Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2355

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

نرخ مقرر کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

11148

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11148

Zaeef

(۱۱۱۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ سَعِّرْ فَقَالَ : بَلْ ادْعُ اللَّہَ ۔ ثُمَّ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ سَعِّرْ قَالَ : بَلِ اللَّہُ یَرْفَعُ وَیَخْفِضُ وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ أَلْقَی اللَّہَ وَلَیْسَتْ لأَحَدٍ عِنْدِی مَظْلَمَۃٌ ۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلاَئِ۔ [مسند احمد ۸۲۴۳،۸۶۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ایک آدمی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! ریٹ مقرر کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا : ریٹ مقرر کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ہی نرخ بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔ میں تمنا اور امید کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں کہ میں نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو ۔

11149

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11149

Zaeef

(۱۱۱۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِیبٍ الْفَامِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ مِنْ أَصْلِہِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ وَثَابِتٍ وَحُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : َلاَ السِّعْرُ عَلَی عَہْدِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ غَلاَ السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ ہُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ أَلْقَی رَبِّی وَلَیْسَ أَحَدٌ مِنْکُمْ یَطْلُبُنِی بِمَظْلَمَۃٍ فِی دَمٍ وَلاَ مَالٍ۔ [مسند احمد ۲۸۶۳،۱۴۱۰۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٤٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! نرخ بڑھ گئے ہیں، آپ ہمارے لیے کوئی نرخ مقرر کردیں تو آپ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی نرخ کم کرنے والا اور بڑھا نے والا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں گا کہ مجھ سے کوئی ایک بھی خون یا مال کے بارے میں حق لینے والا نہیں ہوگا۔

11150

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11150

Zaeef

(۱۱۱۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ: جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَکِیلُ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ ہُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَفَّانَ وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٤٥) گزشتہ حدیث کی طرح ہے، اس میں صرف یہ زیادتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰپیدا کرنے والا ہے، وہی روزی تنگ اور فرخ کرنے والا ہے رزق دینے والا اور نرخ مقرر کرنے والا ہے۔

11151

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11151

Zaeef

(۱۱۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ عَنْ یُونُسَ بْنِ یُوسُفَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ عَلَی حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ وَہُوَ یَبِیعُ زَبِیبًا لَہُ بِالسُّوقِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : إِمَّا أَنْ تَزِیدَ فِی السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا۔ فَہَذَا مُخْتَصَرٌ۔وَتَمَامُہُ فِیمَا رَوَی الشَّافِعِیُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِیِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : أَنَّہُ مَرَّ بِحَاطِبٍ بِسُوقِ الْمُصَلَّی وَبَیْنَ یَدَیْہِ غَرَارَتَانِ فِیہِمَا زَبِیبٌ فَسَأَلَہُ عَنْ سِعْرِہِمَا فَسَعَّرَ لَہُ مُدَّیْنِ لِکُلِّ دِرْہَمٍ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ قَدْ حُدِّثْتُ بِعِیرٍ مُقْبِلَۃٍ مِنَ الطَّائِفِ تَحْمِلُ زَبِیبًا وَہُمْ یَعْتَبِرُونَ بِسِعْرِکَ فَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ فِی السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تُدْخِلَ زَبِیبَکَ الْبَیْتَ فَتَبِیعَہُ کَیْفَ شِئْتَ۔ فَلَمَّا رَجَعَ عُمَرُ حَاسَبَ نَفْسَہُ ثُمَّ أَتَی حَاطِبًا فِی دَارِہِ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ الَّذِی قُلْتُ لَیْسَ بِعَزْمَۃٍ مِنِّی وَلاَ قَضَائٍ إِنَّمَا ہُوَ شَیْء ٌ أَرَدْتُ بِہِ الْخَیْرَ لأَہْلِ الْبَلَدِ فَحَیْثُ شِئْتَ فَبِعْ وَکَیْفَ شِئْتَ فَبِعْ۔ وَہَذَا فِیمَا کَتَبَ إِلَیَّ أَبُو نُعَیْمٍ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْحَسَنِ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَنَّ أَبَا عَوَانَۃَ أَخْبَرَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٤٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں : حضرت عمر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس سے گزرے، وہ بازار میں کش مش بیچ رہے تھے، حضرت عمر نے فرمایا : یا تو آپ ریٹ کم کریں یا پھر ہمارے بازار سے چلے جائیں۔ یہ مختصر ہے یہ تمام حدیث امام شافعی نے روایت کی ہے۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں : حضرت عمر عید گاہ کے بازار میں حضرت حاطب (رض) کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے دو ٹوکریاں کش مش کی بھری پڑی تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے ان کا نرخ پوچھا تو انھوں نے کہا : دو مد ایک درہم میں دے رہا ہوں۔ حضرت عمر (رض) ان سے کہنے لگے : مجھے طائف سے آنے والے ایک قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آپ کے نرخ کا اعتبار کرتے ہیں یا تو آپ نرخ کم کریں یا پھر گھر میں بیٹھ کر بیچیں جیسے چاہیں۔ چنانچہ جب حضرت عمر گھر آئے اور سوچ بچار کی تو پھر حضرت حاطب (رض) کے گھر ان سے ملنے گئے اور ان سے کہا : جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں اور نہ میری طرف سے وہ فیصلہ تھا، میں نے یہ بات صرف شہریوں کی بھلائی کے لیے کی تھی۔ اب آپ جہاں چاہیں بیچیں اور جتنے میں چاہیں بیچیں ۔