَہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبَہُ فِی جِدَارِہِ ۔ قَالَ ثُمَّ یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : مَا لِی أَرَاکُمْ عَنْہَا مُعْرِضِینَ وَاللَّہِ لأَرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ مالک ۱۴۶۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٧٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار پر شہیتر رکھنے سے نہ روکے۔ پھر ابو یرہرہ نے کہا : میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اس سے اعراض کیوں کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں تو اس بات کا اعلان کرتا رہوں گا۔

11885

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11885

Sahih

(۱۱۸۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہُرْمُزَ ہُوَ الأَعْرَجُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ سَأَلَہُ جَارُہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبَہُ فِی جِدَارِہِ فَلاَ یَمْنَعْہُ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے ہمسائے سے اس کی دیوار پر شہتیر رکھنے کی اجازت مانگے تو وہ منع نہ کرے۔

11886

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11886

Zaeef

(۱۱۸۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَنَّ ہِشَامَ بْنَ یَحْیَی أَخْبَرَہُ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّ أَخَوَیْنِ مِنْ بَنِی الْمُغِیرَۃِ أَعْتَقَ أَحَدُہُمَا أَنْ لاَ یَغْرِزَ الآخَرَ خَشَبًا فِی جُدُرِہِ فَلَقِیَا مُجَمِّعَ بْنَ یَزِیدَ الأَنْصَارِیَّ وَرِجَالاً کَثِیرًا مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالُوا : نَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمْرَ أَنْ لاَ یَمْنَعَ جَارٌ جَارَہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبًا فِی جِدَارِہِ فَقَالَ الْحَالِفُ : أَیْ أَخِی قَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُ یَقْضِی لَکَ عَلَیَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جُدُرِی فَفَعَلَ الآخَرُ فَغَرَزَ فِی الأُسْطُوَانَ خَشَبَہُ قَالَ لِی عَمْرٌو : فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَی ذَلِکَ۔ [ضعیف۔الطبری فی تہذیب الاثار ۱۱۶۲۔۱۱۶۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨١) عکرمہ بن سلمۃ بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ بنی مغیر ہ کے دو بھائیوں میں سے ایک نے دوسرے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کردیا۔ وہ دونوں مجمع بن یزید کو ملے اور انصار کے اور بھی لوگ تھے۔ انھوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے کہ آدمی اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کرے تو قسم کھانے والے بھائی نے کہا : اے میرے بھائی ! میں نے جان لیا کہ فیصلہ تیرے حق میں ہے۔ پس تو میری دیوار کے علاوہ ستون بنالے پس دوسرے نے ایسا ہی کیا۔ اس نے ستون میں لکڑی گاڑدی۔ عمرو نے کہا : میں نے یہ بھی دیکھا ہے۔

11887

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11887

Sahih

(۱۱۸۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ خَلِیفَۃَ سَاقَ خَلِیجًا لَہُ مِنَ الْعُرَیْضِ فَأَرَادَ أَنْ یُمِرَّہُ فِی أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ فَأَبَی مُحَمَّدٌ فَکَلَّمَ فِیہِ الضَّحَّاکُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَأَمَرَہُ أَنْ یُخَلِّیَ سَبِیلَہُ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : لاَ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لِمَ تَمْنَعُ أَخَاکَ مَا یَنْفَعُہُ وَہُوَ لَکَ نَافِعٌ تَشْرَبُ بِہِ أَوَلاً وَآخِرًا وَلاَ یَضُرُّکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ : لاَ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : َاللَّہِ لَیَمُرَّنَ بِہِ وَلَوْ عَلَی بَطْنِکَ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ أَیْضًا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ وَہُوَ أَیْضًا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِیَ فِی مَعْنَاہُ حَدِیثٌ مَرْفُوعٌ۔ [صحیح۔ مالک ۱۴۳۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٢) سیدنا عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ضحاک بن خلیفہ نے اپنے لیے چوڑائی میں ایک چھوٹی نہر (نالہ) کھود دی اور اس کی زمین سے گزارنے کا ارادہ کیا تو محمد بن مسلمہ نے انکار کردیا۔ اس (معاملے ) کی خبر ضحاک نے سیدنا عمر بن خطابب (رض) کو دی۔ انھوں نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور حکم دیا کہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دے۔ محمد بن مسلمہ نے انکار کردیا تو سیدنا عمر نے کہا کہ تو اپنے بھائی کو اس چیز سے کیوں روکتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہے اور تیرے لیے بھی۔ اول تو بھی اس سے پیے گا (کھیتی کو پلائے گا ) تیرے لیے یہ نقصان دہ نہیں۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : نہیں، یعنی انکار کیا تو حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ اس (نہر) کو ضرور گزارے گا اگرچہ تیرے پیٹ سے گزرے۔

