Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 562

نماز کا بیان

جلسہ استراحت نہ کرنے والوں کا بیان رَوَی خَالِدُ بْنُ إِلْیَاسَ - وَیُقَالُ إِیَاسٍ ، وَہُوَ ضَعِیفٌ - عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَنْہَضُ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ ۔ وَحَدِیث

2 hadiths in this chapter

2763

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2763

Zaeef

(۲۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدٍ السُّوطِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ الأَعْمَشُ قَالَ: رَأَیْتُ عُمَارَۃَ بْنَ عُمَیْرٍ یُصَلِّی مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ کِنْدَۃَ - قَالَ - فَرَأَیْتُہُ رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ السَّجْدَۃِ الأَخِیرَۃِ قَامَ کَمَا ہُوَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَکَرَتُ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ: أَنَّہُ رَأَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُومُ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ الأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیَّ فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ: أَنَّہُ رَأَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ خَیْثَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُومُ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیَّ فَقَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی لَیْلَی یَقُومُ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ عَطِیَّۃَ الْعَوْفِیَّ فَقَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَیْرِ وَأَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ یَقُومُونَ عَلَی صُدُورِ أَقْدَامِہِمْ فِی الصَّلاَۃِ۔ [صحیح اس میں ایک راوی ضعیف ہے۔]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٦٣) (ا) سلیمان اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے عمارۃ بن عمیر کو کندہ کے دروازوں کی جانب نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا ، پھر جب دوسرے سجدے سے اٹھے تو اسی طرح کھڑے ہوگئے۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے سامنے جلسہ استراحت کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : مجھے عبدالرحمن بن یزید نے بتلایا کہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو دیکھا ، وہ نماز میں اپنے قدموں پر ہی کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ (ب) اعمش کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انھوں نے کہا کہ مجھے بھی عبدالرحمن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ پھر میں نے خیثمہ بن عبدالرحمن سے یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو دیکھا، وہ اپنے پاؤں کی انگلیوں پر کھڑے ہوتے تھے۔ پھر میں نے محمد بن عبیداللہ ثقفی سے یہ بات کی تو انھوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلی کو دیکھا، وہ بھی اپنے پاؤں کی انگلیوں پر کھڑے ہوتے تھے۔ پھر میں نے عطیۃ عوفی کے سامنے یہ بات کی تو انھوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر، ابن عباس، ابن زبیر اور ابو سعید خدری (رض) کو دیکھا ۔ یہ تمام حضرات نماز میں (دوسرے سجدے سے) اپنے پاؤں کی انگلیوں پر ہی کھڑے ہوجاتے تھے۔

2764

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2764

Sahih

(۲۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: رَمَقْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَرَأَیْتَہُ یَنْہَضُ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ ، وَلاَ یَجْلِسُ إِذَا صَلَّی فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ حِینَ یَقْضِی السُّجُودَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: ہُوَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ صَحِیحٌ وَمُتَابَعَۃُ السُّنَّۃِ أَوْلَی ، وَابْنُ عُمَرَ قَدْ بَیَّنَ فِی رِوَایَۃِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْہُ أَنَّہُ لَیْسَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ ، وَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِکَ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ یَشْتَکِی۔ (ج) وَعَطِیَّۃُ الْعَوْفِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [صحیح۔ اسنادہ حسن وقد جاء بسند صحیح فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٦٤) (ا) عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ میں نے ابن مسعود (رض) کو دیکھا کہ وہ اپنے پاؤں کی انگلیوں پر (تیزی سے) سیدھے کھڑے ہوتے تھے اور پہلی رکعت میں سجدے سے فارغ ہونے کے بعد بیٹھتے نہ تھے ۔ (ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن مسعود کی روایت صحیح ہے، لیکن سنت کی متابعت زیادہ بہتر ہے اور مغیرہ بن حکیم کی روایت میں ہے کہ ابن عمر (رض) نے اس کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔ یہ تو انھوں نے تھکاوٹ اور مشقت کی وجہ سے کیا ہے، لہٰذا اس کو دلیل بنانا درست نہیں۔