Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 437

نماز کا بیان

بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان

9 hadiths in this chapter

2189

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2189

Sahih

(۲۱۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْقَاسِمِ السَّرَّاجُ فِی آخَرِینَ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاہُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ اللَّیْلَۃَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوہَا۔ وَکَانَتْ وُجُوہُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۵، ۴۲۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٨٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مسجد قبا میں لوگ صبح کی نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رات کو قرآن نازل ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ (یہ سن کر) انھوں نے (نماز کی حالت میں ہی) اپنے چہرے کعبہ کی طرف پھیر لیے، جب کہ ان کے چہرے شام کی طرف تھے پھر وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔

2190

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2190

Sahih

(۲۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ فَصَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُحِبُّ أَنْ یُوَجَّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرۃ: ۱۴۴] الآیَۃَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ کَانَ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ یُصَلُّونَ وَہُمْ رُکُوعٌ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ فَتَحَرَّفُوا نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ وَہُمُ الْیَہُودُ {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ} [البقرۃ: ۱۴۲] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَجَائٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٠) براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ ماہ تک نماز پڑھتے رہے، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } (البقرۃ : ١٤٤) ” ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ ہم ضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیریں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس آپ اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔ “ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آچکا ہے تو وہ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھرگئے۔ بعض بیوقوف لوگوں نے کہا، جو دراصل یہودی تھے : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) ” جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیر دیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرقُ وَ الْمَغْرِبُ یَھْدِی ْمَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } (البقرۃ : ١٤٢) ” کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ “

2191

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2191

Sahih

(۲۱۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُونَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ ، وَأَنَّہُ صَلَّی صَلاَۃَ الْعَصْرِ وَصَلَّی مَعَہُ قَوْمٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ صَلَّی مَعَہُ ، فَمَرَّ عَلَی أَہْلِ مَسْجِدٍ وَہُمْ رَاکِعُونَ ، فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللَّہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قِبَلَ مَکَّۃَ۔ فَدَارُوا کَمَا ہُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩١) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ آپ کی دلی خواہش یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہوجائے۔ آپ نے عصر کی نماز (کعبہ کی طرف منہ کر کے) پڑھائی۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ان میں سے ایک آدمی نکلا۔ وہ ایک مسجد کے پاس سے گزرا جہاں لوگ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے اور وہ حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ (بیت اللہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر وہ لوگ فوراً بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔

2192

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2192

Sahih

(۲۱۹۲) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: قِیلَ ہَذَا الَّذِینَ مَاتُوا قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ إِلَی الْکَعْبَۃِ وَرِجَالٌ قُتِلُوا فَلَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِیہِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وفٌ رَحِیمٌ} [البقرۃ: ۱۴۳] رَوَاہُمَا الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٢) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ بعض لوگوں نے کہا : جو لوگ تحویل قبلہ سے پہلے فوت یا شہید ہوچکے، ہم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں کیا کہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : { وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ} (البقرۃ : ١٤٣) ” اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمانوں (نمازوں) کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ تو لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ “

2193

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2193

Zaeef

(۲۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَالْکَعْبَۃُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَبَعْدَ مَا تَحَوَّلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، ثُمَّ صَرَفَہُ اللَّہُ تَعَالَی إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۵۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مکہ میں) بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبہ کو اپنے اور بیت المقدس کے درمیان رکھتے تھے۔ اس کے بعد جب آپ (ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔ پھر اللہ نے انھیں کعبہ کی طرف پھیر دیا۔

2194

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2194

Zaeef

(۲۱۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا یَقُولُ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ حُوِّلَ بَعْدَ ذَلِکَ قِبَلَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَہْرَیْنِ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ الْعُطَارِدِیُّ عَنِ ابْنِ فُضَیْلٍ۔ وَرَوَاہُ مَالِکٌ وَالثَّوْرِیُّ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ مُرْسَلاً دُونَ ذِکْرِ سَعْدٍ۔ [ضعیف۔ موضوع]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٤) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ میں نے سعد (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لانے کے بعد سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، پھر غزوہ بدر سے دو ماہ پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام کی طرف رخ کرنے لگے۔

2195

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2195

Zaeef

(۲۱۹۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمِیرَۃَ بْنِ زِیَادٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ {فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرۃ: ۱۴۴] قَالَ {شَطْرَہُ} قِبَلَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۲/۲۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٥) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ { فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } (البقرۃ : ١٤٤) ” اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیریے ‘ میں شطر سے مراد اس کی طرف منہ کرنا ہے۔

2196

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2196

Sahih

(۲۱۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ أَخْبَرَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {شَطْرَہُ} [البقرۃ: ۱۴۴] یَعْنِی نَحْوَہُ۔ [صحیح۔ الدر المنثور ۱/۳۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٦) مجاہد کا قول ہے کہ { شَطْرَہُ } نَحْوَہُ کے معنیٰ میں ہے یعنی منہ کرو۔

2197

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2197

Zaeef

(۲۱۹۷) وَکَذَلِکَ ذَکَرَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِکَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن جریر فی التفسیر ۲/۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٩٧) اسی طرح کی روایت علی بن ابی طلحہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں۔