Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 450

نماز کا بیان

اجتہاد کے بعد غلطی کے ظاہر اور واضح ہونے کا بیان

10 hadiths in this chapter

2240

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2240

Sahih

(۲۲۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ قَعْنَبٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ إِذْ جَائَ ہُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ قُرْآنٌ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوہَا۔ وَکَانَتْ وُجُوہُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ قد تقدم تخریجہ برقم ۲۱۸۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٣٩) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ لوگ مسجد قبا میں نماز فجر ادا کر رہے تھے۔ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا : گزشتہ روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں، لہٰذا قبلہ رخ ہوجاؤ۔ ان کے چہرے شام کی طرف تھے چنانچہ وہ (حالت نماز میں ہی) کعبہ کی طرف پھرگئے۔

2241

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2241

Sahih

(۲۲۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَصْحَابَہُ کَانُوا یُصَلُّونَ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ} [البقرۃ: ۱۴۴] مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ فَنَادَاہُمْ وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ: أَلاَ إِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ مَرَّتَیْنِ۔ قَالَ: فَمَالُوا کَمَا ہُمْ رُکُوعٌ إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٠) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : { فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ } (البقرۃ : ١٤٤) ” پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر اور جہاں بھی تم ہو اپنے چہروں کو اسی طرف پھیر لو۔ “ تو بنو سلمہ کا ایک چند لوگوں پر سے گزرا۔ اس نے انھیں آواز دی۔ وہ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے کہا : خبردار ! سنو ! قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ اس نے دو بار یہی کہا، چنانچہ وہ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے۔

2242

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2242

Zaeef

(۲۲۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ سَعِیدِ أَبُوالرَّبِیعِ وَعُمَرُ بْنُ قَیْسٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَظْلَمَتْ مَرَّۃً وَنَحْنُ فِی سَفَرٍ وَاشْتَبَہَتْ عَلَیْنَا الْقِبْلَۃُ، فَصَلَّی کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حِیَالَہُ فَلَمَّا انْجَلَتْ إِذَا بَعْضُنَا صَلَّی لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ ، وَبَعْضُنَا قَدْ صَلَّی لِلْقِبْلَۃِ فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: ((مَضَتْ صَلاَتُکُمْ))۔ وَنَزَلَتْ {فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] [ضعیف۔ اخرجہ الطیالسی فی سندہ ۱۱۴۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤١) حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے اوپر اندھیرا چھا گیا (رات ہوگئی) اور ہم سفر میں تھے۔ اس دوران ہم پر قبلہ مشتبہ ہوگیا۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نماز ادا کی۔ جب موسم صاف ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم میں سے بعض لوگوں نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے۔ ہم نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری نماز ہوگئی ہے اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ { فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” جدھر بھی منہ کرلو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔ “

2243

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2243

Zaeef

(۲۲۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ الْحَارِثُ بْنُ نَبْہَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: صَلَّیْنَا لَیْلَۃً فِی غَیْمٍ وَخَفِیَتْ عَلَیْنَا الْقِبْلَۃُ وَعَلَّمْنَا عَلَمًا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا نَظَرْنَا فَإِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّیْنَا إِلَی غَیْرِ الْقِبْلَۃِ ، فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَلَمْ یَأْمُرْنَا أَنْ نُعِیدَ۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَطَائٍ وَعَنِ عَبْدِ الْمَلِکِ الْعَرْزَمِیُّ عَنْ عَطَائٍ أَمَّا حَدِیثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَطَائٍ فَقَدْ مَضَی۔ وَأَمَّا حَدِیثُ عَبْدِ الْمَلِکِ فَإِنَّہُ فِی وِجَادَاتِ أَحْمَدَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِیِّ عَنْ أَبِیہِ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے ابر آلود رات میں نماز پڑھی اور ہم پر قبلہ کی سمت واضح نہ ہوسکی۔ چنانچہ ہم نے (جس جانب نماز پڑھی تھی) وہاں نشانی رکھ دی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلے سے دوسری طرف نماز پڑھی۔ چنانچہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا اور آپ نے ہمیں نماز لوٹانے کا نہیں کہا۔

