Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 34 · Chapter 2483

غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان

چراگاہ کا بیان

7 hadiths in this chapter

11810

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11810

Zaeef

(۱۱۸۰۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ وَعُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔ قَالَ وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَمَی النَّقِیعَ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَی الشَّرَفَ وَالرَّبَذَۃَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عُبَیْدٍ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ہَکَذَا۔ [بخاری ۲۳۷۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٠٥) حضرت صعب بن جثامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چراگاہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔ راوی کہتے : ہمیں پتا چلا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نقیع کی چراگاہ تیار کروائی اور حضرت عمر (رض) نے شرف اور ربذہ کی چراگاہ تیار کی۔ زہری کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ تیار کرائی۔

11811

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11811

Sahih

(۱۱۸۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ قَالَ الزُّہْرِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ کَانَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِمًی بَلَغَنِی أَنَّہُ کَانَ یَحْمِیہِ لإِبِلِ الصَّدَقَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبد الر زاق ۱۹۷۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٠٦) صعب بن جثامہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہچراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔

11812

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11812

Sahih

(۱۱۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَنٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاہَانَ الْخَرَّازُ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَمَی النَّقِیعَ وَقَالَ : لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ : ہَذَا وَہَمٌ قَالَ الشَّیْخُ لأَنَّ قَوْلَہُ حَمَی النَّقِیعَ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٠٧) صعب بن جثامہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سناکہچراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔

11813

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11813

Zaeef

(۱۱۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- حَمَی النَّقِیعَ لِخَیْلِ الْمُسْلِمِینَ تَرْعَی فِیہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٠٨) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نقیع کی چراگاہ مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے تیار کروائی کہ وہ اس میں چریں گے۔

11814

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11814

Zaeef

(۱۱۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًی لَہُ یُدْعَی ہُنَیًّا عَلَی الْحِمَی فَقَالَ لَہُ : یَا ہُنَیُّ اضْمُمْ جَنَاحَکَ عَنِ الْمُسْلِمِینَ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ مُجَابَۃٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَیْمَۃِ وَالْغُنَیْمَۃِ وَإِیَّایَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّہُمَا إِنْ تَہْلِکْ مَاشِیَتُہُمَا یَرْجِعَانِ إِلَی نَخْلٍ وَزَرْعٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَیْمَۃِ وَالْغُنَیْمَۃِ إِنْ تَہْلِکْ مَاشِیَتُہُمَا یَأْتِینِی بِبَیِّنَۃٍ فَیَقُولُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَفَتَارِکُہُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَکَ فَالْمَائُ وَالْکَلأُ أَیْسَرُ عَلَیْکَ مِنَ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ وَایْمُ اللَّہِ إِنَّہُمْ یَرَوْنَ أَنِّی قَدْ ظَلَمْتُہُمْ إِنَّہَا لَبِلاَدُہُمْ قَاتَلُوا عَلَیْہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَسْلَمُوا عَلَیْہَا فِی الإِسْلاَمِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِی أَحْمِلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَا حَمَیْتُ عَلَی النَّاسِ فِی بِلاَدِہِمْ شِبْرًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [بخاری ۳۰۵۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨٠٩) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ھنی نامی غلام کو (سرکاری ) چراگاہ کا حاکم بنایا تو انھیں یہ ہدایت کی کہ اے ھنی ! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا ) اور مظلوم کی بدعا سے ہر وقت بچتے رہنا، کیونکہ مظلوم کی بدعا قبول ہوتی ہے اور ابن عوف اور ابن عفان (امیر) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہیے، (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انھیں مقدم نہ رکھنا ) ؛کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہوجائیں گے تو یہ امیر لوگ اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہوگئے تو وہ اپنے بچوں کو میرے پاس لائے گا اور فریاد کرے گا : یا امیر المومنین ! کیا میں انھیں چھوڑ دوں ؟ اس لیے (پہلے ہی سے ) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کردینا، میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں اور خدا کی قسم وہ (اہل مدینہ ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ کیونکہ یہ زمینیں انہی کی ہیں، انھوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ان کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال (گھوڑے) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقہ میں ایک بالشت زمین کو بھی چراگاہ نہ بناتا۔

