Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 366

نماز کا بیان

اذان کی ابتدا

7 hadiths in this chapter

1831

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1831

Sahih

(۱۸۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَلَیْسَ یُنَادِی بِہَا أَحَدٌ ، فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: نَتَّخِذُ نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَی۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُودِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً یُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَۃِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣١) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت مسلمان مدینہ میں آئے تو وہ جمع ہوتے اور نمازوں کا انتظار کرتے اور کوئی بھی اعلان کرنے والا نہیں تھا۔ انھوں نے ایک دن اس کے متعلق بات کی۔ بعض نے کہا : ہم نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا : بلکہ یہودیوں کی طرح ایک سینگ۔ سیدنا عمر (رض) نے کہا : کیوں نہ تم کسی آدمی کو بھیجو جو نماز کا اعلان کرے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے بلال ! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کا اعلان کرو۔ “

1832

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1832

Sahih

(۱۸۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَکَرُوا أَنْ یَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِشَیْئٍ فَیَعْرِفُونَہُ ، فَذَکَرُوا أَنْ یَضْرِبُوا نَاقُوسًا أَوْ یُنَوِّرُوا نَارًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٢) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے مشورہ کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے اوقات کو جانیں اور پہچانیں۔ بعض نے ذکر کیا کہ ایک ناقوس بجائیں یا آگ روشن کریں۔ سیدنا بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان جفت کہ کہیں اور اگلی سطر میں لے جائیں اقامت ایک مرتبہ کہے۔

1833

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1833

Zaeef

(۱۸۳۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْقُطَعِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَتِ الصَّلاَۃُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَعَی رَجُلٌ فِی الطَّرِیقِ فَنَادَی: الصَّلاَۃَ الصَّلاَۃَ ، فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ: ((ذَلِکَ لِلنَّصَارَی))۔ فَقَالُوا: لَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا۔ قَالَ: ((ذَلِکَ لِلْیَہُودِ))۔ قَالَ: فَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۳۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٣) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نماز کا وقت ہوتا تو ایک شخص راستے میں دوڑتا ہوا اعلان کرتا : نماز نماز ! لوگوں پر یہ بات مشکل ہوگئی تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر ہم ناقوس بنالیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ فرمایا : یہ تو نصاریٰ کا ہے۔ انھوں نے کہا : ہم ایک سینگ بنالیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ یہود کا ہے۔ راوی کہتا ہے : پھر آپ نے بلال (رض) کو حکم دیا کہ وہ اذان جفت کہے اور اقامت ایک مرتبہ کہے۔

1834

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1834

Sahih

(۱۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِیُّ وَزِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ وَحَدِیثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ - قَالَ زِیَادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ - عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَۃٍ لَہُ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: اہْتَمَّ النَّبِیُّ -ﷺ- لِلصَّلاَۃِ کَیْفَ یَجْمَعُ النَّاسَ لَہَا ، فَقِیلَ لَہُ: انْصِبْ رَایَۃً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلاَۃِ ، فَإِذَا رَأَوْہَا آذَنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا فَلَمْ یُعْجِبْہُ ذَلِکَ قَالَ فَذُکِرَ لَہُ الْقُنْعُ یَعْنِی الشَّبُّورَ ، وَقَالَ زِیَادٌ شَبُّورَ الْیَہُودِ فَلَمْ یُعْجِبْہُ ذَلِکَ ، وَقَالَ: ((ہُوَ مِنْ أَمْرِ الْیَہُودِ))۔ قَالَ: فَذُکِرَ لَہُ النَّاقُوسُ فَقَالَ: ((ہُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَی))۔ فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ وَہُوَ مُہْتَمٌّ لِہَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأُرِیَ الأَذَانَ فِی مَنَامِہِ قَالَ فَغَدَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَبَیْنَ نَائِمٍ وَیَقَظَانَ إِذْ أَتَانِی آتٍ ، فَأَرَانِی الأَذَانَ۔ قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ رَأَہُ قَبْلَ ذَلِکَ فَکَتَمَہُ عِشْرِینَ یَوْمًا قَالَ ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ: ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُخْبِرَنَا؟))۔ فَقَالَ: سَبَقَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ فَاسْتَحْیَیْتُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَانْظُرْ مَا یَأْمُرُکَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ فَافْعَلْہُ))۔ قَالَ: فَأَذَّنَ بِلاَلٌ۔ قَالَ أَبُو بِشْرٍ فَأَخْبَرَنِی أَبُو عُمَیْرٍ أَنَّ الأَنْصَارَ تَزْعُمُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدٍ لَوْلاَ أَنَّہُ کَانَ یَوْمَئِذٍ مَرِیضًا لَجَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُؤَذِّنًا۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۹۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤) أبی عمیر بن انس اپنے انصار ماموؤں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے لیے اہتمام کیا کہ لوگوں کو کیسے جمع کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : نماز کے وقت جھنڈا گاڑ دیں، جب اس کو دیکھیں گے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بتلا دی گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شبور کا ذکر کیا گیا ، زیاد کہتے ہیں : یہودیوں کا شبور۔ ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا بھی جواب نہیں دیابل کہ فرمایا : یہ یہود کا کام ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ناقوس کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ نصاریٰ کا کام ہے۔ عبداللہ بن زید (رض) پھرے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقصد کا اہتمام کرنے والے تھے ‘ انھیں نیند میں اذان دکھائی گئی ، وہ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، اچانک کوئی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اذان سکھلائی، یہی خواب سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے ان سے پہلے دیکھ لیا تھا، لیکن انھوں نے بیس دن اس کو چھپائے رکھا۔ پھر انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس چیز نے تجھ کو منع کیا تھا کہ تو ہم کو خبر دیتا ؟ انھوں نے عرض کیا : عبداللہ بن زید (رض) مجھ پر سبقت لے گئے ہیں، میں شرماتا رہا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے بلال ! کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو عبداللہ بن زید (رض) تجھے کیا سکھلاتے ہیں۔ پھر بلال (رض) نے اذان دی۔ ابو بشر کہتے ہیں : ابو عمیر نے مجھ کو خبر دی کہ انصارگمان کرتے تھے کہ عبداللہ بن زید اگر ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مؤذن بنا دیتے۔