2244

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2244

Zaeef

(۲۲۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الرُّصَافِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِیُّ قَالَ وَجَدْتَ فِی کِتَابِ أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ الْعَرْزَمِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَرِیَّۃً کُنْتُ فِیہَا ، فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَۃٌ فَلَمْ نَعْرِفِ الْقِبْلَۃَ ، فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ مِنْہَا: الْقِبْلَۃُ ہَا ہُنَا قِبَلَ الشَّمَالِ۔ فَصَلَّوْا وَخَطُّوا خَطًّا ، وَقَالَ بَعْضُنَا: الْقِبْلَۃُ ہَا ہُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَصْبَحَتْ تِلْکَ الْخُطُوطُ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ ، فَقَدِمْنَا مِنْ سَفَرِنَا فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلْنَاہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَسَکَتَ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] أَیْ حَیْثُ کُنْتُمْ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ الْمَعْمَرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْبَاغَنْدِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ ، وَلاَ نَعْلَمُ لِہَذَا الْحَدِیثِ إِسْنَادًا صَحِیحًا قَوِیًّا۔ وَذَلِکَ لأَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِیَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَرْزَمِیَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ سَالِمٍ الْکُوفِیَّ کُلَّہُمْ ضُعَفَائُ ۔ وَالطَّرِیقُ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ الْعَرْزَمِیِّ غَیْرُ وَاضِحٍ لِمَا فِیہِ مِنَ الْوِجَادَۃِ وَغَیْرِہَا ، وَفِی حَدِیثِہِ أَیْضًا نُزُولِ الآیَۃِ فِی ذَلِکَ۔ وَصَحِیحٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ الْعَرْزَمِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ: أَنَّ الآیَۃَ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِی التَّطَوُّعِ خَاصَّۃً حَیْثُ تَوَجَّہَ بِکَ بَعِیرُکُ۔ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٣) (ا) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند لوگوں کو جہاد کے لیے بھیجا۔ میں بھی ان میں تھا۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے سمت قبلہ کی پہچان مشکل ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے شمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ ادھر ہے۔ انھوں نے ادھر ہی نماز پڑھی اور خط کھینچ لیا اور بعض نے کہا کہ قبلہ جنوب کی طرف ہے۔ انھوں نے بھی اسی طرف نماز پڑھی اور خط کھینچ لیا۔ جب صبح ہوئی اور سورج طلوع ہوگیا تو وہ لکیریں غیر قبلہ کی طرف تھیں۔ جب ہم سفر سے واپس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ پھر یہ آیت کریمہ نازل کی : { وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ یعنی جہاں بھی ہو، جدھر بھی ہو۔ (ب) صحیح وہ ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے منقول ہے کہ یہ آیت خاص طور پر نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ نفل نماز میں تمہاری سواری کا رخ جدھر بھی ہو درست ہے اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔

2245

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2245

Zaeef

(۲۲۴۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَہُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ عَلَی رَاحِلَتِہِ حَیْثُ کَانَ وَجْہُہُ - قَالَ - وَفِیہِ نَزَلَتْ {فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَوَارِیرِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہَا نَزَلَتْ فِی الْمَکْتُوبَۃِ ثُمَّ صَارَتْ مَنْسُوخَۃً وَذَلِکَ فِیمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٤) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئے اپنی سواری پر (نفل) نماز ادا فرما لیا کرتے تھے جدھر بھی آپ کا رخ ہوتا اور فرماتے کہ اسی بارے یہ آیت کریمہ اتری ہے :{ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ (ب) سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ آیت کریمہ فرض نماز کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ پھر منسوخ ہوگئی اور یہ اسی سے متعلق ہے۔

2246

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2246

Sahih

(۲۲۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ بِالرَّیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ فِیمَا ذُکِرَ لَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ شَأْنُ الْقِبْلَۃِ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، وَتَرَکَ الْبَیْتَ الْعَتِیقَ فَقَالَ {سَیَقُولُ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] یَعْنُونَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَنَسَخَہَا فَصَرَفَہُ اللَّہُ إِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیقِ فَقَالَ {وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ} [البقرۃ: ۱۵۰] وَفِی کَلاَمِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بَیَانُ مَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا وَہُوَ أَنَّہُ دَخَلَ فِی مَبْسُوطِ کَلاَمِہِ فَلَمَّا ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ اسْتَقْبَلَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ مُوَلیًّا عَنِ الْبَیْتِ الْحَرَامِ وَہُوَ یُحِبَّ لَوْ قَضَی اللَّہُ لَہُ بِاسْتِقْبَالِ الْبَیْتِ الْحَرَامِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ إِلَی أَنْ أَنْزَلَ اللَّہُ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ} [البقرۃ: ۱۴۴] قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہَا نَزَلَتْ فِی قَوْلِہِمْ {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ:۱۴۲] [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الحاکم ۲/۲۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٥) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ قرآن میں سے سب سے پہلے جو چیز منسوخ کی گئی آیت قبلہ ہے، یعنی { وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے اور بیت اللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : { سَیَقُوْلُ السُّفَھَائُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) عنقریب بیوقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے، یعنی بیت المقدس۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت عتیق یعنی کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ اس سلسلے میں یہ آیت اتری : { وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ } (البقرۃ : ١٥٠) ” اور آپ جہاں سے بھی نکلیں اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیریں اور تم جہاں کہیں بھی ہو تو اسی (مسجد حرام) کی طرف ہی اپنے چہروں کو پھیر لو۔ “ (ب) امام شافعی (رح) نے اس روایت کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمانے لگے، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ } (البقرۃ : ١٤٤) ” ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ “ (ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ آیت یہود کے اس قول کے بارے نازل ہوئی جو انھوں نے کہا ، یعنی : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) ” کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے۔ “

