Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 632

نماز کا بیان

اوقاتِ نماز کی پابندی اور سستی کرنے والے پر سختی کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان :{ فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّینَ الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ } [الماعون : ٤۔ ٥] ” ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے، جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔

10 hadiths in this chapter

3161

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3161

Sahih

(۳۱۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زُبَیْدٍ الإِیَامِیُّ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ {الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ} وَفِی قِرَائَ ۃِ عَبْدِ اللَّہِ لاَہُونَ قَالَ: السَّہْوُ عَنْہَا تَرْکُ وَقْتِہَا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابویعلی ۷۰۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦١) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ آیت { الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ } [الماعون : ٥] ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔ “ عبداللہ کی قراءت میں سا ہون کی جگہ لاَہُوْنَ ہے، فرماتے ہیں : ساھون لاہوں کا مطلب ہے نماز کو بھول جانا اور اس کے وقت کا خیال نہ کرنا۔

3162

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3162

Sahih

(۳۱۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عَاصِمٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی النَّجُودِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِی: أَرَأَیْتَ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ} ہُوَ الَّذِی یُحَدِّثُ أَحَدُنَا نَفْسَہُ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ: لاَ وَأَیُّنَا لاَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فِی الصَّلاَۃِ ، وَلَکِنَّ السَّہْوَ تَرْکُ الصَّلاَۃِ عَنْ وَقْتِہَا۔وَقَدْ أَسْنَدَہُ عِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٢) مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا : ابا جان ! اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟{ الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ } [الماعون : ٥] ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ “ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں، ہم میں سے کون ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو ؟ (یعنی خیالات کو قابو رکھ سکتا ہو ؟ ) لیکن سا ہون میں سہو سے مراد نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا ہے۔

3163

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3163

Zaeef

(۳۱۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمَہْرَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- عَنْ قَوْلِہِ {الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ} قَالَ: ((ہُمُ الَّذِینَ یُؤَخِّرُونَ الصَّلاَۃَ عَنْ وَقْتِہَا))۔ [منکر۔ اخرجہ الطبری فی تفسیرہ ۱۲/ ۷۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٣) سیدنا سعد (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول { الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ } [الماعون : ٥] کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کرتے ہیں۔

3164

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3164

Zaeef

(۳۱۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنِی حَرَمِیُّ بْنُ حَفْصٍ الْقَسْمَلِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ {الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ} قَالَ: ((إِضَاعَۃُ الْوَقْتِ))۔ وَہَذَا الْحَدِیثُ إِنَّمَا یَصِحُّ مَوْقُوفًا۔ وَعِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَدْ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُ مِنْ أَئِمَّۃِ الْحَدِیثِ۔ [منکر۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٤) عکرمہ بن ابراہیم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے { الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ } [الماعون : ٥] ” ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو نماز سے غفلت برتتے ہیں “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس سے مراد وقت کا ضائع کردینا ہے۔

3165

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3165

Sahih

(۳۱۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحَسَنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَیْہِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ: ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ الْعَیْزَارِ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّیْبَانِیَّ یَقُولُ أَخْبَرَنِی صَاحِبُ ہَذِہِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ؟ قَالَ: ((الصَّلاَۃُ لِوَقْتِہَا))۔قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ((بِرُّ الْوَالِدَیْنِ))۔قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ))۔قَالَ: وَحَدَّثَنِی بِہِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُہُ لَزَادَنِی۔ ہَکَذَا أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٥) ولید بن عیزار بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے بیان کیا، انھوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کون سا کام اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا کام ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر میں اور پوچھتا تو آپ اور زیادہ بیان کرتے۔

3166

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3166

Sahih

(۳۱۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ مُطَرِّفٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔ فَقَالَ عُبَادَۃُ: کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَشْہَدُ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَہُنَّ اللَّہُ ، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوئَ ہُنَّ وَصَلاَتَہُنَّ لِوَقْتِہِنَّ ، وَأَتَمَّ رُکُوعَہُنَّ وَخُشُوعَہُنَّ ، کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یَغْفِرَ لَہُ ، وَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ ، وَإِنْ شَائَ عَذَّبَہُ))۔ لَیْسَ فِی حَدِیثِ آدَمَ ذِکْرُ الْوِتْرِ ، وَقَالَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۱۶۹۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٦) (ا) حضرت عطاء بن یسار عبداللہ صنابحی فرماتے ہیں کہ ابو محمد کا خیال یہ ہے کہ وتر واجب ہیں۔ عبادہ بن صامت (رض) نے فرمایا : ابو محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ رب العزت نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، انھیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع اطمینان سے کیے اور خشوع و خضوع کا خیال رکھا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے معاف فرمائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔

3167

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3167

Zaeef

(۳۱۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ أَبِی خَلَفٍ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ الْجَوْسَقَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَلِیسٍ لِمِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَی أُمَّتِی تَأْخِیرُہُمُ الصَّلاَۃَ عَنْ وَقْتِہَا ، وَتَعْجِیلُہُمُ الصَّلاَۃَ عَنْ وَقْتِہَا))۔ [منکر۔ اخرجہ البخاری فی تاریخہ ۵/ ۳۷۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٧) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اپنی امت پر جس چیز کے بارے میں سب سے زیادہ خوف ہے وہ نماز کو اس کے وقت سے پہلے اور مؤخر کرکے پڑھنا۔

3168

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3168

Zaeef

(۳۱۶۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ حَدَّثَنَا الأَشْعَثِیُّ فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِیُّ: لاَ أَدْرِی أَیْشٍ ہَذَا الْحَدِیثُ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا لأَنَّہُ لاَ یَعْرِفُ حَالَ عَبْدِالرَّحْمَنِ ہَذَا، وَاللَّہُ أَعْلَمُ ، وَقَدْ مَضَتِ الأَخْبَارُ فِی الْمَوَاقِیتُ وَفِیہَا کِفَایَۃٌ۔ وَقَدْ رَوَاہُ غَیْرُ الأَشْعَثِیِّ عَنْ حَفْصٍ فَأَسْنَدَہُ۔ [منکر۔ سندہ صحیح الی البخاری وہو فی تاریخہ ۵/۳۷۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٨) (ا) اشعثی اس حدیث کو بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے فرمایا : میں نہیں جانتا یہ حدیث کیسی ہے۔ (ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ انھوں نے اس لیے کہا کہ وہ عبدالرحمن کے بارے میں نہیں جانتے۔ واللہ اعلم یقیناً نماز کے اوقات کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور وہ کافی ہیں۔

3169

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3169

Zaeef

(۳۱۶۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ عِصَامٍ حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَائِ : عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ یَزِیدَ الرَّقَاشِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَحْوَہُ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٦٩) ایک دوسری سند سے حضرت انس بن مالک (رض) اسی جیسی روایت بیان کرتے ہیں۔

3170

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3170

Sahih

(۳۱۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصْنَعُ فِی أَہْلِہِ؟ فَقَالَتْ: کَانَ یَکُونُ فِی مِہْنَۃِ أَہْلِہِ - قَالَ: تَعْنِی فِی خِدْمَۃِ أَہْلِہِ - فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٧٠) اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : گھر کے کام کاج، یعنی اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کام کاج چھوڑ کر نماز کے لیے نکل پڑتے۔