Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 667

نماز کا بیان

سجدے کی جگہ میں پھونک مارنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

3362

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3362

Sahih

(۳۳۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ صَلاَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِی آخِرِ سُجُودِہِ فَقَالَ: أُفٍّ أُفٍّ۔ ثُمَّ قَالَ: ((رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِی أَلاَّ تُعَذِّبَہُمْ وَأَنَا فِیہِمْ ، أَلَمْ تَعِدْنِی أَنْ لاَ تُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ))۔فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ صَلاَتِہِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالَّذِی یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا نَفْخًا یُشْبِہُ الْغَطِیطَ ، وَذَلِکَ لَمَّا عُرِضَ عَلَیْہِ مِنْ تَعْذِیبِ بَعْضِ مَنْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْعَذَابُ ، فَلَیْسَ غَیْرُہُ فِی التَّأْفِیفِ فِی الصَّلاَۃِ کَہُوَ بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی -ﷺ- کَمَا لَمْ یَکُنْ کَہُوَ فِی رُؤْیَۃِ مَا رَأَی مِنْ تَعْذِیبِہِمْ۔ وَقَدْ رَوَاہُ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ عَطَائٍ فَقَالَ: وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِی آخِرِ سُجُودِہِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ وَیَبْکِی ، وَلَمْ یَذْکُرِ التَّأْفِیفَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو فَذَکَرَ النَّفْخَ دُونَ التَّأْفِیفِ۔ وَزَعَمَ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّ قَوْلَہُ أُفٍّ لاَ یَکُونُ کَلاَمًا حَتَّی یُشَدِّدَ الْفَائَ فَتَکُونَ ثَلاَثَۃَ أَحْرُفٍ مِنَ التَّأْفِیفِ، قَالَ وَالنَّافِخُ لاَ یُخْرِجُ الْفَائَ فِی نَفْخِہِ مُشَدَّدَۃٌ وَلاَ یَکَادُ یُخْرِجُہَا فَائً صَادِقَۃً مِنْ مَخْرَجِہَا۔ [صحیح۔ وسیاتی تخریجہ مستو فی فی کتاب صلاۃ الکسوف ان شاء اللہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦٢) (ا) عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کیا کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخری سجدوں کے بعد پھونک ماری اور فرمایا : ” اُف اُف “ پھر فرمایا : میرے پروردگار ! کیا آپ نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک میں ان میں ہوں، آپ انھیں عذاب نہیں دیں گے ؟ کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے ۔ آپ انھیں عذاب نہیں دیں گے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا۔ (ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : شاید یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ ہو؛ اس لیے کہ اس وقت آپ کے سامنے ایسے مناظر لائے گئے جن میں عذاب دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ نماز میں کسی کے لیے ” اف اف “ کہنا جائز نہیں ہے۔ جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے نہیں کہ خواب میں ہوں اور آپ نے ان کے عذاب کو دیکھا ہو۔ (ج) عبدالعزیز بن عبدالصمد عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو رہے تھے۔ انھوں نے ” اف اف “ کا ذکر نہیں کیا۔ (د) ابواسحق سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے ” تافیف “ کی جگہ ” نفح “ کا ذکر کیا۔ (ر) ابو سلیمان خطابی (رح) کا دعویٰ ہے کہ ” اف “ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک ” فا “ مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب ” تافیف “ سے تین حرف ہوجائیں گے، انھوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فا مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔

3363

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3363

Sahih

(۳۳۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَۃَ فَدَخَلَ عَلَیْہَا ذُو قَرَابَۃٍ لَہَا شَابٌّ ذُو جُمَّۃٍ ، فَقَامَ یُصَلِّی وَیَنْفُخُ فَقَالَتْ: یا بُنَیَّ لاَ تَنْفُخْ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ: ((أَیْ رَبَاحُ تَرِّبْ وَجْہَکَ))۔ وَہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الأَئِمَّۃِ نَحْوَ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مَیْمُونٍ أَبِی حَمْزَۃَ۔وَلَمْ أَکْتُبْہُ مِنْ حَدِیثِ غَیْرِہِ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ وَرُوِیَ فِی حَدِیثٍ آخَرَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا وَہُوَ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی ۳۸۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦٣) ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ میں ام سلمہ (رض) کے پاس تھا، ان کے پاس ان کا کوئی قریبی رشتہ دار آیا۔ اس کے ساتھ اس کا نوجوان بیٹا تھا جس کی پیشانی کے بال گھنے تھے وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا اور پھونکنے لگا تو انھوں نے فرمایا : میرے بیٹے ! پھونکیں مت مار۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حبشی غلام کو کہتے ہوئے سنا کہ اے نوجوان ! اپنے چہرے کو مٹی لگا (یعنی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ) ۔

3364

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3364

Sahih

(۳۳۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ کَانَ یَخْشَی أَنْ یَکُونَ کَلاَمًا یَعْنِی النَّفْخَ فِی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَالنَّفْخُ لاَ یَکُونُ کَلاَمًا إِلاَّ إِذَا بَانَ مِنْہُ کَلاَمٌ لَہُ ہِجَائٌ ، وَأَمَّا إِذَا لَمْ یُفْہَمْ مِنْہُ کَلاَمٌ لَہُ ہِجَائٌ فَلاَ یَکُونُ کَلاَمًا۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۳۰۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦٤) (ا) عبداللہ بن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ ڈرتے تھے کہ ایسا کلام نہ کریں یعنی نماز میں پھونک مارنا۔ (ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : صرف پھونک کلام نہیں ہوتی البتہ اس سے کوئی ایسا کلام ظاہر ہو جس سے لفظ بنتا ہو۔ اگر اس سے کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو وہ کلام نہیں ہوتا۔

3365

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3365

Zaeef

(۳۳۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ الأَبْرَشُ قَالَ حَدَّثَنِی أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ قُلْتُ لِقُدَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ الْکِلاَبِیِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- :إِنَّا نَتَأَذَّی بِرِیشِ الْحَمَامِ فِی مَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا سَجَدْنَا۔فَقَالَ: انْفُخُوا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن معین فی تاریخ: ۳/ ۴۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦٥) ایمن بن نابل بیان کرتے ہیں کہ میں نے قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی (رض) سے کہا : ہم مسجد حرام میں جب سجدہ کرتے ہیں تو حمام کے بالوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا : پھونک مار لیا کرو۔