2247

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2247

Zaeef

(۲۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَوَّلُ مَا نُسِخَ فِی الْقُرْآنِ الْقِبْلَۃَ ، وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، وَکَانَ أَکْثَرَ أَہْلِہَا الْیَہُودُ أَمَرَہُ اللَّہُ أَنْ یَسْتَقْبِلَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَفَرِحَتِ الْیَہُودُ فَاسْتَقْبَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِضْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُحِبُّ قِبْلَۃَ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، فَکَانَ یَدْعُو اللَّہَ وَیَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا} [البقرۃ: ۱۴۴] إِلَی قَوْلِہِ {فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ} [البقرۃ: ۱۴۴] یَعْنِی نَحْوَہُ ، فَارْتَابَ مِنْ ذَلِکَ الْیَہُودُ وَقَالُوا {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی {قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] {وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِی کُنْتَ عَلَیْہَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنْقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہِ} [البقرۃ: ۱۴۳] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلِیُمَیِّزَ أَہْلَ الْیَقِینِ مِنْ أَہْلِ الشَّکِّ وَالرِّیبَۃِ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَۃٌ إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ ہَدَی اللَّہُ} [البقرۃ: ۱۴۳] یَعْنِی تَحْوِیلَہَا عَلَی أَہْلِ الشَّکِّ {إِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِینَ} [البقرۃ: ۴۵] یَعْنِی الْمُصَدِّقِینَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی قَوْلِہِ {فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ فَثَمَّ الْوَجْہُ الَّذِی وَجَّہَکُمُ اللَّہُ إِلَیْہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٦) (ا) علی بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن میں سب سے پہلے جو حکم منسوخ ہوا وہ قبلہ کے بارے تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو وہاں اکثریت یہودیوں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرلیں۔ یہودی خوش ہوگئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قبلے پر سولہ یا سترہ ماہ تک رہے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ پسند فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہتے تھے اور نظر اٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف بھی دیکھتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا } ” ہم آپ کے چہرے کا آسمان میں بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم ضرور آپ کو آپ کے پسندیدہ قبلے کی طرف پھیر دیں گے۔ “ (البقرۃ : ١٤٤) فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ اپنے چہروں کو اسی طرف پھیرو۔ “ (البقرۃ : ١٤٤) یہودیوں کو اس سے ضد ہوئی تو انھوں نے کہا : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } ” جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیرا ہے ؟ “ (البقرۃ : ١٤٢) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :{ وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } ” مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ (البقرۃ : ١١٥) { وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ } ” جس قبلہ پر آپ تھے اس کو ہم نے اس لیے بنایا تھا کہ ہم واضح کردیں کہ رسول اللہ کی اطاعت کون کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں انکار کرتا ہے۔ “ (البقرۃ : ١٤٢) (ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : لنعلم کا معنی یہ ہے کہ یقین والوں اور شک کرنے والوں میں تمیز کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَ اِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللَّہُ } ” یقیناً یہ بڑا مشکل ہے، مگر اللہ نے جن کو ہدایت سے نوازا (ان پر گراں نہیں ہے) “ (البقرۃ ١٤٣) یعنی تحویل قبلہ شک والوں پر گراں ہے۔ { اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللَّہُ } ” مگر ڈرنے والوں پر۔ “ (البقرۃ : ١٤٣) یعنی اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تصدیق کرنے والوں پر بھاری نہیں ہے۔ (ج) امام شافعی (رح) اللہ تعالیٰ کے فرمان :{ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : الآیۃ : ١١٥) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرف ہے جس طرف اس نے تمہیں متوجہ کیا ہے۔

2248

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2248

Sahih

(۲۲۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ النَّضْرِ یَعْنِی ابْنَ عَرَبِیٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] قَالَ: قِبْلَۃُ اللَّہِ ، فَأَیْنَمَا کُنْتَ فِی مَشْرِقٍ أَوْ مَغْرِبٍ فَلاَ تَوَجَّہَنَّ إِلاَّ إِلَیْہَا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٧) مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :{ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) کے بارے میں منقول ہے کہ اللہ کا قبلہ سے مراد یہ ہے کہ تو مشرق ومغرب میں جہاں بھی ہو تو صرف اسی کی طرف چہرہ کر۔

2249

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2249

Zaeef

(۲۲۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَائُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ: مَنْ صَلَّی عَلَی غَیْرِ طُہْرٍ أَوْ عَلَی غَیْرِ قِبْلَۃٍ أَعَادَ الصَّلاَۃَ کَانَ فِی الْوَقْتِ أَوْ غَیْرِ الْوَقْتِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ خَطَؤُہُ الْقِبْلَۃَ تَحَرُّفًا أَوْ شَیْئًا یَسِیرًا۔ وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الَّذِی یُصَلِّی لِغَیْرِالْقِبْلَۃِ لاَ یُعِیدُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٤٨) (ا) عبدالرحمن بن ابو زناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فقہاء مدینہ کا یہ قول ہے کہ جو شخص بےوضو یا غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس کو نماز لوٹانا ہوگی چاہے وقت کے اندر ہو یا وقت گذر چکا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاؤں قبلے سے منحرف ہوں یا وہ خود تھوڑا سا منحرف ہو تو گنجائش ہے۔ (ب) ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کرے کہ وہ نماز نہ لوٹائے۔