Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 480

نماز کا بیان

تکبیر تحریمہ کے بعد نماز شروع کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

2343

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2343

Sahih

(۲۳۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی عَمِّی الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ قَالَ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّی ، وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِی ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعًا ، لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، وَاہْدِنِی لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ ، لاَ یَہْدِی لأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَہَا ، لاَ یَصْرِفُ عَنِّی سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہُ فِی یَدَیْکَ ، وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ ، تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ فَإِذَا رَکَعَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَکَ سَمْعِی وَبَصَرِی ، وَمُخِّی وَعِظَامِی وَعَصَبِی))۔ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ قَالَ: ((اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ))۔ فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ سَجَدْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِی خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ ، فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، تَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔ ثُمَّ یَکُونُ مِنْ آخِرِ مَا یَقُولُ بَیْنَ التَّشَہُّدِ وَالسَّلاَمِ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْعَزِیزِ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ: ((وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ))۔ وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا بَیْنَہُمَا ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ))۔ وَقَالَ: ((فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُورَتَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، تَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔ فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ الدُّعَائَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: ((وَمَا أَسْرَفْتُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، وَأَخْرَجَہُ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَذَکَرَ قَوْلَہُ: وَمَا أَسْرَفْتُ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/ ۹۳، ۷۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٤٣) (ا) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے۔ ” میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،یک سوئیسے تابع فرماں ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقیناً میری نماز، قربانی، زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کر، تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، مجھ سے برے اخلاق کو دور کر دے، تیرے سوا برے اخلاق سے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تمام خیر و بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائیوں کو تیری طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ سے التجا کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “ پھر جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے : ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، تیرے ہی آگے میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور اعضا جھکتے ہیں۔ “ جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو فرماتے : ” اے اللہ ! حمد و ستائش تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ آسمان و زمین اور ان کا درمیانی خلا بھر جائے اور ان کے علاوہ بھی جو تو چاہے بھر جائے۔ “ پھر جب سجدہ کرتے تو کہتے : ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے آگے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس میں کان اور خوبصورت آنکھیں بنائیں۔ اللہ برکت والا ہے جو نہایت عمدہ تخلیق کرنے والا ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے۔ ” اے اللہ مجھے معاف کر دے جو پہلے کیا اور جو میں نے بعد میں کیا اور جو میں نے چھپ کر کیا اور جو میں نے علانیہ کیا اور جو میں نے زیادتی کی اور جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ (ب) عبدالعزیز کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر فرماتے : انا اول المسلمین ” میں پہلا مسلمان ہوں “ راوی کہتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے : سمع اللّٰہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ۔۔۔ اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف بیان کی۔ اے ہمارے پروردگار ! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے بھر جائے اور ان کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جو تو چاہے اور فرمایا : ” جس نے اس کی نہایت عمدہ صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے۔ اللہ بڑا بابرکت ہے جو سب سے عمدہ تخلیق کرنے والا ہے “ پھر جب سلام پھیرتے۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے دعا کا ذکر کیا ہے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ” وما اسرفت “ ذکر نہیں کیا۔ (ج) ایک دوسری سند سے وما اسرفت کے الفاظ بھی منقول ہیں۔

2344

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2344

Sahih

(۲۳۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِیُّ وَأَنَا سَأَلْتُہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاَۃَ الْمَکْتُوبَۃَ قَالَ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ، أَنْتَ رَبِّی وَأَنَا عَبْدُکَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِی وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی ، فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعًا، لاَیَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاہْدِنِی لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ، لاَ یَہْدِی لأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَہَا لاَ یَصْرِفُ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ بِیَدَیْکَ ، وَالْمَہْدِیُّ مَنْ ہَدَیْتَ ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ، تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ قَالَ: وَکَانَ إِذَا رَکَعَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّی، خَشَعَ لَکَ سَمْعِی وَبَصَرِی، وَمُخِّی وَعِظَامِی، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ مِنْ قَدَمِی ، لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ))۔ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ فِی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ قَالَ: ((اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ))۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٤٤) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز شروع فرماتے تو پڑھتے : ” میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ میں اسی کا تابع فرماں ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے۔ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی فرما۔ تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں اور مجھ کو برے اخلاق سے دور رکھ۔ تیرے سوا برے اخلاق دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور سیدھی راہ پر وہی ہے جسے تو نے ہدایت بخشی۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے التجا کرتا ہوں تو برکتوں والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع کرتے تو فرماتے : ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری ہڈیاں اور جس حصے پر میرے قدم قائم ہیں، اے اللہ ! سب تیرے لیے ہی جھکتے ہیں تو سب جہانوں کا رب ہے۔ “ اور جب فرض نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : ” اے ہمارے رب ! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین بھر جائیں اور ان کے بعد ہر وہ چیز جو تو چاہے بھر جائے۔ “

