Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 19 · Chapter 2382

مفلس کے احکام

قرضے کا مطالبہ کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

11287

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11287

Sahih

(۱۱۲۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ : کُنْتُ قَیْنًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکَانَ لِی عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَرَاہِمُ فَأَتَیْتُہُ أَتَقَاضَاہُ فَقَالَ : لاَ أَقْضِیکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لاَ أَکْفُرُ حَتَّی یُمِیتَکَ اللَّہُ ثُمَّ یَبْعَثَکَ قَالَ فَذَرْنِی حَتَّی أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ فَأُوتَی مَالاً وَوَلَدًا فَأَقْضِیَکَ فَنَزَلَ { أَفَرَأَیْتَ الَّذِی کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَیَنَّ مَالاً وَوَلَدًا } رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۹۱، مسلم ۲۷۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٢) حضرت خباب فرماتے ہیں کہ میں دور جاہلیت میں لو ہا ر تھا۔ میں نے عاص بن وائل سے کچھ درہم لینے تھے۔ میں اس کے پاس آیا اور مطالبہ کیا تو اس نے کہا : میں تیری رقم نہیں دوں گا حتیٰ کے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کرے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تیری موت اور دوبارہ اٹھنے تک انکار نہیں کروں گا تو اس نے کہا : چلو ٹھیک ہے، اب میرا راستہ چھوڑ دو ۔ جب میں مرجاؤں گا اور دوبارہ اٹھایا جاؤں گا۔ پھر مجھے مال اور اولاد دی جائے گی تو میں اسی وقت تجھے ادائیگی کر دوں گا، اللہ تعالیٰ نے پھر یہ آیت نازل فرمائی۔{ أَفَرَأَیْتَ الَّذِی کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَیَنَّ مَالاً وَوَلَدًا } [مریم ٧٧]

11288

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11288

Sahih

(۱۱۲۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِمِنًی یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا تَقَاضَی عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- دَیْنًا کَانَ لَہُ عَلَیْہِ فَأَغْلَظَ لَہُ فَہَمَّ بِہِ أَصْحَابُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : دَعُوہُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ۔ ثُمَّ قَالَ : اقْضُوہُ ۔ فَقَالُوا : لاَ نَجِدُ إِلاَّ سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّہُ قَالَ : اشْتَرُوہُ وَأَعْطُوہُ فَإِنَّ خَیْرَکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۳۰۵ و مسلم ۱۶۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ قرضہ لینا تھا تو اس نے مطالبہ کیا اور سخت الفاظ کہے، صحابہ کرام نے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا : اسے کچھ نہ کہو بلاشبہ جس نے حق لینا ہوتا ہے وہ باتیں بھی کرتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : اس کو ادائیگی کر دو تو صحابہ کرام کہنے لگے : ہمارے پاس اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ ہے۔ اسے خریدو اور دے دو ۔ تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں اچھا ہو۔

