Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 666

نماز کا بیان

نماز میں ہنسنے یا مسکرانے کا حکم

3 hadiths in this chapter

3359

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3359

Sahih

(۳۳۵۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: التَّبَسُّمُ لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ وَلَکِنِ الْقَرْقَرَۃُ۔ ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ۔ وَقَدْ رَفَعَہُ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاہِدُ وَہُوَ وَہَمٌ مِنْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۴۷۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٥٩) جابر بیان کرتے ہیں کہ تبسم سے نماز نہیں ٹوٹتی بلکہ کھلکھلا کر ہنسنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔

3360

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3360

Zaeef

(۳۳۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی الزَّاہِدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ الْکَشْرُ وَلَکِنْ یَقْطَعُہَا الْقَرْقَرَۃُ))۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی التَّبَسُّمِ فِی الصَّلاَۃِ حَدِیثٌ آخَرُ لاَ یُحْتَجُّ بِأَمْثَالِہِ۔ [منکر۔ وقد مضی فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦٠) جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسکرانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن قہقہہ لگانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

3361

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3361

Zaeef

(۳۳۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی أَخْبَرَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِیُّ حَدَّثَنَا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِی صَلاَتِہِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ رَأَیْنَاکَ تَبَسَّمْتَ۔قَالَ: ((مَرَّ بِی مِیکَائِیلُ وَعَلَی جَنَاحِہِ أَثَرُ غُبَارٍ وَہُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِکَ إِلَیَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَیْہِ))۔ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَیْلِیُّ الْجَزَرِیُّ تَکَلَّمُوا فِیہِ۔ وَقَدْ حَکَاہُ الْوَاقِدِیُّ فِی الْمَغَازِی۔ وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ: فِی مَنْ ضَحِکَ فِی الصَّلاَۃِ یُعِیدُ الصَّلاَۃَ وَلاَ یُعِیدُ الْوُضُوئَ۔ وَرَوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی قِصَّۃٍ مَحْکِیَّۃٍ عَنْہُ: مَنْ کَانَ ضَحِکَ مِنْکُمْ فَلْیُعِدِ الصَّلاَۃَ۔ وَیُذْکَرُ مِثْلُ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ۔ [ضعیف جدا۔ اخرجہ ابو یعلی ۲۰۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٣٦١) (ا) جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوران نماز مسکرائے۔ جب آپ نے نماز اپنی مکمل کی تو ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس سے میکائیکل (علیہ السلام) گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آرہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔ (ب) ہم کتاب الطہارہ میں ابوسفیان سے جابر (رض) کی روایت بیان کرچکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا۔ یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ (ج) ہم ابو موسیٰ اشعری (رض) سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کرچکے ہیں کہ تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔ اسی طرح کی روایت ابن مسعود (رض) سے بھی ہے۔