Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 597

نماز کا بیان

جب امام جہری قراءت کرے تو مقتدی کے خاموش رہنے کا بیان ” جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو۔ “ امام شافعی (رح) اپنے قول قدیم میں فرماتے ہیں : یہ ہمارے نزدیک اس قراءت کے بارے میں ہے جو خصوصاً سنی جاتی ہے۔

11 hadiths in this chapter

2885

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2885

Sahih

(۲۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مِسْکِینُ بْنُ بُکَیْرٍ الْحَرَّانِیُّ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْمُؤْمِنُ فِی سَعَۃٍ مِنَ الاِسْتِمَاعِ إِلَیْہِ إِلاَّ فِی صَلاَۃٍ مَفْرُوضَۃٍ ، أَوْ مَکْتُوبَۃٍ أَوْ یَوْمِ جُمُعَۃٍ ، أَوْ یَوْمِ فِطْرٍ أَوْ یَوْمِ أَضْحًی یَعْنِی {إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا} [الاعراف: ۲۰۴] وَرُوِّینَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ: ہَذَا لِکُلِّ قَارِئٍ؟ قَالَ: لاَ وَلَکِنْ ہَذَا فِی الصَّلاَۃِ۔ [حسن۔ اخرجہ ابن ابی حاتم فی التفسیر ۹۴۹۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٨٥) (ا) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مومن قرآن کی قراءت کی طرف کان لگاتا ہے مگر فرض نماز میں، جمعہ کی نماز، عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز میں کان نہیں لگا سکتا، یعنی { وَإِذَا قُرِیَٔ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا } [الاعراف : ٢٠٤] ” اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو۔ (ب) ایک دوسری ضعیف سند سے ہمیں روایت پہنچی ہے کہ عطا فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے اس آیت کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ ہر قاری کے لیے ہے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ صرف نماز کے لیے ہے۔

2886

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2886

Zaeef

(۲۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الصَّلاَۃِ، فَسَمِعَ قِرَائَ ۃَ فَتًی مِنَ الأَنْصَارِ، فَنَزَلَتْ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا} [الاعراف: ۲۰۴] وَرُوِّینَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْخُطْبَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَمِنْ وَجْہٍ آخَرَ فِی الصَّلاَۃِ وَالْخُطْبَۃِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٨٦) (ا) مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں قراءت کر رہے تھے، آپ نے انصار کے ایک نوجوان کو تلاوت کرتے سنا تو یہ آیت نازل ہوئی : { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا } [الاعراف : ٢٠٤] ” اور جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو غور سے سنو اور چپ رہو۔ (ب) ایک دوسری سند کے ساتھ مجاہد سے ہمیں روایت پہنچی ہے کہ انھوں نے فرمایا : یہ آیت جمعہ کے خطبے کے بارے میں ہے اور ایک تیسری روایت میں فی الصلاۃ والخطبہ کے الفاظ ہیں۔

2887

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2887

Zaeef

(۲۸۸۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ الْہَجَرِیُّ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا} [الاعراف: ۲۰۴] قَالَ: کَانَ النَّاسُ یَتَکَلَّمُونَ فِی الصَّلاَۃِ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃِ ، وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ: کَانُوا یَتَکَلَّمُونَ فِی الصَّلاَۃِ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَہَکَذَا قَالَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ۔ [ضعیف جدا]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٨٧) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) اس آیت : { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا } [الاعراف : ٢٠٤] ” اور جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو غور سے سنو اور چپ رہو “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگ نماز میں باتیں کرتے تھے تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ (ب) ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ لوگ (شروع شروع میں) نماز میں باتیں کرتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔

2888

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2888

Sahih

(۲۸۸۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ مُوسَی قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ قُرَّۃَ قَالَ: أَنْزَلَ اللَّہُ ہَذِہِ الآیَۃَ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا} [الاعراف: ۲۰۴] قَالَ: کَانَ النَّاسُ یَتَکَلَّمُونَ فِی الصَّلاَۃِ۔ وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَوْنٍ وَزَادَ فِیہِ فَأَنْزَلَہَا الْقُصَّاصُ فِی الْقَصَصِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٨٨) (ا) عون بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ہاویہ بن قرۃ سے سنا کہ لوگ نماز میں باتیں وغیرہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل کی : { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنْصِتُوا } [الاعراف : ٢٠٤] ” جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو۔ “ (ب) سعید بن منصور نے اس حدیث کو عون سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ فانزلہا القصاص فی القصص۔

