Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 19 · Chapter 2383

مفلس کے احکام

قرض دار کو چمٹے رہنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

11290

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11290

Sahih

(۱۱۲۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی جَعْفَرٌ یَعْنِی ابْنَ رَبِیعَۃَ عَنِ الأَعْرَجِ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّہُ کَانَ لَہُ مَالٌ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ فَلَقِیَہُ فَلِزَمَہُ فَتَکَلَّمَا حَتَّی ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ فَمَرَّ بِہِمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا کَعْبُ ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ کَأَنَّہُ یَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَیْہِ وَتَرَکَ نِصْفًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فَقَالَ قَالَ اللَّیْثُ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۵۷، و مسلم ۱۵۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٥) حضرت کعب بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی (رض) سے کچھ پیسے لینے تھے۔ میری ملاقات ان سے ہوئی تو میں نے انھیں روک لیا، ہم ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے اور ہماری آواز بلند ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے تو فرمایا : اے کعب ! پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جیسے آپ کہہ رہے ہوں کہ نصف قرضہ لے۔ چنانچہ میں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔

11291

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11291

Zaeef

(۱۱۲۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا ہِرْمَاسُ بْنُ حَبِیبٍ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِغَرِیمٍ لِی فَقَالَ لِی : الْزَمْہُ ۔ ثُمَّ قَالَ لِی : یَا أَخَا بَنِی تَمِیمٍ مَا تُرِیدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِیرِکَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٦) ہرماس بن حبیب جو ایک دیہاتی تھے اپنے دادا سینقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنے ایک مقروض کو لایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اسے پکڑے رکھ، پھر مجھے فرمایا : اے بنی تمیم کے جوان ! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا سلو ک کرنا چاہتا ہے ؟

11292

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11292

Zaeef

(۱۱۲۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بِہَرَاۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا ہِرْمَاسُ بْنُ حَبِیبٍ الْعَنْبَرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّہُ اسْتَعْدَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی غَرِیمٍ فَقَالَ : الْزَمْہُ ۔ ثُمَّ لَقِیَہُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَسِیرُکَ یَا أَخَا بَنِی الْعَنْبَرِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٧) ہرماس بن حبیب عنبری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ایک مقروض کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے تو آپ نے فرمایا : اسے پکڑے رکھ۔ پھر کچھ عرصہ بعد ملے تو فرمایا : اے بنی عنبر کے جوان ! تیرے قیدی کا کیا بنا ؟

11293

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11293

Zaeef

(۱۱۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ سَابَقٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : دَخَلَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْمَسْجِدَ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ مُلاَزِمٌ رَجُلاً قَالَ فَصَلَّی وَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا ہُوَ مُلاَزِمُہُ قَالَ : حَتَّی الآنَ یَا أُبَیُّ حَتَّی الآنَ یَا أُبَیُّ مَنْ طَلَبَ أَخَاہُ فَلْیَطْلُبْہُ بِعَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَیْرِ وَافی ۔ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِکَ تَرَکَہُ وَتَبِعَہُ قَالَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ قُلْتَ قَبْلُ : مَنْ طَلَبَ أَخَاہُ فَلْیَطْلُبْہُ بِعَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَیْرِ وَافٍ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الْعَفَافُ؟ قَالَ : غَیْرَ شَاتِمِہِ وَلاَ مُتَشَدِّدٍ عَلَیْہِ وَلاَ مُتَفَحِّشٍ عَلَیْہِ وَلاَ مُؤْذِیہِ ۔ قَالَ وَافٍ أَوْ غَیْرِ وَافٍ قَالَ : مُسْتَوْفٍ حَقَّہُ أَوْ تَارِکٍ بَعْضَہُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٨) حضرت کعب بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک آدمی کو پکڑ کر بٹھایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے۔ آپ نے نماز پڑھی، پھر اپنا جو کام کرنے آئے تھے وہ کیا۔ ابھی تک میں نے اسے پکڑا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : اے ابی ! تم نے ابھی تک پکڑا ہوا ہے ؟ جو شخص اپنے بھائی سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرے تو عفاف کے ساتھ کرے اور وفا کرتے ہوئے یا غیر وفا کرتے ہوئے۔ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے چھوڑ دیا اور آپ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے کچھ دیر پہلے کہا ہے کہ عفاف کے ساتھ اور واف وغیرواف کے ساتھ قرض کا مطالبہ کرے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ میں نے کہا ہے : اے اللہ کے نبی ! عفاف کسے کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے نہ اسے گالی دے ، نہ اس پر سختی کر، نہ فحش گوئی کر اور نہ اسے تکلیف دے۔ میں نے کہا : واف اور غیر واف کا کیا مطلب ہے ؟ پورا حق لے یا کچھ چھوڑ دے۔