Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 648

نماز کا بیان

اگر کپڑا زیادہ ہو تو اسے لپیٹ لے اور اگر کم ہے تو تہبند باندھ لے، نماز کے لیے کافی ہے

3 hadiths in this chapter

3288

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3288

Sahih

(۳۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ: أَنَّہُ أَتَی جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَنَفَرٌ قَدْ سَمَّاہُمْ - قَالَ - فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَیْہِ وَجَدْنَاہُ یُصَلِّی فِی ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِہِ وَرِدَاؤُہُ قَرِیبًا مِنْہُ ، لَوْ تَنَاوَلَہُ بَلَغَہُ - قَالَ - فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاہُ عَنْ صَلاَتِہِ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ: أَفْعَلُ ہَذَا لِیَرَانِی الْحَمْقَی أَمْثَالُکُمْ فَیَفْشُونَ عَنْ جَابِرٍ رُخْصَۃً رَخَّصَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِنِّی خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ ، فَجِئْتُہُ لَیْلَۃً لِبَعْضِ أَمْرِی فَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی وَعَلَیَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فَاشْتَمَلْتُ بِہِ وَصَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِہِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((مَا السُّرَی یَا جَابِرُ؟))۔فَأَخْبَرْتُہُ بِحَاجَتِی قَالَ: ((یَا جَابِرُ مَا ہَذَا الاِشْتِمَالُ الَّذِی رَأَیْتُ؟))۔فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَیِّقًا۔فَقَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتَ وَعَلَیْکَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فَإِنْ کَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِہِ ، وَإِنْ کَانَ ضَیِّقًا فَاتَّزِرْ بِہِ))۔ قَالَ الشَّیْخُ: فِی کِتَابِی سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ بِخَطِّ الشِّیرَازِیِّ وَالصَّوَابُ سَعِیدُ بْنُ الْحَارِثِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَیْحٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۰۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٢٨٨) سعید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ہم جماعت کی صورت میں حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ایک ہی کپڑا لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر ان کے پاس ہی پڑی تھی ، اگر وہ اس کو لینا چاہتے تو لے سکتے تھے۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے ان کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ کسی سفر میں تھا تو میں رات کے وقت کسی ذاتی کام کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایک ہی کپڑا تھا تو میں نے اس کپڑے کو لپیٹ لیا اور ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : اے جابر ! رات کے وقت کیسے آنا ہوا ؟ تو میں نے اپنی حاجت آپ کے سامنے بیان کردی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جابر ! یہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کپڑا ایک تھا اور تنگ بھی تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تیرے پاس صرف ایک کپڑا ہو، اگر وہ بڑا ہو تو اس کو لپیٹ لے اور اگر وہ تنگ ہو تو تہبند باندھ لے۔

3289

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3289

Sahih

(۳۲۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ مِہْرَانَ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ أَبِی حَزْرَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فِی مَسْجِدِہِ وَہُوَ یُصَلِّی فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِہِ ، فَتَخَطَّیْتُ الْقَوْمَ حَتَّی جَلَسْتُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ أَتُصَلِّی فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَہَذَا إِزَارُکَ إِلَی جَنْبِکَ؟ فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیَّ الأَحْمَقُ مِثْلُکَ فَیَرَانِی کَیْفَ أَصْنَعُ فَیَصْنَعُ مِثْلَہُ۔فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلاً وَفِیہِ: قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی یُصَلِّی وَکَانَتْ عَلَیَّ بُرْدَۃٌ ذَہَبْتُ أُخَالِفُ بَیْنَ طَرَفَیْہَا ، فَلَمْ تَبْلُغْ لِی وَکَانَتْ لَہَا ذَبَاذِبٌ فَنَکَّسْتُہَا ، ثُمَّ خَالَفْتُ بَیْنَ طَرَفَیْہَا ، ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَیْہَا ، فَجِئْتُ حَتَّی قُمْتَ عَنْ یَسَارِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخَذَ بِیَدِی فَأَدَارَنِی حَتَّی أَقَامَنِی عَنْ یَمِینِہِ ، فَجَائَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّی قَامَ عَنْ یَسَارِہِ ، فَأَخَذَنَا بِیَدَیْہِ جَمِیعًا فَدَفَعَنَا حَتَّی أَقَامَنَا خَلْفَہُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَرْمُقُنِی وَأَنَا لاَ أَشْعُرُ ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِہِ فَقَالَ ہَکَذَا یَعْنِی شَدَّ وَسَطَکَ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((یَا جَابِرُ))۔قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔قَالَ: ((إِذَا کَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَیْنَ طَرَفَیْہِ ، وَإِذَا کَانَ ضَیِّقًا فَاشْدُدْہُ عَلَی حِقْوِکَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحمیدی ۳۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٢٨٩) عبادہ بن ولید بن صامت روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ وہ ایک کپڑے کو لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا اور ان کے اور قبلے کے درمیان جا بیٹھا اور میں نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، کیا آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں جب کہ آپ کا تہبند یہ رہا آپ کے پہلو میں ؟ تو انھوں نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس تمہارے جیسے نادان آئیں تو وہ مجھے دیکھیں کہ میں کیسے کرتا ہوں اور وہ بھی اس طرح کریں۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سفر جہاد میں) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور میرے اوپر ایک دھاری دار چادر تھی ۔ میں اس کے کنارے الٹنے لگا (تاکہ گردن سے باندھ لوں) ، لیکن وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی ۔ میں نے اسے الٹ دیا۔ پھر میں نے اس کے کناروں کو مخالفت سمت کرلیا (یعنی داہنے کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو داہنی طرف) ۔ پھر میں نے اسے (گرنے سے بچانے کے لیے) جھک کر گردن سے روکے رکھا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور اپنے داہنی طرف کھڑا کردیا۔ اتنے میں ابن صخر (رض) آگئے اور آپ کے بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کردیا۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے مسلسل دیکھ رہے تھے ، لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ پھر میں سمجھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اشارہ کیا یعنی تہبند باندھ لو، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : جابر ! میں نے عرض کیا : حاضر ہوں۔ اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کپڑا وسیع ہو تو دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ داہنے کندھے پر ڈال لیا کرو اور اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اسے کمر پر باندھ لو۔

3290

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3290

Zaeef

(۳۲۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فِی مِرْطٍ ، بَعْضُہُ عَلَیَّ وَبَعْضُہُ عَلَیْہِ وَأَنَا حَائِضٌ۔ وَکَذَلِکَ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی جَوَازِ الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ عَلَی عَاتِقِہِ مِنْہُ شَیْئٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٢٩٠) (ا) ام المومنین سیدہ میمونہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھار ایک بڑی چادر میں نماز پڑھتے اس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا اور کچھ حصہ آپ پر ہوتا۔ اگرچہ میں حائضہ بھی ہوتی۔ (ب) اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ (رض) سے بھی ثابت ہے۔ (ج) اس حدیث میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ آدمی کے کندھوں پر اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