2889

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2889

Sahih

(۲۸۸۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی غَلاَّبٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیِّ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِیہِ: ((فَإِذَا کَبَّرَ الإِمَامُ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا))۔ و رَوَی مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ حَدِیثَ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ بِسِیَاقِ الْمَتْنِ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ ثُمَّ أَتْبَعَہُ رِوَایَۃَ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ فَذَکَرَ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ ، ثُمَّ قَالَ وَفِی حَدِیثِ جَرِیرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ قَتَادَۃَ مِنَ الزِّیَادَۃِ: فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذَبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ: قَوْلُہُ فَأَنْصِتُوا لَیْسَ بِمَحْفُوظٍ أَوْ لَیْسَ بِشَیْئٍ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَلِیٍّ الْحَافِظَ یَقُولُ: خَالَفَ جَرِیرٌ عَنِ التَّیْمِیِّ أَصْحَابَ قَتَادَۃَ کُلَّہُمْ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ قَتَادَۃَ رِوَایَۃُ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَہَمَّامٍ وَسَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَمَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ وَأَبِی عَوَانَۃَ وَالْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَمَنْ تَابَعَہُمْ عَلَی رِوَایَتِہِمْ یَعْنِی دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ ، وَرَوَاہُ سَالِمُ بْنُ نُوحٍ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَۃَ فَأَخْطَأَ فِیہِ۔ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَلِیٍّ الْحَافِظَ یَذْکُرُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۹۰۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٨٩) (ا) حطان بن عبداللہ رقاشی فرماتے ہیں کہ ہم نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ ہے کہ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ (ب) اسحاق بن ابراہیم یہ روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : جب امام پڑھے تو خاموش رہو۔ (ج) ابوعبداللہ حافظ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو علی حافظ سے سنا کہ جریر نے مخالفت کی ہے۔

2890

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2890

Sahih

(۲۸۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُونَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْقُطَعِیُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ وَسَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ یَعْنِی أَبَا غَلاَّبٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا أَبُو مُوسَی ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُعَلِّمُنَا إِذَا صَلَّی بِنَا فَقَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا))۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ: سَالِمُ بْنُ نُوحٍ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٩٠) (ا) حطان بن عبداللہ رقاشی فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری (رض) نے نماز پڑھائی اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ہمیں نماز پڑھاتے تو ہمیں فرماتے تھے کہ امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش ہوجاؤ۔

2891

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2891

Sahih

(۲۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّہَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَمُصْعَبِ بْنِ شُرَحْبِیلَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، وَإِذَا قَالَ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَقُولُوا آمِینَ ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلَّوْا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ وَہُوَ وَہَمٌ مِنَ ابْنِ عَجْلاَنَ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ فِی حَدِیثِ ابْنِ عَجْلاَنَ: (إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا)۔ لَیْسَ بِشَیْئٍ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی حَاتِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی وَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ أَبِی: لَیْسَتْ ہَذِہِ الْکَلِمَۃُ مَحْفُوظَۃً ، ہِیَ مِنْ تَخَالِیطِ ابْنِ عَجْلاَنَ۔ قَالَ: وَقَدْ رَوَاہُ خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ أَیْضًا یَعْنِی عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ۔ (ج) وَخَارِجَۃُ أَیْضًا لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ الْعَلاَئِ الرَّازِیُّ کَمَا رَوَیَاہُ۔ (ج) وَیَحْیَی بْنُ الْعَلاَئِ مَتْرُوکٌ۔ وَاعْتِمَادُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ بَعْدَ الآیَۃِ عَلَی الْحَدِیثِ الَّذِی۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۲۵۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٩١) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، تم اس سے اختلاف نہ کرو، پس جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو چپ رہو اور جب امام کہے : { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } [الفاتحہ : ٧] تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔ (ب) ابن عجلان کی روایت میں ہے : (إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا) جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو۔