1835

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1835

Sahih

(۱۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو یَحْیَی: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ السَّمَرْقَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا عَمِّی یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّاقُوسِ یُعْمَلُ لِیُضْرَبَ بِہِ لِلنَّاسِ فِی الْجَمْعِ لِلصَّلاَۃِ أَطَافَ بِی وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوسًا فِی یَدِہِ فَقُلْتُ لَہُ: یَا عَبْدَ اللَّہِ أَتَبِیعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِہِ۔ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِہِ إِلَی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ: أَفَلاَ أَدُلُّکَ عَلَی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَلِکَ؟ قُلْتُ: بَلَی۔ قَالَ: تَقُولُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیدٍ قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلاَۃَ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ مَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٍّ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی ، فَقُمْ مَعَ بِلاَلٍ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَا رَأَیْتُ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ ، فَإِنَّہُ أَنْدَی صَوْتًا مِنْکَ))۔ فَقُمْتُ مَعَ بِلاَلٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤَذِّنُ بِہِ ، فَسَمِعَ بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَہُوَ فِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَہُ وَیَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ مَا رَأَی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَلِلَّہِ الْحَمْدُ))۔ [حسن۔ أخرجہ أبو داؤد ۴۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٥) محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھ کو میرے باپ عبداللہ بن زید نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے جمع کرنے کے لیے بجایا جائے تو ایک شخص نے میرے پاس چکر لگایا اور میں سویا ہوا تھا، اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا : اے اللہ کے بندے کیا تو ناقوس بیچے گا ؟ اس نے کہا : تو اس کا کیا کرے گا ؟ میں نے کہا : ہم نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا : کیا میں آپ کو وہ چیز نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ بہتر ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ اس نے کہا : تو کہہ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ پھر تھوڑی دیر پیچھے ہٹا اور کہا : جب تو اقامت کہے تو کہہ۔ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ صبح کے وقت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی جو میں نے دیکھا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ تم بلال (رض) کے ساتھ کھڑے ہو کہ اس کو سکھا ؤ جو تم نے دیکھا تھا، وہ ان الفاظ کے ساتھ اذان دے وہ تجھ سے زیادہ بلند آواز والا ہے، میں بلال (رض) کے ساتھ کھڑا ہوا، میں انھیں سکھاتا تھا اور وہ اذان دیتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے جب یہ سنا تو وہ اپنے گھر میں تھے، وہ نکلے اور اپنی چادر کو کھینچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی ان کی طرح خواب دیکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔

1836

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1836

Sahih

(۱۸۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ إِلاَّ أَنَّہُ ذَکَرَ التَّکْبِیرَ فِی صَدْرِ الأَذَانِ مَرَّتَیْنِ۔ وَکَذَلِکَ ذَکَرَہُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٦) ہم کو یعقوب نے اسی سند کے ساتھ بیان کیا ہے مگر انھوں نے اذان کے شروع میں تکبیر دو مرتبہ ذکر کی ہے۔

1837

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1837

Sahih

(۱۸۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَہَکَذَا رَوَاہُ الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ یَعْنِی قِصَّۃَ الرُّؤْیَا فِی تَثْنِیَۃِ الأَذَانِ وَإِفْرَادِ الإِقَامَۃِ ، وَقَالَ فِیہِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ وَقَالَ فِیہِ مَعْمَرٌ وَیُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَمْ یُثَنِّیَا۔ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ الإِمَامَ أَبَا بَکْرٍ: أَحْمَدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ: مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی الْمُطَرِّزَ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ: لَیْسَ فِی أَخْبَارِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ فِی قِصَّۃِ الأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ ہَذَا۔ یَعْنِی حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ ، لأَنَّ مُحَمَّدًا سَمِعَ مِنْ أَبِیہِ وَابْنُ أَبِی لَیْلَی لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ۔ وَفِی کِتَابِ الْعِلَلِ لأَبِی عِیسَی التِّرْمِذِیِّ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ یَعْنِی حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ فَقَالَ: ہُوَ عِنْدِی حَدِیثٌ صَحِیحٌ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٧) (الف) عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ وہ اذان میں دو مرتبہ اور اقامت میں ایک مرتبہ خواب کا قصہ مراد لیتے تھے۔ (ب) زہری سے روایت ہے : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ۔ (ج) زہری سے روایت ہے : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ تثنیہ نہیں ہے۔