Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 18 · Chapter 2367

رہن کا بیان

گروی رکھا ہوا جوس شراب بن جائے تو وہ گروی نہیں رہے گا اور شراب کا سرقہ بنانا بھی جائز نہیں ہے

5 hadiths in this chapter

11202

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11202

Sahih

(۱۱۱۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلاًّ قَالَ : لاَ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَفِی رِوَایَۃِ قَبِیصَۃَ قَالَ عَنْ أَبِی ہُبَیْرَۃَ وَأَبُو ہُبَیْرَۃَ ہُوَ یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُجْعَلُ خَلاًّ فَکَرِہَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح مسلم ۱۹۸۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٩٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کیا شراب کو سرقہ بنا سکتے ہیں ؟ آپنی فرمایا : نہیں ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کیا شراب کو سرقہ بنا سکتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ناپسند کیا۔

11203

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11203

Zaeef

(۱۱۱۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ أَبِی ہُبَیْرَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِی حَجْرِہِ یَتِیمٌ وَکَانَ عِنْدَہُ خَمْرٌ حِینَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصْنَعُہَا خَلاًّ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَصَبَّہُ حَتَّی سَالَ بِہِ الْوَادِی۔ وَرَوَاہُ وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ وَذَکَرَ أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ سَأَلَہُ عَنْ أَیْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ : أَہْرِقْہَا ۔ قَالَ : أَفَلاَ أَجْعَلُہَا خَلاًّ قَالَ: لاَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٩٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس کی گود میں یتیم بچے تھے اور اس کے پاس شراب تھی جب کہ اس وقت شراب حرام کردی گئی تھی۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں شراب کو سرقہ بنالوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں تو اس نے اسے انڈیل دیا حتیٰ کے وادی بہہ پڑی۔ امام وکیع نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے ابو طلحہ کے بارے میں کہا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یتیموں کو ملی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اسیبہا دو انھوں نے کہا : کیا میں اسے سرقہ بنا لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔

11204

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11204

Zaeef

(۱۱۱۹۹) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ِسْرَائِیلُ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ فِی حَجْرِ أَبِی یَتَامَی قَالَ فَاشْتَرَی خَمْرًا فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِیمُ الْخَمْرِ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : أَجْعَلُہُ خَلاًّ قَالَ : لاَ ۔ فَأَہْرَاقَہُ۔ قَوْلُہُ فِی حَجْرِ أَبِی یُرِیدُ حَجْرَ أَبِی طَلْحَۃَ وَکَانَ زَوْجَ أُمِّہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٩٩) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتی ہیں : میرے باپ کی پرورش میں یتیم تھے۔ میرے باپ نے شراب خریدی۔ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا اور کہا : کیا میں اسے سرقہ بنا لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں تو انھوں نے اسے انڈیل دیا (باپ سے مراد ابو طلحہ ہیں کیونکہ وہ ان کی ماں کے خاوند تھے ) ۔

11205

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11205

Zaeef

(۱۱۲۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ عِنْدَہُ مَالُ أَیْتَامٍ قَالَ فَکَانَ یَشْتَرِی لَہُمُ الرُّجَّعَ وَالأَنْضَائَ یُصْلِحُہَا وَیَبِیعُہَا قَالَ فَاشْتَرَی خَمْرًا فَجَعَلَہُ فِی الْخَوَابِی وَإِنَّ اللَّہَ تَبَارَک وَتَعَالَی أَنْزَلَ تَحْرِیمَ الْخَمْرِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ فَقَالَ : أَہْرِقْہُ ۔ ثُمَّ سَأَلَہُ فَقَالَ : أَہْرِقْہُ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَیْسَ لَہُمْ مَالٌ غَیْرُہُ قَالَ : أَہْرِقْہُ ۔ فَأَہْرَاقَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٠٠) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : ایک آدمی کے پاس یتیموں کا مال تھا تو وہ ان کے لیے پرانی اور خراب چیزیں خریدتا اور ان کو درست کر کے بیچ دیتا تھا۔ ایک دن اس نے شراب خریدی اور مٹکوں میں ڈال لی۔ پھر اللہ نے شراب کی حرمت نازل کی۔ وہ بنی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے فرمایا : شراب بہا دو ، پھر انھوں نے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر وہی جواب دیا، اس نے پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! ان کا صرف یہی مال ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انڈیل دو چنانچہ اس نے اسے انڈیل دیا۔

11206

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11206

Sahih

(۱۱۲۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِیَ بِالطِّلاَئِ وَہُوَ بِالْجَابِیَۃِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ یُطْبَخُ وَہُوَ کَعِقِیدِ الرُّبِّ فَقَالَ : إِنَّ فِی ہَذَا لَشَرَابًا مَا انْتُہِی إِلَیْہِ فَلاَ یُشْرَبْ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّی یُبْدِئَ اللَّہُ فَسَادَہَا فَعِنْدَ ذَلِکَ یَطِیبُ الْخَلُّ وَلاَ بَأْسَ عَلَی امْرِئٍ أَنْ یَبْتَاعَ خَلاًّ وَجَدَہُ مَعَ أَہْلِ الْکِتَابِ مَا لَمْ یَعْلَمْ أَنَّہُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَہَا بَعْدَ مَا عَادَتْ خَمْرًا قَوْلُہُ أُفْسِدَتْ یَعْنِی عُولِجَتْ۔ [صحیح۔ بخاری الیٰ قولہ لیطیب الخل]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢٠١) حضرت عمر بن خطاب (رض) کے آزادکردہ غلام حضرت اسلم سے روایت ہے کہ : حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس جابیہنامی جگہ پر ایکطلائلایا گیا اور وہ اس دن کچھ پکایا گیا تھا ۔ گویا کہ وہ کچھ کھجور وغیرہ کا گاڑھا شیرہ ہے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اس میں شراب ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ شراب کا سرکہ نہ پیا جائے جو خراب ہوچکا ہو۔ یہاں تک کہ اللہ اس کا فسادواضح کر دے ، پھر یہ پاک ہوجائے گی اور اس کی خریدو فروخت کرنے میں آدمی پر کوئی حرج نہیں ۔ انھوں نے اہل کتاب کے پاس اس (سرکہ ) کو پایا، جس کا انھیں علم نہ ہوا کہ انھوں نے جان بوجھ کر اس سے سرکہ بنایا جبکہ وہ شراب بن چکی تھی ۔