Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 483

نماز کا بیان

نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

2353

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2353

Zaeef

(۲۳۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ سَمِعَ عَاصِمَ الْعَنَزِیَّ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ کَبَّرَ قَالَ: ((اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا))۔ قَالَہَا ثَلاَثًا: ((وَالْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا))۔ قَالَہَا ثَلاَثًا: ((وَسَبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلاً))۔ قَالَہَا ثَلاَثًا: ((أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، مِنْ نَفْخِہِ وَنَفْثِہِ وَہَمْزِہِ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۴/۸۲، ۱۶۸۸۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٥٣) حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو تکبیر کہنے کے بعد اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا ، پھر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم من نفخہٖ ونفثہ وہمزہ۔ ” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔ اس کے وسوسوں سے، تکبر کی ہوا سے اور جادو کی پھنکار سے۔

2354

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2354

Zaeef

(۲۳۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ))۔ وَزَادَ قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُہُ الْکِبْرُ ، وَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ۔ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ مِسْعَرٍ وَشُعْبَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَۃَ یُقَالُ لَہُ عَاصِمٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَعْنَی حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ ، وَزَادَ التَّفْسِیرَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَنْسُبْہُ إِلَی عَمْرٍو، وَلَکِنْ قَالَ قِیلَ: وَمَا ہَمْزُہُ؟ قَالَ: الْمُوتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْخُہُ ؟ قَالَ: الْکِبْرُ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْثُہُ؟ قَالَ الشِّعْرُ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَشُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٥٤) (ا) ایک دوسری سند میں ابو ولید شعبہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہم انی اعوذبک من الشیطن الرجیم۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔ “ (ب) انھوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں : نفخہ سے مراد تکبر ہے اور ھمزہ سے مراد دیوانگی اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔ (ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے۔ اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انھوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا : ہمزہ سے کیا مراد ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہوجاتی ہے۔ کسی نے پوچھا : نفخہ کیا ہوتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا : نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا : شعر و شاعری۔

2355

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2355

Zaeef

(۲۳۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلاَمِ بْنُ مُطَہَّرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ الرِّفَاعِیِّ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ فَذَکَرَ اسْتِفْتَاحَہُ بِسُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ ، وَبِالتَّہْلِیلِ وَالتَّکْبِیرِ بَعْدَہُ ثَلاَثًا: أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ ۔ ثُمَّ یَقْرَأُ۔ وَرُوِّینَاہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا۔ [منکر۔ وقد تقدم ۲۳۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٥٥) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب قیام کرتے تو تکبیر کہتے، پھر سبحانک اللہم وبحمدک ۔۔۔ سے نماز شروع فرماتے۔ اس کے بعد لا الٰہ الا اللّٰہ، اللہ اکبر کبیرا تین تین مرتبہ کہتے۔ اس کے بعد اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔ ” میں شیطان مردود سے اللہ سننے والے اور جاننے والے کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کے وسوسے، تکبر اور جادو کی پھونک سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔ “ پھر قرات شروع فرماتے۔

2356

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2356

Zaeef

(۲۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی ظَبْیَۃَ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ یَقُولُ ، وَفِی حَدِیثِ وَرْقَائَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، وَہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ ۔ قَالَ عَطَائُ : فَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ ، وَنَفْخُہُ الْکِبْرُ۔ وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائٍ فَوَقَفَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ محمد بن فضیل فی الدعاء ۱۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٥٦) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے ۔۔۔ اور ورقا کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سکھاتے کہ ہم یہ کہیں : اللہم انی اعوذبک من الشیطن الرجیم وہمزہ ونفخہ ونفثہ۔ ” اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے وسوسے سے تکبر سے اور جادو کی پھونک سے۔ عطا کہتے ہیں : ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر و شاعری اور نفخہ سے مراد کبر وتکبر ہے۔

2357

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2357

Sahih

(۲۳۵۷) حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یَتَعَوَّذُ فِی الصَّلاَۃِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ نَفْخِہِ وَنَفْثِہِ وَہَمْزِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی ۱/ ۴۹/ ۳۷۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٥٧) حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے تھے، شیطان مردود کے وسوسوں سے، اس کے تکبر سے اور اس کے جادو کی پھونک سے۔

2358

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2358

Sahih

(۲۳۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ ثُمَّ یَقُولُ: سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ۔ ثُمَّ یَتَعَوَّذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ثُمَّ یَقْرَأُ مَا بَدَا لَہُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم ۲۳۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٥٨) اسود بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) جب نماز شروع کرتے تو کہتے : اللہ اکبر، پھر کہتے : سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ۔ ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور میں تیری تعریف کے ساتھ تجھے یاد کرتا ہوں اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “ پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورة فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