Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2251

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

11 hadiths in this chapter

10640

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10640

Sahih

(۱۰۶۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُزَابَنَۃِ۔ وَالْمُزَابَنَۃُ : أَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ ثَمَرَ نَخْلِہِ کَیْلاً وَکَرْمَہُ بِالزَّبِیبِ کَیْلاً۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْمُزَابَنَۃُ : بَیْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَیْلاً وَبَیْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِیبِ کَیْلاً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۷۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٣٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” مزابنہ “ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی تازہ کھجوریں ماپ کر خشک کھجور کے بدلے فروخت کرے اور انگور کو ماپے ہوئے کے عوض فروخت کرے۔ (ب) شافعی کی روایت میں ہے کہ مزابنہ یہ ہے : درختوں کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے جو ماپی ہوں فروخت کرنا، اور تازہ انگوروں کو ماپے ہوئے منقی کے بدلے فروخت کرنا۔

10641

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10641

Sahih

(۱۰۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِیُّ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَیَّاضِ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ۔ وَالْمُزَابَنَۃُ : أَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ ثَمَرَتَہُ کَیْلاً إِنْ زَادَ فَلِی وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَیَّ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَارِمٍ أَنْ یَبِیعَ الثَّمَرَۃَ بِکَیْلٍ۔وَزَادَ أَبُو الرَّبِیعِ بِہَذَا الإِسْنَادِ فِی رِوَایَتِہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَخَّصَ فِی بَیْعِ الْعَرَایَا بِخَرْصِہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۶۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٣٦) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کھجور کا پھل ماپ کر فروخت کرے اگر زیادہ ہوا تو میرے لیے اور اگر کم ہوجائے تو میرے ذمہ ہے۔ (ب) عارم کی روایت میں ہے کہ تازہ کھجوریں ماپ کر فروخت کرے۔ (ج) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع عرایا میں اندازے کی رخصت دی ہے۔

10642

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10642

Sahih

(۱۰۶۳۷) وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ وَزَادَ فِیہِ قَالَ نَافِعٌ وَالْمُحَاقَلَۃُ فِی الزَّرْعِ بِمَنْزِلَۃِ الْمُزَابَنَۃِ فِی النَّخْلِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٣٧) سلیمان بن حرب حماد سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں زیادہ ہے، نافع کہتے ہیں کہ محاقلہ کھیتی کے بارے میں ہے مزابنہ کے کھجور کے قائم مقام۔

10643

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10643

Sahih

(۱۰۶۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُزَابَنَۃِ ، وَالْمُزَابَنَۃُ : أَنْ یَبِیعَ ثَمَرَ حَائِطِہِ إِنْ کَانَ نَخْلاً بِتَمْرٍ کَیْلاً وَإِنْ کَانَ کَرْمًا أَنْ یَبِیعَہُ بِزَبِیبٍ کَیْلاً وَإِنْ کَانَ زَرْعًا أَنْ یَبِیعَہُ بِکَیْلِ طَعَامٍ نَہَی عَنْ ذَلِکَ کُلِّہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ بخاری۲۰۹۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٣٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کا پھل فروخت کرے۔ اگر کھجور ہے تو خشک کھجور کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کی جائیں۔ اگر انگور ہے تو وہ اپنے انگور کو منقہ کے بدلے متعین ماپ سے فروخت کرے۔ اگر کھیتی ہے تو متعین ماپے ہوئے غلہ کے عوض فروخت کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تمام سے منع فرمایا ہے۔

10644

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10644

Sahih

(۱۰۶۳۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُخَابَرَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ وَرَخَّصَ فِی بَیْعِ الْعَرَایَا۔وَالْمُخَابَرَۃُ کِرَائُ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالْمُحَاقَلَۃُ : اشْتِرَائُ السُّنْبُلَۃِ بِالْحِنَطَۃِ وَالْمُزَابَنَۃُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ۔قُلْت لِسُفْیَانَ : ہَذَا التَّفْسِیرُ فِی حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : نَعَمْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ دُونَ التَّفْسِیرِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۵۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٣٩) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ، مخابرہ، مزابنہ، سے منع فرمایا اور بیع عرایا میں رخصت دی۔ مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پردے اور محاقلہ یہ ہے کہ بالیوں میں گندم کے بدلے خریدنا اور مزابنہ یہ ہے کہ تازہ پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔ میں نے سفیان سے کہا : یہ ابن جریج کی حدیث میں تفسیر ہے ؟ فرماتے ہیں : ہاں۔

