Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2324

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

جو شخص یہ کہے کہ خوشحالی کے وقت ادا کر دوں گا

2 hadiths in this chapter

11006

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11006

Zaeef

(۱۱۰۰۱) أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ لِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : إِنِّی أَنْزَلْتُ نَفْسِی مِنْ مَالِ اللَّہِ بِمَنْزِلَۃِ وَالِی الْیَتِیمِ إِنِ احْتَجْتُ أَخَذَتُ مِنْہُ فَإِذَا أَیْسَرْتُ رَدَدْتُہُ وَإِنِ اسْتَغْنَیْتُ اسْتَعْفَفْتُ۔ [اخرجہ سعید بن منصور رقم ۷۸۸، تفسیر ابن کثیر ۲۔۲۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٠١) اگر حضرت براء فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر (رض) نی فرمایا : میں اللہ کے مال کو ایسے سمجھتا ہوں جیسے یتیم کا سرپرست یتیم کے مال کو سمجھتا ہے ، اگر ضرورت پڑتی ہے تو میں لے لیتا ہوں اور خوشحالی کے وقت لوٹا دیتا ہوں اور اگر ضرورت نہ پڑے تو میں نہیں لیتا “۔ یہ روایت ضعیف ہے۔

11007

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11007

Sahih

(۱۱۰۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ (وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ) قَالَ : یَأْکُلُ وَالِی الْیَتِیمِ مِنْ مَالِ الْیَتِیمِ قُوتَہُ وَیَلْبَسُ مِنْہُ مَا یَسْتُرُہُ وَیَشْرَبُ فَضْلَ اللَّبَنِ وَیَرْکَبُ فَضْلَ الظُّہْرِ فَإِنْ أَیْسَرَ قَضَی وَإِنْ أَعْسَرَ کَانَ فِی حِلٍّ۔ ورُوِّینَا عَنْ عَبِیدَۃَ وَمُجَاہِدٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَأَبِی الْعَالِیَۃِ أَنَّہُمْ قَالُوا : یَقْضِیہِ وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : لاَ یَقْضِیہِ۔ [روایت ضعیف ہے]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٠٢) حضرت ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ ) کے بارے میں فرماتے ہیں : سرپرست بھوک مٹاسکتا ہے اور ستر ڈھا پنے کے لیے اس کے مال سے کپڑا بھی لے سکتا ہے، اضافی دودھ پی سکتا ہے اور زائد سواری پر سوار بھی ہوسکتا ہے، بعد میں اگر خوشحالی ہوجائے تو لوٹادے ورنہ حلال ہے “۔ عبیدہ ، مجاہد اور سعید بن خیبروغیرھ فرماتے ہیں کہ قضاکرے گا اور حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ قضا نہیں کرے گا۔