Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 418

نماز کا بیان

سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان

10 hadiths in this chapter

2055

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2055

Sahih

(۲۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ وَاشْتَکَتِ النَّارُ إِلَی رَبِّہَا عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ: رَبِّ أَکَلَ بَعْضِی بَعْضًا فَأَذِنَ لَہَا بِنَفَسَیْنِ: نَفَسٍ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ ، فَہُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْہَرِیرِ ۔)) [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب گرمی کی شدت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو ( موخر کرلو) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے پیدا ہوتی ہے اور (جہنم کی) آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ ! میرا بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے، پس اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں اور جو تم سخت گرمی اور سردی محسوس کرتے ہو یہ اسی وجہ سے ہوتی ہے۔

2056

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2056

Sahih

(۲۰۵۲) وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((فَأَشَدَّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ حَرِّہَا وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ فَمِنْ زَمْہَرِیرِہَا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح۔ رواہ احمد ۲/ ۳۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٦) حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں سفیان نے زہری کے واسطے سے اسی طرح کی روایت بیان کی ، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : جو تم گرمی کی شدت محسوس کرتے ہو یہ اس (جہنم) کی گرمی سے ہے اور جو تم سخت سردی محسوس کرتے ہو یہ اس کی سردی سے ہے۔

2057

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2057

Sahih

(۲۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْہَبٍ وَقُتَیْبَۃُ أَنَّ اللَّیْثَّ حَدَّثَہُمْ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَۃِ))۔ قَالَ ابْنُ مَوْہَبٍ: ((بِالصَّلاَۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۰۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٧) سیدنا ابو سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو (یعنی مؤخر کرلیا کرو) (انہوں نے عن الصلاۃ کے الفاظ نقل کیے ہیں جب کہ ابن موہب نے بالصلاۃ کے الفاظ نقل کیے ہیں) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے پیدا ہوتی ہے۔

2058

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2058

Sahih

(۲۰۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا کَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔ وَذَکَرَ: أَنَّ النَّارَ اشْتَکَتْ إِلَی رَبِّہَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَذِنَ لَہَا فِی کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَیْنِ: نَفَسٍ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَعْنِ بْنِ عِیسَی عَنْ مَالِکٍ وَقَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ مَالِکٍ فِی الْقَدِیمِ۔ [صحیح۔ انظر ما سبق برقم ۲۰۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب گرمی (زیادہ) ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہے اور (یہ بھی) جہنم نے اپنے رب کے حضور فریاد (التجا) کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر سال میں دو سانس لینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا گرمیوں میں۔

2059

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2059

Sahih

(۲۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَبْرِدُوا بِالظُّہْرِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضُہَا رِوَایَۃً وَبَعْضُہَا إِشَارَۃً۔ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٩) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظہر (کی نماز) کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ (یقینا) گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

2060

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2060

Sahih

(۲۰۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ الظُّہْرَ فَقَالَ: ((أَبْرِدْ)) ۔ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ: أَبْرِدْ ۔ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُولِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ))۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہُوَ مُہَاجِرُ أَبُو الْحَسَنِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَکَذَا قَالَ جَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ: فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٦٠) (ا) حضرت ابوالحسن فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن وہب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے سنا : ایک مرتبہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤذن سے فرمایا : اَبْرِدْ یعنی ابھی ٹھہر جاؤ، مؤخر کرو۔ (کچھ دیر بعد) موذن نے پھر اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ۔ دو مرتبہ یا تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا حتیٰ کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ (ب) حضرت شعبہ (رح) سے روایت ہے کہ موذن نے اذان کا ارادہ کیا۔

2061

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2061

Sahih

(۲۰۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: إِنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَفَرٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَبْرِدْ ۔ وَذَکَرَہُ وَکَذَلِکَ قَالَہُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٦١) حضرت ابو الولید نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے سیدنا ابوذر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ موذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : ٹھنڈا کرو (یعنی کچھ ٹھہر جاؤ) ۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ غندر نے بھی شعبہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

2062

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2062

Sahih

(۲۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَالْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُہَاجِرِ أَبِی الْحَسَنِ أَنَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الظُّہْرَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَبْرِدْ أَبْرِدْ))۔ أَوْ قَالَ: ((انْتَظِرِ انْتَظِرْ))۔ وَقَالَ: ((إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَۃِ))۔ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُولِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ وَفِی ہَذَا کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ بِالإِبْرَادِ کَانَ بَعْدَ التَّأْذِینِ وَأَنَّ الأَذَانَ کَانَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ۔ [صحیح۔ مضی فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٦٢) (ا) سیدنا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اَبْرِدْ اَبْرِد یا انتظر انتظر کے الفاظ کہے، یعنی ٹھہر جا۔ پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے۔ جب موسم زیادہ گرم ہو تو نماز کو موخر کر کے پڑھا کرو ۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اتنی دیر ہوئی کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔ (ب) نیز مسلم نے محمد بن مثنی سے نقل کیا کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔

2063

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2063

Sahih

(۲۰۶۳) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ لَفْظًا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرٍ یَعْنِی ابْنَ سَمُرَۃَ۔ قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنِیہِ سَیَّارُ بْنُ سَلاَمَۃَ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ أَحَدُہُمَا: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَلَکَتِ الشَّمْسُ۔ وَقَالَ الآخَرُ: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔ [حسن۔ اخرجہ الطیالسی ۷۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٦٣) حضرت حماد فرماتے ہیں : یہ حدیث مجھے سیار بن سلامہ نے ابو برزۃ اسلمی (رح) سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک کے الفاظ ہیں کہ بلال اس وقت اذان کہتے تھے جب سورج ڈھل جاتا اور دوسرے کے الفاظ ہیں کہ بلال اس وقت اذان کہتے تھے جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع ہوجاتا۔

2064

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2064

Zaeef

(۲۰۶۴) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ بَلاَلٌ لاَ یَحْذِمُ الأَذَانَ ، وَکَانَ رُبَّمَا أَخَّرَ الإِقَامَۃَ شَیْئًا۔ وَقَدْ مَضَی قَوْلُہُ: کَانَ بَلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٦٤) حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال (رض) اذان میں سستی نہیں کرتے تھے (یعنی اول وقت ہی میں اذان دے دیتے تھے) ۔ ہاں اقامت کبھی کبھی دیر سے کہا کرتے تھے اور ایک قول پہلے بھی گذر چکا ہے کہ بلال (رض) اس وقت اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