Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 395

نماز کا بیان

جس نے سفر میں اقامت پر اکتفا کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1944

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1944

Sahih

(۱۹۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یَزِیدُ عَلَی الإِقَامَۃِ فِی السَّفَرِ فِی الصَّلاَۃِ إِلاَّ فِی الصُّبْحِ ، فَإِنَّہُ کَانَ یُؤَذِّنُ فِیہَا وَیُقِیمُ وَیَقُولُ: إِنَّمَا الأَذَانُ لِلإِمَامِ الَّذِی یَجْتَمِعُ إِلَیْہِ النَّاسُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٤٤) نافع سے روایت ہے کہ بیشک ابن عمر (رض) سفر کی نماز میں اقامت سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے، (یعنی اذان نہیں دیتے تھے) سوائے صبح کی نماز کے۔ وہ اس میں اذان دیتے تھے اور اقامت کہتے اور فرماتے : اذان امام کے لیے ہے جس کی طرف لوگ جمع ہوں۔

1945

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1945

Zaeef

(۱۹۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَخِیہِ الرُّحَیْلِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ أُؤَذِّنُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَ: لِمَنْ تُؤَذِّنُ لِلْفَأْرِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الَّذِی ذَہَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ شَیْئٌ یُحْتَمَلُ ، لَوْلاَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی الأَذَانِ فِی الْبَادِیَۃِ وَحَدِیثُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ فِی أَذَانِ الرَّاعِی، وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الأَذَانَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ وَإِنْ کَانَ وَحْدَہُ ، وَیُسْتَدَلُّ بِحَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَلَی أَنَّ تَرْکَ الأَذَانِ فِی السَّفَرِ أَخَفُّ مِنْ تَرْکِہِ فِی الْحَضَرِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُسَافِرِ: إِنْ شَائَ أَذَّنَ وَأَقَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَقَامَ۔ وَبَعْضُ النَّاسِ رَفَعَ حَدِیثَ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ وَہْمٌ فَاحِشٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٤٥) (الف) أبی زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا میں سفر میں اذان دوں ؟ انھوں نے کہا : کس کے لیے اذان دے گا ؟ کیڑے مکوڑوں کے لیے۔ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کا مؤقف محتمل ہے۔ اگر سیدنا ابو سعید خدری کی جنگل میں اذان والی حدیث اور سیدنا انس بن مالک وغیرہ کی چرواہے والی حدیث نہ ہوتی۔ ان تمام احادیث میں دلالت ہے کہ اذان کہنا سنت ہے اگرچہ آدمی اکیلا ہو۔ سیدنا ابن عمر (رض) کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ سفر میں اذان ترک کرنا بہ نسبت حضر کے کم درجہ کی چیز ہے۔ (ج) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے، وہ مسافر کے متعلق فرماتے ہیں : اگر وہ چاہے اذان دے اور اقامت کہے اور اگر چاہے تو اقامت کہے، بعض لوگوں نے ابن عمر (رض) کی حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے اور یہ وہم فاحش ہے۔