Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 336

نماز کا بیان

ظہر کا آخری وقت اور عصر کا پہلا وقت

5 hadiths in this chapter

1708

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1708

Sahih

(۱۷۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ حَزْمٍ بَلَغَہُ أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ: نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِالصَّلاَۃِ ، فَأَمَرَہُ فَصَلَّی الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ بِقَدْرِہِ مَرَّۃً ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْعَتَمَۃَ وَہِیَ الْعِشَائُ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ فَأَخَّرَ الظُّہْرَ إِلَی قَدْرِ ظِلِّہِ ، وَأَخَّرَ الْعَصْرَ إِلَی قَدْرِ ظِلِّہِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ حِینَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَعْتَمَ بِالْعِشَائِ ثُمَّ أَصْبَحَ بِالصُّبْحِ ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ صَلاَۃٌ۔ قَالَ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ: وَکَانَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ یُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی وَقْتِ الصَّلاَۃِ نَحْوَ مَا کَانَ أَبُو مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ۔ قَالَ صَالِحٌ وَکَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَأَبُو الزُّبَیْرِ الْمَکِّیُّ یُحَدِثَانِ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیِّ۔ [حسن لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٠٩) سیدنا ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نماز کے اوقات لے کر آئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر عصر کی نماز پڑھی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مقدار کے برابر ہوگیا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر صبح کی نماز پڑھی جس وقت فجر طلوع ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کل تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سایہ کی مقدار ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو مؤخر کیا، دوسری مرتبہ اس کے سایے کی مقدار، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کو اندھیرے (میں ادا) کیا پھر صبح روشن کر کے پڑھی، پھر فرمایا ان دونوں کے درمیان نماز ہے۔

1709

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1709

Sahih

(۱۷۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ، فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْغَدَ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِی آخِرِہِ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ إِنَّ ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ ، وَالْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔ وَکَانَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ یَنْفَصِلُ مِنْ آخِرِ وَقْتِ الظُّہْرِ ، وَإِنَّ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، یَعْنِی حِینَ تَمَّ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ جَاوَزَ ذَلِکَ بِأَقَلَّ مِمَّا یُجَاوِزُہُ ، قَالَ وَبَلَغَنِی عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَی مَا وَصَفْتُ وَأَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ أَرَادَ مَا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧١٠) (الف) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا اور تسمے کے برابر ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا۔ (ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا : پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا۔ (ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ (د) امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور ابن عباس (رض) کا قول کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہوگیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ ابن عباس (رض) کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انھوں نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔

1710

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1710

Zaeef

(۱۷۱۱) أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقْتُ الظُّہْرِ إِلَی الْعَصْرِ ، وَالْعَصْرِ إِلَی الْمَغْرِبِ وَالْمَغْرِبِ إِلَی الْعِشَائِ وَالْعِشَائِ إِلَی الْفَجْرِ۔ تَابَعَہُ حَبِیبُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ صَاحِبِ الأَنْمَاطِ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی وَقْتِ الظُّہْرِ فَقَالَ: وَوَقْتُ صَلاَۃِ الظُّہْرِ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَی صَلاَۃِ الْعَصْرِ أَیُّ وَقْتٍ مَا صَلَّیْتَ فَقَدْ أَدْرَکْتَ۔ وَمَوْجُودٌ فِی السُّنَّۃِ الثَّابِتَۃِ مَعْنَی مَا وَصَفَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی وَہِیَ۔ ضعیف

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧١١) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ظہر کا وقت عصر تک ہے اور عصر کا مغرب تک اور مغرب کا عشاء تک اور عشاء کا فجر تک۔ (ب) ابن عباس (رض) ظہر کے وقت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھل جانے سے عصر کی نماز تک ہے، جس وقت میں بھی تو نے نماز پڑھ لی تو نے اس کو پالیا۔ (ج) اور جو مطلب امام شافعی (رح) نے بیان کیا ہے وہ بھی سنت سے ثابت ہے۔

1711

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1711

Sahih

(۱۷۱۲) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَوُادَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَزْدِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((وَقْتُ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُولِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ یَغِبِ الشَّفَقُ))۔ وَقَالَ شُعْبَۃُ : مَا لَمْ یَقَعْ نُورُ الشَّفَقِ ، ((وَوَقْتُ الْعِشَائِ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ نِصْفِ اللَّیْلِ ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ))۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَۃُ أَحْیَانًا یَرْفَعُہُ وَأَحْیَانًا لاَ یَرْفَعُہُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَہَمَّامٍ ، وَفِیہِ الْبَیَانُ أَنَّ وَقْتَ الظُّہْرِ یَمْتَدُّ إِلَی وَقْتِ الْعَصْرِ ، فَإِذَا جَائَ وَقْتُ الْعَصْرِ ذَہَبَ وَقْتُ الظُّہْرِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧١٢) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظہر کا وقت سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہوجائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو اور عصر کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو اور مغرب کا وقت جب تک سرخی غائب نہ ہو اور شعبہ کہتے ہیں : جب تک شفق کی روشنی واقع نہ ہو اور عشاء کا وقت تیرے اور نصف رات کے درمیان ہے اور صبح کا وقت جب فجر طلوع ہوا اور جب تک سورج طلوع نہ ہو۔

1712

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1712

Sahih

(۱۷۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیُّ عَنْ أَبِیہِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی سَمِعْتُہُ مِنْہُ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ سَائِلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ حِینَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّی ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الظُّہْرَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزَلْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمُ مِنْہُمْ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِینَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ قَالَ ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ یَقُولُ قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمُ مِنْہُمْ ، وَصَلَّی الظُّہْرَ قَرِیبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ، وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ یَغِیبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلَ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ ، مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ وَقْتٌ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ثُمَّ أَخَّرَ الظُّہْرَ حَتَّی کَانَ قَرِیبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ۔ وَفِی ذَلِکَ دَلِیلٌ عَلَی صِحَّۃِ تَأْوِیلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۶۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧١٣) (الف) ابی بکر بن أبی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اقامت کہی جس وقت فجر پھوٹ گئی تو آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا، انھوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ سورج ڈھل گیا یا نہیں ڈھلا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج غروب ہوگیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے عشا کی اقامت کہی سرخی کے غروب ہونے کے وقت۔ پھر کل کو صبح کی نماز پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہوا یا نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زیادہ جاننے والے تھے اور اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی عصر کے وقت کے قریب اور عصر کے نماز پڑھائی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا اور سرخی غروب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی اور عشا کی نماز پہلی تہائی رات کے وقت پڑھائی، پھر فرمایا : وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت نماز کا وقت ہے۔ (ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ اگلے دن عصر کے اول وقت کے قریب ادا فرمائی۔ (ج) اس میں امام شافعی کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