Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 593

نماز کا بیان

امت کے تمام دین دار لوگ آلِ نبی میں شامل ہیں

5 hadiths in this chapter

2869

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2869

Sahih

(۲۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً قَالَ لِلثَّوْرِیِّ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ أَہْلُ الْبَیْتِ ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ مَنْ أَطَاعَہُ وَعَمِلَ بِسُنَّتِہِ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَحْسِبُہُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ قَالَ: مَنْ أَطَاعَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَمَنْ ذَہَبَ ہَذَا الْمَذْہَبَ الثَّانِی أَشْبَہُ أَنْ یَقُولَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنُوحٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ {احْمِلْ فِیہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَأَہْلَکَ} وَقَالَ {إِنَّ ابْنِی مِنْ أَہْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْکُمُ الْحَاکِمِینَ قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} فَأَخْرَجَہُ بِالشِّرْکِ عَنْ أَنْ یَکُونَ مِنْ أَہْلِ نُوحٍ۔ وَقَدْ أَجَابْ عَنْہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی فَقَالَ: الَّذِی نَذْہَبُ إِلَیْہِ فِی مَعْنَی ہَذِہِ الآیَۃِ أَنَّ قَوْلَ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ} یَعْنِی الَّذِینَ أَمَرْنَا بِحَمْلِہِمْ مَعَکَ ، لأَنَّہُ قَالَ {وَأَہْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ} فَأَعْلَمَہُ أَنَّہُ أَمَرَہُ بِأَنْ یَحْمِلَ مِنْ أَہْلِہِ مَنْ لَمْ یَسْبِقْ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْ أَہْلِ مَعْصِیَتِہِ ، ثُمَّ بَیَّنَ لَہُ فَقَالَ {إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} [صحیح، مصنف عبدالرزاق میں نہیں ملی۔]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٦٩) (ا) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے ثوری سے پوچھا : آل محمد کون ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل بیت مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جس نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اور آپ کی سنت پر عمل کیا۔ (ب) ابوبکر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ عبدالرزاق نے کہا ہے : من اطاعہ (ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : دوسرا مذہب زیادہ درست ہے ؛اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا : { احْمِلْ فِیہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَأَہْلَکَ } اس کشتی میں ہر چیز کے جوڑے جوڑے سوار کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی اور فرمایا : {إِنَّ ابْنِی مِنْ أَہْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْکُمُ الْحَاکِمِینَ قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ } ” اے اللہ ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اللہ نے فرمایا : اے نوح ! یہ آپ کے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کو شرک کی وجہ سے نوح کے اہل سے نکال دیا۔ امام شافعی (رح) نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان :{إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ } کا وہ معنیٰ نہیں جو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں کہ کشتی میں سوار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَأَہْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ } ” اور اپنے اہل کو کشتی میں سوار کرلو مگر جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا “ اس آیت سے بھی نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا آپ کے اہل میں ہونا واضح ہے اور کشتی میں سوار نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اعمال درست نہ تھے۔

2870

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2870

Sahih

(۲۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِی وَاثِلَۃُ بْنُ الأَسْقَعِ اللَّیْثِیُّ قَالَ: جِئْتُ أُرِیدُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمْ أَجِدْہُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: انْطَلَقَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَدَعُوہُ فَاجْلِسْ۔ قَالَ: فَجَائَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلاَ فَدَخَلْتُ مَعَہُمَا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَسَنًا وَحُسَیْنًا ، فَأَجْلَسَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلَی فَخِذِہِ ، وَأَدْنَی فَاطِمَۃَ مِنْ حِجْرِہِ وَزَوْجَہَا ثُمَّ لَفَّ عَلَیْہِمْ ثَوْبَہُ وَأَنَا مِنْتَبِذٌ فَقَالَ: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} ((اللَّہُمَّ ہَؤُلاَئِ أَہْلِی اللَّہُمَّ أَہْلِی أَحَقُّ))۔ قَالَ وَاثِلَۃُ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا مِنْ أَہْلِکَ؟ قَالَ: ((وَأَنْتَ مِنْ أَہْلِی))۔ قَالَ وَاثِلَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّہَا لَمِنْ أَرْجَی مَا أَرْجُو۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن حبان ۶۹۷۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٧٠) واثلہ بن اسقع لیثی (رض) فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی (رض) سے ملنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہ ملے تو سیدہ فاطمہ (رض) نے فرمایا : وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گئے ہیں، آپ نے انھیں بلایا تھا۔ آپ یہاں تشریف رکھیے، اچانک آپ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے اور اندر چلے گئے، میں بھی ان کے ہمراہ اندر چلا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن اور حسین (رض) کو بلایا اور ان دونوں نے اپنی گود میں بٹھایا اور فاطمہ (رض) اور ان کے خاوند کو اپنے قریب بٹھایا ۔ پھر ان پر اپنی چادر ڈالی۔ میں ایک طرف تھا پھر آپ نے فرمایا : { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا } [الاحزاب : ٣٣] ” اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست کو لے جائے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔ “ اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں ، اے اللہ ! اہل والے زیادہ حق دار ہیں۔ واثلہ (رض) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں بھی آپ کے اہل میں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں تم بھی میرے اہل میں شامل ہو۔ واثلہ کہتے ہیں : آپ نے میری امیدوں سے بھی بڑھ کر بات فرمائی۔

2871

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2871

Sahih

(۲۸۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَسَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِی وَاثِلَۃُ بْنُ الأَسْقَعِ قَالَ: أَتَیْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمْ أَجِدْہُ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ وَہُوَ إِلَی تَخْصِیصِ وَاثِلَۃَ بِذَلِکَ أَقْرَبُ مِنْ تَعْمِیمِ الأُمَّۃِ بِہِ وَکَأَنَّہُ جَعَلَ وَاثِلَۃَ فِی حُکْمِ الأَہْلِ تَشْبِیہًا بِمَنْ یَسْتَحِقُّ ہَذَا الاِسْمَ لاَ تَحْقِیقًا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٧١) (ا) واثلہ بن اسقع (رض) سے یہی حدیث ایک دوسری سند سے منقول ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔ (ب) مذکورہ حدیث میں واثلہ (رض) کا آل میں سے ہونا ان کی خصوصیت ہے۔ تمام امت کے لیے اس کا ثبوت امر بعید ہے اور واثلہ (رض) کو آل کہنا بھی مشابہت کی بناء پر ہے نہ کہ حقیقتاً ۔

2872

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2872

Zaeef

(۲۸۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعُقَیْلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: آلُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- أُمَّتُہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٧٢) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل (سے مراد) آپ کی امت ہے۔

2873

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2873

Zaeef

(۲۸۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مَہْرَوَیْہِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو ہُرْمُزَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ آلِ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: کُلُّ تَقِیٍّ ۔ وَہَذَا لاَ یَحِلُّ الاِحْتِجَاجُ بِمِثْلِہِ۔ نَافِعٌ السُّلَمِیُّ أَبُو ہُرْمُزَ بَصْرِیٌّ کَذَّبَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَضَعَّفَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَیْرُہُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔ [موضوع۔ نافع السلمی کذاب]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٧٣) ابوہرمز نافع فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی نے پوچھا : آل محمد کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہر متقی آل محمد میں سے ہے۔ اس حدیث سے استدلال درست نہیں۔