2892

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2892

Sahih

(۲۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- انْصَرَفَ مِنْ صَلاَۃٍ جَہَرَ فِیہَا بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَالَ: ((ہَلْ قَرَأَ مَعِی أَحَدٌ مِنْکُمْ آنِفًا ۔ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: إِنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟))۔ قَالَ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ مع رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِیمَا جَہَرَ فِیہِ النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْقِرَائَ ۃِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِینَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَی حَدِیثَ ابْنِ أُکَیْمَۃَ ہَذَا مَعْمَرٌ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَلَی مَعْنَی مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۳۷۷۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٩٢) سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہری نماز سے سلام پھیرا اور فرمایا : ابھی نماز میں میرے ساتھ ساتھ کس نے قراءت کی ہے ؟ ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں پڑھ رہا تھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ تب سے لوگ جہری نمازوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔

2893

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2893

Sahih

(۲۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیِّ وَابْنِ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ حَفِظْتُہُ مِنْ فِیہِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أُکَیْمَۃَ یُحَدِّثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃً نَظُنُّ أَنَّہَا الصُّبْحُ ، فَلَمَّا قَضَاہَا قَالَ: ((ہَلْ قَرَأَ مِنْکُمْ أَحَدٌ؟))۔ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ))۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ قَالَ سُفْیَانُ ثُمَّ قَالَ الزُّہْرِیُّ شَیْئًا لَمْ أَحْفَظْہُ انْتَہَی حِفْظِی إِلَی ہَذَا۔ وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ فِیمَا جَہَرَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ عَلِیٌّ قَالَ لِی سُفْیَانُ یَوْمًا: فَنَظَرْتُ فِی شَیْئٍ عِنْدِی فَإِذَا ہُوَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الصُّبْحِ بِلاَ شَکٍّ۔ وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِی حَدِیثِہِ قَالَ مَعْمَرٌ: فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ فِیمَا جَہَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِی حَدِیثِہِ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: فَانْتَہَی النَّاسُ۔ وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیُّ قَالَ سُفْیَانُ: وَتَکَلَّمَ الزُّہْرِیُّ بِکَلِمَۃٍ لَمْ أَسْمَعْہَا۔ فَقَالَ مَعْمَرٌ إِنَّہُ قَالَ: فَانْتَہَی النَّاسُ۔ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَانْتَہَی حَدِیثُہُ إِلَی قَوْلِہِ: مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟۔ وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فِیہِ قَالَ الزُّہْرِیُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِکَ ، فَلَمْ یَکُونُوا یَقْرَئُ ونَ مَعَہُ فِیمَا یَجْہَرُ بِہِ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ یَقُولُ: قَوْلُہُ: فَانْتَہَی النَّاسُ۔ مِنْ کَلاَمِ الزُّہْرِیِّ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَکَذَا قَالَہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ قَالَ: ہَذَا الْکَلاَمُ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ فِی ابْنِ أُکَیْمَۃَ ہُوَ عُمَارَۃُ بْنُ أُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیُّ وَیُقَالُ عَمَّارُ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ مَا۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٩٣) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو گویا ہوئے : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا : جی ہاں اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ (ب) معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ (ان نمازوں میں) قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہراً قرات کرتے تھے۔ (ج) علی کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے سفیان نے کہا : میں نے اپنے پاس موجود (روایات) میں دیکھا تو اچانک یہ الفاظ تھے : بلا شک ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ہی پڑھائی تھی۔ (د) مسدد اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ معمر نے کہا : لوگ ان (نمازوں میں) قرات سے رک گئے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہراً قرات کرتے تھے۔ (ہ) ابن سرح نے اپنی حدیث میں کہا : معمر نے بواسطہ زہری، ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ لوگ قراءت سے رک گئے۔ (و) عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا : زہری نے ایک کلمہ کہا جسے میں نے بھی نہیں سنا۔ معمر نے کہا : انھوں نے نے کہا تھا : فانتہی الناس (لوگ رک گئے) ۔ (ز) ابوداؤد فرماتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحق نے زہری سے روایت کیا ہے اور اس کی حدیث ” مالی انازع القرآن ؟ “ پر ختم ہوتی ہے اور اوزاعی نے زہری سے روایت نقل کی۔ اس میں زہری کا قول ہے کہ ” پھر مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان نمازوں میں قراءت نہیں کرتے تھے جن میں آپ جہراً قراءت کرتے تھے۔ (ح) ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا کہ ” فانتہی الناس “ زہری کے کلام سے ہے۔ (ط) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے ” التاریخ “ میں اس کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کلام زہری کا ہے۔