2345

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2345

Sahih

(۲۳۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ کَبَّرَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: وَیَقُولُ حِینَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بَعْدَ التَّکْبِیرِ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ))۔ فَذَکَرَہُ وَقَالَ: ((وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، سُبْحَانَکَ أَنْتَ رَبِّی ، وَأَنَا عَبْدُکَ))۔ فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: ((وَاہْدِنِی))۔ إِلَی قَوْلِہِ ((لَبَّیْکَ)) ثُمَّ قَالَ: ((لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ، لاَ مَنْجَا مِنْکَ إِلاَّ إِلَیْکَ، أَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ ثُمَّ ذَکَرَ الْبَاقِیَ بِمَعْنَی حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَحَدِیثُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَتَمُّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٤٥) حضرت علی بن ابی طالب (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے۔ ْپھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ تکبیر کے بعد جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے : ” وجہت وجہی۔۔۔ “ مکمل دعا ذکر کی اور ” وانا من المسلمین۔۔۔ “ ” اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا معبود برحق کوئی نہیں۔ تو پاک ہے۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ “ پھر مکمل دعا ذکر کی لیکن ” واہدنی “ سے ” لبیک “ تک نہیں پڑھا، پھر ” لبیک وسعدیک انابک والیک لا منجا منک الا الیک استغفر ثم اتوب الیک “ ” اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے امید لگائے بیٹھا ہوں۔ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف کوئی پناہ نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں، پھر تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “ پھر عبدالعزیز کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی اور عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔

2346

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2346

Sahih

(۲۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ قَالَ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِی وَعَمِلْتُ سُوئً ا فَاغْفِرْ لِی ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ))۔ وَقَدْ حَکَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ ہُشَیْمٍ مِنْ غَیْرِ سَمَاعٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابَہِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ عَلِیٍّ، فَإِنْ کَانَ مَحْفُوظًا فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ أَبُوإِسْحَاقَ سَمِعَہُ مِنْہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَفِی حَدِیثِ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ۔ وَکَذَلِکَ فِی بَعْضِ الرِّوَایَاتِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ، وَفِی بَعْضِہَا: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: یَجْعَلُ مَکَانَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَبِذَلِکَ أَمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ وَجَمَاعَۃٌ مِنْ فُقَہَائِ الْمَدِینَۃِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدَ بْنَ یَعْقُوبَ یَقُولَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ ۔ تَفْسِیرُہُ: وَالشَّرُّ لاَ یُتَقَرَّبُ بِہِ إِلَیْکَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٤٦) (ا) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے :” تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور برے عمل کیے، سو مجھے معاف فرما دے ۔ بیشک تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔ میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میںیک سوئیکے ساتھ تابع فرماں ہوا اور میں مشرکوں سے بھی نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں مسلمانوں سے ہوں۔ (ب) عبدالعزیز بن ابی سلمۃ کی روایت کے الفاظ وانا اول المسلمین ہیں اور بعض روایات میں انا من المسلمین ہے۔ (ج) امام شافعی (رح) کہتے ہیں : انا اول المسلمین کی جگہ انامن المسلمین کے الفاظ ہی بہتر ہیں۔ (د) شیخ فرماتے ہیں کہ محمد بن منکدر اور فقہاء مدینہ نے اسی کا حکم دیا ہے۔ (ن) نضر بن شمیل کہتے ہیں : والشر لیس الیک کی تفسیر یہ ہے کہ شر کے ذریعے تیرا قرب حاصل نہیں کیا جاسکتا۔