11815

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11815

Sahih

(۱۱۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ وَفْدَ أَہْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا فَاسْتَقْبَلَہُمْ فَلَمَّا سَمِعُوا بِہِ أَقْبَلُوا نَحْوَہُ قَالَ وَکَرِہَ أَنْ یَقْدَمُوا عَلَیْہِ الْمَدِینَۃَ فَأَتَوْہُ فَقَالُوا لَہُ : ادْعُ بِالْمُصْحَفِ وَافْتَتَحِ السَّابِعَۃَ وَکَانُوا یُسَمُّونَ سُورَۃَ یُونُسَ السَّابِعَۃَ فَقَرَأَہَا حَتَّی أَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللَّہِ تَفْتَرُونَ} قَالُوا لَہُ : قِفْ أَرَأَیْتَ مَا حَمَیْتَ مِنَ الْحِمَی آللَّہُ أَذِنَ لَکَ أَمْ عَلَی اللَّہِ تَفْتَرِی فَقَالَ : امْضِہِ نَزَلَتْ فِی کَذَا وَکَذَا فَأَمَّا الْحِمَی فَإِنَّ عُمَرَ حَمَی الْحِمَی قَبْلِی لإِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا وَلَّیْتُ زَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَۃِ فَزِدْتُ فِی الْحِمَی لَمَّا زَادَ فِی الصَّدَقَۃِ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۳۷۶۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨١٠) ابو اسید انصاری فرماتے ہیں : میں نے عثمان بن عفان (رض) سے سنا کہ اہل مصر کا وفد آیا تو حضرت عثمان (رض) نے ان کا استقبال کیا۔ جب انھوں نے سنا تو وہ بھی متوجہ ہوئے اور حضرت عثمان (رض) نے ان کا مدینہ آنا بھی مکروہ خیال کیا۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : مصحف منگواؤ اور ساتویں سورت کی تلاوت کرو اور سابقہ سو رہ یونس کا نام لیتے تھے۔ آپ نے تلاوت شروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچے :{ قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللَّہِ تَفْتَرُونَ } کہہ دیں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل کیا پس تم نے اپنی مرضی سے حلال اور حرام بنالیا ہے کہہ دیں : کیا اللہ نے تم کو اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ [یونس ٥٩] انھوں نے عثمان سے کہا : ٹھہر جاؤ آپ کا کیا خیال ہے آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے ؟ کیا اللہ نے آپ کو اجازت دی ہے یا تم نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، آپ نے کہا : رک جاؤ یہ آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس رہا چراگاہ کا معاملہ تو حضرت عمر (رض) نے مجھ سے پہلے صدقہ کے اونٹوں کے لیے بنائی تھی۔ پس جب میں متوجہ ہوا تو صدقہ کے اونٹ بھی زیادہ ہوگئے اس لیے میں نے چراگاہ میں زیادتی کردی۔

11816

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11816

Zaeef

(۱۱۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی یَعْفُورٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : اشْتَرَیْتُ إِبِلاً وَارْتَجَعْتُہَا إِلَی الْحِمَی فَلَمَّا سَمِنَتْ قَدِمْتُ بِہَا قَالَ : فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ السُّوقَ فَرَأَی إِبِلاً سِمَانًا فَقَالَ : لِمَنْ ہَذِہِ الإِبِلُ؟ قِیلَ : لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَعَلَ یَقُولُ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ بَخٍ بَخٍ ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ فَجِئْتُہُ أَسْعَی فَقُلْتُ : مَا لَکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : مَا ہَذِہِ الإِبِلُ؟ قَالَ قُلْتُ : إِبِلٌ أَنْضَائٌ اشْتَرَیْتُہَا وَبَعَثْتُ بِہَا إِلَی الْحِمَی أَبْتَغِی مَا یَبْتَغِی الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَقَالَ : ارْعُوا إِبِلَ ابْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اسْقُوا إِبِلَ ابْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ اغْدُ عَلَی رَأْسِ مَالِکَ وَاجْعَلْ بَاقِیَہُ فِی بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ۔ [ضعیف] (ق) ہَذَا الأَثَرُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ غَیْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْسَ لَہُ أَنْ یَحْمِیَ لِنَفْسِہِ وَفِیہِ وَفِیمَا قَبْلَہُ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ -ﷺ-: لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَرَسُولِہِ ۔أَرَادَ بِہِ َحِمَی إِلاَّ عَلَی مِثْلِ مَا حَمَی عَلَیْہِ رَسُولُہُ فِی صَلاَحِ الْمُسْلِمِینَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٨١١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے اونٹ خریدا اور اسے چراگاہ کی طرف لوٹا دیا۔ جب وہ موٹا تازہ ہوگیا تو میں لے آیا پس عمر بن خطاب آئے، بازار میں اونٹ دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا اونٹ ہے ؟ کہا گیا : عبداللہ بن عمر (رض) کا۔ آپ کہنے لگے : واہ امیر المومنین کے بیٹے ! ابن عمر کہتے ہیں : میں دوڑتا ہوا آیا، میں نے پوچھا : امیر المومنین کیا بات ہے ؟ کہا : یہ اونٹ کس کا ہے ؟ میں نے کہا : اسے میں نے خریدا اور چراگاہ کی طرف بھیج دیا، جس طرح دوسرے مسلمان کرتے تھے۔ آپ نے کہا : (انہوں نے) کہا ہوگا امیرالمومنین کے بیٹے کے اونٹ کو چراؤ، امیرالمومنین کے بیٹے کے اونٹ کو پلاؤ، پھر کہا : اے ابن عمر اپنی اصل رقم لے لو اور باقی بیت المال میں داخل کر دو ۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے خاص چراگاہ بنائے اور اس میں اور پہلے اثروں میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان چراگاہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے اس سے مراد جو مسلمانوں کی اصلاح کے لیے چراگاہ ہو۔