11888

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11888

Zaeef

(۱۱۸۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ : مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ یُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِی حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ وَمَعَ الرَّجُلِ أَہْلُہُ وَکَانَ سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ یَدْخُلُ إِلَی نَخْلِہِ فَیَتَأَذَّی بِہِ وَیَشُقُّ عَلَیْہِ فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یَبِیعَہُ فَأَبَی فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یُنَاقِلَہُ فَأَبَی فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَطَلَبَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَبِیعَہُ فَأَبَی فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یُنَاقِلَہُ فَأَبَی قَالَ فَہَبْہُ لِی وَلَکَ کَذَا وَکَذَا ۔ أَمْرٌ رَغَّبَہُ فِیہِ فَأَبَی فَقَالَ : أَنْتَ مُضَارٌّ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلأَنْصَارِیِّ : اذْہَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَہُ ۔وَقَدْ رُوِیَ فِی مُعَارَضَتِہِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ لاَ یُجْبَرُ عَلَیْہِ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۳۶۳۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٣) حضرت سمرۃ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے بھی چند درخت تھے اور اس کے ساتھ اہل و عیال بھی تھے اور سمرۃ جب باغ میں داخل ہوتے تو اس آدمی پر مشکل اور گراں گزرتا۔ اس نے سمرۃ سے کہا کہ وہ درخت بیچ دیں لیکن سمرۃ نے انکار کردیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور ذکر کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی سمرۃ سے کہا : بیچ دو لیکن سمرۃ نے انکار کردیا۔ پھر اس سے بدل کے طور پر مانگے۔ سمرۃ نے پھر انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تو نقصان پہنچانے والا ہے۔ پھر انصاری سے کہا : جا اور اس کے درختوں کو اکھاڑ دے۔

11889

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11889

Zaeef

(۱۱۸۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ لِفُلاَنٍ فِی حَائِطِی عَذْقًا وَقَدْ آذَانِی وَشَقَّ عَلَیَّ مَکَانُ عَذْقِہِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : بِعْنِی عَذْقَکَ الَّذِی فِی حَائِطِ فُلاَنٍ ۔قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَہَبْہُ لِی ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : فَبِعْنِیہِ بِعَذْقٍ فِی الْجَنَّۃِ۔ قَالَ: لاَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: مَا رَأَیْتُ أَبْخَلَ مِنْکَ إِلاَّ الَّذِی یَبْخَلُ بِالسَّلاَمِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٤) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ فلاں آدمی کے میرے باغ میں درخت ہیں اور وہ مجھے تکلیف دیتا ہے اور میرے اوپر گراں گزرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور کہا : مجھے وہ درخت بیچ دے جو فلاں کے باغ میں ہیں۔ اس نے انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ھبہ کر دے، اس نے اس سے بھی انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جنت میں درختوں کے بدلے مجھے بیچ دے۔ اس نے پھر انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھ سے زیادہ بخیل نہیں دیکھا مگر وہ شخص جو سلام کہنے میں بخل سے کام لے۔