11289

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11289

Sahih

(۱۱۲۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی السَّرِیِّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَلاَمٍ : إِنَّ اللَّہَ لَمَّا أَرَادَ ہُدَی زَیْدِ بْنِ سُعْنَۃَ قَالَ زَیْدٌ مَا مِنْ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّۃِ شَیْء ٌ إِلاَّ وَقَدْ عَرَفْتُہَا فِی وَجْہِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- حِینَ نَظَرْتُ إِلَیْہِ إِلاَّ اثْنَتَانِ لَمْ أَخْبُرْہُمَا مِنْہُ : یَسْبِقُ حِلْمُہُ جَہْلَہُ وَلاَ تَزِیدُہُ شِدَّۃُ الْجَہْلِ عَلَیْہِ إِلاَّ حِلْمًا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی مُبَایَعَتِہِ۔قَالَ زَیْدُ بْنُ سُعْنَۃَ : فَلَمَّا کَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الأَجَلِ بِیَوْمَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَہُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَلَمَّا صَلَّی عَلَی الْجَنَازَۃِ وَدَنَا مِنْ جِدَارٍ لِیَجْلِسَ إِلَیْہِ أَتَیْتُہُ فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ بِوَجْہٍ غَلِیظٍ ثُمَّ أَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِیصِہِ وَرِدَائِہِ فَقُلْتُ : اقْضِنِی یَا مُحَمَّدُ حَقِّی فَوَاللَّہِ مَا عَلِمْتُکُمْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمِطَالٌ لَقَدْ کَانَ لِی بِمُخَالَطَتِکُمْ عِلْمٌ فَنَظَرْتُ إِلَی عُمَرَ وَعَیْنَاہُ تَدُورَانِ فِی وَجْہِہِ کَالْفَلَکِ الْمُسْتَدِیرِ ثُمَّ رَمَانِی بِبَصَرِہِ فَقَالَ : یَا یَہُودِیُّ أَتَفْعَلُ ہَذَا بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَوَالَّذِی بَعَثَہُ بِالْحَقِّ لَوْلاَ مَا أُحَاذِرُ فَوْتَہُ لَضَرَبْتُ بِسَیْفِی رَأْسَکَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْظُرُ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی سُکُونٍ وَتُؤَدَۃٍ وَتَبَسُّمٍ ثُمَّ قَالَ : یَا عُمَرُ أَنَا وَہُوَ کُنَّا إِلَی غَیْرِ ہَذَا مِنْکَ أَحْوَجَ أَنْ تَأْمُرَنِی بِحُسْنِ الأَدَائِ وَتَأْمُرَہُ بِحُسْنِ التِّبَاعَۃِ اذْہَبْ بِہِ یَا عُمَرُ فَاقْضِہِ حَقَّہُ وَزِدْہُ عِشْرِینَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَکَانَ مَا رُعْتَہُ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی إِسْلاَمِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٨٤) حضرت عبداللہ بن سلام (رض) فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کی ہدایت کا ارادہ فرمایا تو زید کہنے لگے : جب میں نے محمد کو دیکھا تو نبوت کی تمام علامات پہچان لیں، سوائے دو علامات کے، ایک یہ کہ اس کا حلم اس کے جہل یعنی غصے پر غالب ہوگا اور جتنا ان کے ساتھ جہالت کا رویہ اختیار کیا جائے گا اتنا ہی ان کا حلم بڑھے گا۔ پھر انھوں نے آپ کے ساتھ ایک بیع کا تذکرہ کیا۔ زید فرماتے ہیں : وعدے کے دو یا تین دن پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انصاری صحابی کے جنازے کے لیے اپنے گھر سے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان اور دیگر صحابہ بھی تھے۔ چنانچہ جب جنازہ پڑھ لیا اور دیوار کے ساتھ بیٹھ گے تو میں آپ کے پاس آیا اور غصے سے آپ کی طرف دیکھا، پھر میں نے آپ کی قمیص اور چادر کے پہلوؤں کو پکڑ کر کہا : اے محمد ! میرا حق مجھے دو ، اللہ کی قسم ! تم سب عبدالمطلب کے خاندان والے قرض ادا کرنے میں لیت ولعل سے کام لیتے ہو، مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ تم ایسے ہی کرو گے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر کو دیکھا کہ ان کی آنکھیں ان کے چہرے میں گھوم رہی تھیں۔ پھر انھوں نے مجھے غصے سے دیکھا اور کہا : اے یہودی ! کیا تو اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا کررہا ہے۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد کو حق دے کر بھیجا ہے اگر مجھے کسی چیز کا ڈر نہ ہوتا تو اپنی تلوار تیرے سر میں مار دیتا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمر کی طرف بڑے اطمینان اور سکون اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں اور وہ تم سے کسی اور سلوک کے خواہاں تھے۔ تم مجھے حسن ادائیگی کا کہتے اور اسے حسن تقاضی کا کہتے۔ اب اسے لے جا اور اس کا قرض ادا کر دے اور اسے بیس صاع کھجور اضافی دے دو؛ کیونکہ تو نے اسے دھمکایا ہے۔ پھر انھوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کیا۔