2894

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2894

Sahih

(۲۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: قَرَأَ نَاسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ- فِی صَلاَۃٍ یُجْہَرُ فِیہَا بِالْقِرَائَ ۃِ، فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ-ﷺ- أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((ہَلْ قَرَأَ مَعِی مِنْکُمْ أَحَدٌ؟))۔ فَقَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟))۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِکَ فَلَمْ یَکُونُوا یَقْرَئُ ونَ۔ حَفِظَ الأَوْزَاعِیُّ کَوْنَ ہَذَا الْکَلاَمِ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ فَفَصَلَہُ عَنِ الْحَدِیثِ ، إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَحْفَظْ إِسْنَادَہُ۔ الصَّوَابُ مَا رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أُکَیْمَۃَ یُحَدِّثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ الأَیْلِیُّ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ أَخِی الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمِّہِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- [صحیح۔ کما فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٩٤) سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس نماز میں قراءت کی جس میں جہری قراءت کی جاتی ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں اے اللہ کے رسول ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی کہتا ہوں کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل کیوں ہو رہا ہے ! زہری کہتے ہیں : مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قراءت نہیں کرتے تھے۔

2895

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2895

Zaeef

(۲۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِی الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمِّہِ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((ہَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْکُمْ آنِفًا فِی الصَّلاَۃِ؟))۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ قَالَ: ((إِنِّی أَقُولُ مَا لِی أُنَازَعُ الْقُرْآنَ))۔ فَانْتَہَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ حِینَ قَالَ ذَلِکَ۔ قَالَ یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ: ہَذَا خَطَأٌ لاَ شَکَّ فِیہِ وَلاَ ارْتِیَابَ۔ وَرَوَاہُ مَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَالزُّبَیْدِیُّ کُلُّہُمْ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ: فِی صِحَّۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَظَرٌ ، وَذَلِکَ لأَنَّ رِوَایَۃَ ابْنِ أُکَیْمَۃَ اللَّیْثِیِّ - وَہُوَ رَجُلٌ مَجْہُولٌ - لَمْ یُحَدِّثْ إِلاَّ بِہَذَا الْحَدِیثِ وَحْدَہُ ، وَلَمْ یُحَدِّثْ عَنْہُ غَیْرُ الزُّہْرِیِّ وَلَمْ یَکُنْ عِنْدَ الزُّہْرِیِّ مِنْ مَعْرِفَتِہِ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ رَآہُ یُحَدِّثُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ۔ وَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَنَّ أَبَا بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ أَخْبَرَہُمْ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی قَالَ قَالَ الْحُمَیْدِیُّ فِی حَدِیثِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ: ہَذَا حَدِیثٌ رَوَاہُ رَجُلٌ مَجْہُولٌ لَمْ یَرْوِ عَنْہُ غَیْرُہُ قَطُّ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَفِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی السَّائِبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَہِیَ خِدَاجٌ))۔ فَقُلْتُ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ إِنِّی أَکُونُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِمَامِ - قَالَ - فَغَمَزَ ذِرَاعِی وَقَالَ: یَا فَارِسِیُّ اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ۔ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ رَاوِی الْحَدِیثَیْنِ دَلِیلٌ عَلَی ضَعْفِ رِوَایَۃِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ ، أَوْ أَرَادَ بِمَا فِی حَدِیثِ ابْنِ أُکَیْمَۃَ الْمَنْعَ عَنِ الْجَہْرِ بِالْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الإِمَامِ ، أَوِ الْمَنْعِ عَنْ قِرَائَ ۃِ السُّورَۃِ فِیمَا یُجْہَرُ فِیہِ بِالْقِرَائَ ۃِ ، وَہُوَ مِثْلُ حَدِیثِ عِمْرَانَ بْنِ حَصِینٍ الْوَارِدُ فِی ہَذَا الْبَابِ وَہُوَ مَذْکُورٌ فِی الْبَابِ الَّذِی یَلِیہِ۔ [صحیح۔ قال البزار ۶/ ۲۹۳، ۲۳۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٩٥) (ا) عبداللہ بن بحینہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ ساتھ قراءت کی ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے ! (ب) تب لوگ قراءت سے رک گئے۔ (ج) شیخ امام بیہقی (رض) فرماتے ہیں کہ ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے۔ (ابو سا ئب کہتے ہیں :) میں نے کہا : اے ابوہریرہ ! جب میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو کیا کروں ؟ آپ (رض) نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور فرمایا : اے فارسی ! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ (د) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے ان دو حدیثوں کا منقول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اکیمہ والی روایت ضعیف ہے۔