Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 344

نماز کا بیان

عشاکا آخری وقت اس میں دو قول ہیں : اول یہ کہ رات کے تہائی حصہ میں اور دوسرا رات کے نصف ہونے پر تو جنھوں نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

14 hadiths in this chapter

1748

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1748

Sahih

(۱۷۴۹) بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّنِی جِبْرِیلُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : وَصَلَّی بِیَ الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلَ ۔ یَعْنِی فِی الْمَرَّۃِ الآخِرَۃِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٤٩) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کرائی۔۔۔ اس میں ہے کہ مجھ کو عشا کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے میں پڑھائی، یعنی دوسری مرتبہ۔

1749

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1749

Sahih

(۱۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِی مُوسَی: أَنَّ سَائِلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا حَتَّی أَمَرَ بِلاَلاً ، فَأَقَامَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: وَصَلَّی الْعِشَائَ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَۃِ؟ الْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٠) سیدنا ابی موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ ایک سائل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی۔۔۔ اس میں ہے کہ بلال (رض) کو حکم دیا : انھوں نے عشا کی اقامت کہی، جس وقت سرخی غائب ہوچکی تھی پھر جب دوسرا دن آیا۔ اس میں ہے کہ عشا کی نماز تہائی رات تک پڑھائی، پھر فرمایا : نماز کے اوقات کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔

1750

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1750

Sahih

(۱۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ فِی مَسْجِدِ الرُّصَافَۃِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ : ((اشْہَدْ مَعَنَا الصَّلاَۃَ))۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَلاً فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّی الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالظُّہْرِ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْمَغْرِبِ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعِشَائِ حِینَ وَجَبَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالظُّہْرِ فَأَبْرَدَ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ لَمْ یُخَالِطْہَا صُفْرَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ یَقَعَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بِالْعِشَائِ عِنْدَ ذَہَابِ ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ بَعْضِہِ - شَکَّ أَبُو رَوْحٍ - فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَیْنَ مَا رَأَیْتَ وَقْتٌ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ عَنْ حَرَمِیِّ بْنِ عُمَارَۃَ أَبِی رَوْحٍ۔ وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥١) (الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اندھیرے میں اذان دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج بلند تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے روز حکم دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کا حکم دیا اس کو ٹھنڈا کیا : پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاکا حکم دیایا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ (ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔

1751

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1751

Sahih

(۱۷۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْعَتَمَۃِ حَتَّی نَادَاہُ عُمَرُ فَقَالَ: الصَّلاَۃَ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْیَانُ۔ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((مَا یَنْتَظِرُہَا أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ غَیْرُکُمْ))۔ وَلاَ یُصَلَّی یَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِینَۃِ ، وَکَانُوا یُصَلُّونَ الْعَتَمَۃَ فِیمَا بَیْنَ أَنْ یَغِیبَ شَفَقُ اللَّیْلِ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الثَّانِی احْتَجَّ بِمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٢) زہری کہتے ہیں کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز اندھیرے میں ادا کی، یہاں تک کہ عمر (رض) نے آواز دی کہ نماز ! بچے اور عورتیں سو گئیں ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور فرمایا : تمہارے علاوہ اہل زمین سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا، ان دنوں مدینہ میں نماز پڑھی جاتی تھی اور وہ عشاء کی نماز رات کی سرخی غروب ہونے سے لے کر ایک تہائی رات تک پڑھتے تھے۔

1752

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1752

Sahih

(۱۷۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْعَتَکِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((وَقْتُ صَلاَۃِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامٍ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الأَوْسَطِ۔ وَفِی حَدِیثِ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ : فَإِذَا صَلَّیْتُمُ الْعِشَائَ فَإِنَّہُ وَقْتٌ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۶۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٣) (الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ۔۔۔ عشا کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔ (ب) قتادہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔ (ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ سے منقول ہے کہ جب تم عشا کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔

1753

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1753

Sahih

(۱۷۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ سُئِلَ ہَلِ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ صَلاَۃَ الْعِشَائِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ ، فَلَمَّا صَلَّی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ : ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَّلاَۃٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ))۔ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۵۳۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٤) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگوٹھی بنائی ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز نصف رات تک مؤخرکر دی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز میں ہی رہے ہو جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔

1754

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1754

Sahih

(۱۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: نَظَرْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- لَیْلَۃً حَتَّی کَانَ قَرِیبًا مِنْ نِصْفِ اللَّیْلِ ، فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی قَالَ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ حَلْقَۃَ فِضَّۃٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ: حَتَّی مَضَی شَطْرُ اللَّیْلِ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّبَّاحِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٥) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ تقریباً نصف رات ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور نماز پڑھائی۔ گویا میں چاندی کے حلقے کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ ابی داؤد کی ایک روایت میں ہے کہ نصف رات گذر گئی اور باقی اسی کے ہم معنی ہے۔

1755

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1755

Sahih

(۱۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ ہَلْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَاتَمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، وَقَدْ کَادَ یَذْہَبُ شَطْرُ اللَّیْلِ أَوْ عِنْدَ شَطْرِ اللَّیْلِ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ : ((إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَّلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ)) ۔ قَالَ أَنَسٌ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ مِنْ فِضَّۃٍ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ الْیُسْرَی وَوَصَفَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٦) سیدنا انس (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہاں ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کو مؤخر کردیا، آدھی رات یا اس کے قریب قریب وقت گذر گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے ہو جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں گویا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہاہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔

1756

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1756

Sahih

(۱۷۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ الْعَمِّیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ: أَنَّہُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَرَفَعَ إِصْبَعَہُ الْیُسْرَی الْخِنْصِرَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٧) سیدنا ثابت (رض) نے انس بن مالک (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگوٹھی کے متعلق سوال کیا۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح ہے صرف یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بائیں چھوٹی انگلی اٹھائی۔

1757

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1757

Zaeef

(۱۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْخُرَاسَانِیُّ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃَ إِلَی قَرِیبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی وَقَالَ : ((إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی الصَّلاَۃِ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا ، وَلَوْلاَ کِبَرُ الْکَبِیرِ وَضَعْفُ الضَّعِیفِ))۔ أَحْسِبُہُ قَالَ : ((وَذُو الْحَاجَۃِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن حبان ۱۵۲۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٨) ابی سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کو نصف رات کے قریب تک موخر کیا پھر نکلے اور آپ نے نماز پڑھائی اور فرمایا : تم نماز میں رہے ہو جب تک انتظار کرتے رہے اور اگر مجھے بوڑھے کے بڑھاپے اور ضعیف کے ضعف کا خیال نہ ہوتا۔ راوی کہتا ہے : میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا اور کام والے کے کام کا تو میں ضرور اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کردیتا۔

1758

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1758

Zaeef

(۱۷۵۹) وَہَکَذَا رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَیْرُہُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔ وَخَالَفَہُمْ أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَصْحَابِہِ وَہُمْ یَنْتَظِرُونَ الْعِشَائَ فَقَالَ : ((صَلَّوْا وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَہَا ، أَمَا إِنَّکُمْ فِی صَّلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا، وَلَوْلاَ ضَعْفُ الضَّعِیفِ وَکِبَرُ الْکَبِیرِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔ وَفِی رِوَایَۃِ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَائِشَۃَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ: حَتَّی ذَہَبَ عَامَّۃُ اللَّیْلِ وَحَتَّی نَامَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: حَتَّی ابْہَارَّ اللَّیْلُ۔ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ: حَتَّی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَیْقَظُوا۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: فَخَرَجَ عَلَیْنَا حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ بَعْدَہُ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ: وَکَانَ لاَ یُبَالِی بِتَأْخِیرِ الْعِشَائِ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ثُمَّ قَالَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ۔ وَقَالَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ لَقِیتُہُ مَرَّۃً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَۃَ: إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ۔ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ: إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو یعلیٰ ۱۹۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٥٩) (الف) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام کے پاس آئے ، وہ عشاکا انتظار کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم اس کا انتظار کر رہے ہو، یقیناتم نماز میں رہے ہو جب سے تم اس کا انتظار کر رہے ہو ۔ اگر مجھے ضعیف کے ضعف اور بوڑھے کے بڑھاپے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کردیتا۔ (ب) شعبہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا : یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث شعبہ سے نقل کرتے ہیں نصف رات تک۔ ابو منہال سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔

1759

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1759

Sahih

(۱۷۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلاَۃِ الظُّہْرِ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِینَ یَدْخُلُ وَقْتُہَا ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِینَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَغِیبُ الأُفُقُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَائِ حِینَ یَغِیبُ الأُفُقُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَنْتَصِفُ اللَّیْلُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِینَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ)) (ج) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یُضَعِّفُ حَدِیثَ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَحْسِبُ یَحْیَی یُرِیدُ أَنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَقَالَ: إِنَّمَا یُرْوَی عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ التَّارِیخِ: حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا))۔ رَوَاہُ النَّاسُ کُلُّہُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ مُرْسَلاً۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۵۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦٠) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ ظہر کا اول وقت جس وقت سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت (نماز) عصر (کا وقت) ہوجائے اور عصر کا اول وقت جس وقت اس کا وقت داخل ہوجائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سورج زرد ہوجائے اور مغرب کا اول وقت جس وقت سورج غروب ہوجائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سرخی غائب ہوجائے اور عشاکا اول وقت سرخی غائب ہوجائے اور اس کا آخری وقت جس وقت نصف رات ہوجائے اور فجر کا اول وقت جس وقت فجر طلوع ہوجائے اور اس کا آخری وقت جب سورج طلوع ہوجائے۔ (ب) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ “ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔

1760

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1760

Sahih

(۱۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کَانَ یُقَالُ إِنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِراً فَذَکَرَہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِیُّ وَأَبُو زُبَیْدٍ: عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۵۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦١) مجاہد سے روایت ہے کہ نماز کا اول اور آخری وقت ہے، پھر انھوں اس روایت کو بیان کیا۔

1761

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1761

Sahih

(۱۷۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ: ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ مُجَاہِدٍ کَانَ یَقُولُ: انْظُرُوا یُوَافِقُ حَدِیثِی مَا سَمِعْتُمْ مِنَ الْکِتَابِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ حِینَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ یَعْنِی تَزُولَ ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِینَ تَغِیبُ الشَّمْسُ ، وَصَلُّوا الْعِشَائَ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، وَصَلُّوا الصُّبْحَ بِغَلَسٍ أَوْ بِسَوَادٍ ، وَأَطِیلُوا الْقِرَائَۃَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۰۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦٢) مجاہد فرماتے ہیں : دیکھومیری حدیث کتاب اللہ کے موافق ہے۔ سیدنا عمر (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف لکھا کہ جس وقت سورج بلند ہو تو ظہر کی نماز پڑھو یعنی جب وہ ڈھل جائے اور عصر کی نماز پڑھو سورج سفید صاف ہو اور مغرب کی نماز پڑھو جس وقت سورج غائب ہوجائے اور فرمایا : عشا کی نماز آدھی رات تک پڑھو اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو یا سیاہی میں اور قراءت کو لمبا کرو۔