11890

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11890

Sahih

(۱۱۸۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَوَّلَ شَیْئٍ عَتَبَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَبِی لُبَابَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّہُ خَاصَمَ یَتِیمًا لَہُ فِی عَذْقِ نَخْلَۃٍ فَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی لُبَابَۃَ بِالْعَذْقِ فَضَجَّ الْیَتِیمُ وَاشْتَکَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی لُبَابَۃَ : ہَبْ لِی ہَذَا الْعَذْقَ یَا أَبَا لُبَابَۃَ لِکَیْ نَرُدَّہُ إِلَی الْیَتِیمِ ۔ فَأَبَی أَبُو لُبَابَۃَ أَنْ یَہَبَہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا أَبَا لُبَابَۃَ أَعْطِہِ ہَذَا الْیَتِیمَ وَلَکَ مِثْلُہُ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَأَبَی أَبُو لُبَابَۃَ أَنْ یُعْطِیَہُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنِ ابْتَعْتُ ہَذَا الْعَذْقَ فَأَعْطَیْتُ الْیَتِیمَ أَلِی مِثْلُہُ فِی الْجَنَّۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ فَانْطَلَقَ الأَنْصَارِیُّ وَہُوَ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ حَتَّی لَقِیَ أَبَا لُبَابَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا لُبَابَۃَ أَبْتَاعُ مِنْکَ ہَذَا الْعَذْقَ بِحَدِیقَتِی ۔ وَکَانَتْ لَہُ حَدِیقَۃُ نَخْلٍ فَقَالَ أَبُو لُبَابَۃَ : نَعَمْ فَابْتَاعَہُ مِنْہُ بِحَدِیقَۃٍ فَلَمْ یَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ إِلاَّ یَسِیرًا حَتَّی جَائَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ یَوْمَ أُحُدٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَاتَلَہُمْ فَقُتِلَ شَہِیدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : رُبَّ عَذْقٍ مُذَلَّلٍ لاِبْنِ الدَّحْدَاحَۃِ فِی الْجَنَّۃِ ۔ (ق) وَأَمَّا حَدِیثُ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ فَہُوَ مُرْسَلٌ وَہُوَ مُشْتَرِکُ الدِّلاَلَۃِ وَأَمَّا حَدِیثُ الْخَشَبَۃِ فَمِنَ الْعُلَمَائِ مَنْ حَمَلَہُ عَلَی ظَاہِرِہِ لِحَمْلِ رَاوِیہِ عَلَی الْوُجُوبِ کَمَا تَرَی وَلَمْ أَجِدْ لِلشَّافِعِیِّ قَوْلاً یُخَالِفُہُ بَلْ قَدْ نَصَّ فِی الْقَدِیمِ وَالْجَدِیدِ عَلَی مَا یُوَافِقُہُ وَأَمَّا حَدِیثُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدْ خَالَفَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَقَدْ نَجِدُ مَنْ یَدَعُ الْقَوْلَ بِہِ عُمُومًا فِی أَنَّ کُلَّ مُسْلِمٍ أَحَقُّ بِمَالِہِ فَیَتَوَسَّعُ بِہِ فِی خِلاَفِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَأَحْسَبُ قَضَائَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ مِنْ بَعْضِ ہَذِہِ الْوُجُوہِ الَّتِی مَنَعَ فِیہَا الضَّرَرَ بِالْمَرْأَۃِ إِذَا کَانَ الضَّرَرُ عَلَیْہَا أَبْیَنَ قَالَ فِی الْجَدِیدِ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : امْرَأَۃٌ ابْتُلِیَتْ فَلْتَصْبِرْ لاَ تُنْکَحُ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا نَقُولُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٨٥) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں : پہلی چیز جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو لبابہ کو ڈانٹ پلائی وہ اس طرح کہ ابو لبابہ کا ایک یتیم سے باغ کے درختوں میں جھگڑا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درختوں کا فیصلہ ابو لبابہ کے حق میں کردیا۔ یتیم پریشان ہوا اور اس نے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو لبابہ سے کہا : اے ابو لبابہ ! مجھے ھبہ کر دے تاکہ ہم یتیم کو دے دیں۔ ابو لبابہ نے ھبہ کرنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے ابو لبابہ ! اس یتیم کو دے دو تیرے لیے جنت میں اس کی مثل ہوگا۔ ابو لبابہ نے انکار کردیا۔ ایک انصاری آدمی نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں خرید لوں اور یتیم کو دے دوں تو میرے لیے بھی جنت میں اسی طرح کے درخت ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں میں جواب دیا۔ وہ انصاری صحابی جن کا نام ابو دحداحہ تھا۔ ابو لبابہ کو ملے اور کہا : اے ابو لبابہ ! یہ باغ میرے باغ کے بدلے میں مجھے بیچ دو اور ابو دحداحہ کا کھجوروں کا باغ تھا۔ ابو لبابہ نے بیچ دیا۔ ابودحداحہ زیادہ دیر زندہ نہ رہے، بلکہ جنگِ احد میں شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتنے ہی خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