Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 445

نماز کا بیان

سواری پر وتر ادا کرنے سے وتر کے عدم وجوب پر دلائل، اس کا ذکر مختصر گزر چکا ہے

5 hadiths in this chapter

2225

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2225

Sahih

(۲۲۲۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ))۔ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ: ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ))۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٢٥) طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اسلام کے (احکام کے) بارے میں سوال کرنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن رات میں پانچ نمازیں (ادا کرو) ۔ اس نے عرض کیا : کیا میرے ذمے اس کے علاوہ کوئی اور نماز بھی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ہاں نوافل ادا کرسکتے ہو۔

2226

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2226

Zaeef

(۲۲۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ: أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ یُدْعَی الْمُخْدَجِیَّ سَمِعَ رَجُلاً بِالشَّامِ یُدْعَی أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔ قَالَ الْمُخْدَجِیُّ: فَرُحْتُ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَہُ وَہُوَ رَائِحٌ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ المالک فی الموطا ۱/۳۶۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٢٦) ابن محیریز سے روایت ہے کہ بنو کنانہ کا ایک آدمی جسے مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ابو محمد نامی ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ و تر واجب ہیں۔ مخدجی کہتے ہیں : میں عبادہ بن صامت کی خدمت میں پہنچا اور وہ مسجد میں آرام فرما رہے تھے۔ میں نے انھیں اس کے بارے میں بتایا جو ابو محمد نے کہا تھا کہ وتر واجب ہیں تو ابوعبادہ نے فرمایا : ابو محمد جھوٹ بولتا ہے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی ذمہ داری میں جنت میں داخل کرے گا اور جو ان نمازوں کو ضائع کر دے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔

2227

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2227

Zaeef

(۲۲۲۷) وَأَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی یَحْیَی بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ وَلَکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَہُوَ قَوْلُ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَکُلُّ ذَلِکَ مَعَ سَائِرِ الآثَارِ الْوَارِدَۃِ فِیہِ مَوْضِعُہَا بَابُ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٢٧) (ا) سیدنا علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ وتر فرض نہیں سنت ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ (ب) یہ عبادہ بن صامت اور ابن عباس کا قول ہے۔ اس موضوع سے متعلق دیگر روایات جو وارد ہوئی ہیں ، ان کا ذکر باب التطوع میں ہوگا کیونکہ اس کا محل وہی ہے۔

2228

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2228

Zaeef

(۱۱۶) باب الرُّخْصَۃِ فِی تَرْکِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَۃِ فِی الْمَکْتُوبَۃِ حَالَ الْمُسْایَفَۃِ وَشِدَّۃِ الْقِتَالِ

اردو ترجمہ · Urdu

شمشیر زنی اور سخت گھمسان کی لڑائی میں فرض نماز میں بھی عدم استقبال قبلہ کی رخصت کا بیان

2229

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2229

Sahih

(۲۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسِ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَۃِ الْخَوْفِ قَالَ: یَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَۃٌ ثُمَّ قَصَّ الْحَدِیثَ۔ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِی الْحَدِیثِ: فَإِنْ کَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِکَ صَلَّوْا رِجَالاً وَرُکْبَانًا مُسْتَقْبِلِی الْقِبْلَۃِ وَغَیْرَ مُسْتَقْبِلِیہَا۔ وَہُوَ ثَابِتٌ مِنْ جِہَۃِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَمَوْضِعُہُ کِتَابُ صَلاَۃِ الْخَوْفِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱/۱۴۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٢٢٨) (ا) نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے جب صلوٰۃ خوف کے بارے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ امام اور ایک جماعت آگے نکل کر نماز پڑھے اور دوسری دشمن کے مقابلے میں رہے، پھر مکمل حدیث بیان کی۔ (ب) حدیث میں ابن عمر نے کہا : اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو وہ پیدل اور سوار دونوں حالت میں ادا کریں، چاہے قبلہ رخ ہوں نہ ہوں۔ (ج) نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت کتاب صلوۃ الخوف میں ہے۔