10645

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10645

Sahih

(۱۰۶۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ فِی الْحَدِیثِ وَالْمُحَاقَلَۃُ أَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَۃِ فَرَقِ حِنْطَۃٍ وَالْمُزَابَنَۃُ : أَنْ یَبِیعَ الثَّمَرَ فِی رُئُ وسِ النَّخْلِ بِمِائَۃِ فَرَقِ تَمْرٍ وَالْمُخَابَرَۃُ : کِرَائُ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٤٠) سفیان بن عیینہ ابن جریج سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اس کا معنیٰ ذکر کیا ہے، دونوں حدیث کے بارے میں کہتے ہیں۔ محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص گندم کی کھیتی کو ایک سو فرق کے عوض فروخت کر دے۔ (فرق : ٣ صاع، ایک صاع ٢١٠٠ گرام۔ تین صاع۔ ٦٣٠٠ گرام سو فرق ٦٣٠٠٠ گرام) مزابنہ یہ ہے کہ تازہ پھل جو کھجوروں کے اوپر ہے اس کو سو فرق خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا ۔ مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار ایک تہائی یا ایک چوتھائی حصے کے بدلے زمین کرائے پر دینا۔

10646

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10646

Sahih

(۱۰۶۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَّہُ قَالَ لِعَطَائٍ: وَمَا الْمُحَاقَلَۃُ؟ قَالَ: الْمُحَاقَلَۃُ فِی الْحَرْثِ کَہَیْئَۃِ الْمُزَابَنَۃِ فِی النَّخْلِ سَوَائً بَیْعُ الزَّرْعِ بِالْقَمْحِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ فَقُلْتُ لِعَطَائٍ: أَفَسَّرَ لَکُمْ جَابِرٌ فِی الْمُحَاقَلَۃِ کَمَا أَخْبَرْتَنِی قَالَ: نَعَمْ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٤١) ابن جریج نے حضرت عطاء سے کہا کہ محاقلہ کیا ہے ؟ فرماتے ہیں : محاقلہ کھیتی کے بارے میں ویسے ہی ہے جیسے مزابنہ کی حیثیت کھجور کے بارے میں ہوتی ہے، برابر ہے کہ کھیتی کو گندم کے بدلے فروخت کیا جائے۔ ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : کیا جابر نے تمہارے لیے یہ تفسیر بیان کی تھی، جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا ہے، فرمانے لگے : ہاں۔

10647

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10647

Sahih

(۱۰۶۴۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِی أَحْمَدَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَالْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃُ : اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِی رُئُ وسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَۃُ اسْتِکْرَائُ الأَرْضِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٤٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔ محاقلہ زمین کو کرائے پر دینا۔

10648

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10648

Sahih

(۱۰۶۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ َبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ۔ وَکَانَ عِکْرِمَۃُ یَکْرَہُ بَیْعَ الْقَصِیلِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۷۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٤٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے اور عکرمہ بیع قصیل کو ناپسند کرتے تھے۔ یعنی بیع محاقلہ کا دوسرا نام۔

10649

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10649

Sahih

(۱۰۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُونَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّیرَازِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ ہُوَ ابْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الإِسْکَنْدَرَانِیُّ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۴۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٤٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔

10650

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10650

Sahih

(۱۰۶۴۵) وَرَوَاہُ شَرِیکٌ النَّخَعِیُّ عَنْ سُہَیْلٍ فَزَادَ فِیہِ : فَأَمَّا الْمُزَابَنَۃُ فَأَنْ تَشْتَرِیَ الثَّمَرَ فِی النَّخْلِ بِالتَّمْرِ وَأَمَّا الْمُحَاقَلَۃُ أَنْ نَشْتَرِیَ الْحِنْطَۃَ فِی السُّنْبُلِ بِالْحِنْطَۃِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٤٥) شریک نخعی حضرت سہیل سے نقل کرتے ہیں کہ اس میں کچھ اضافہ ہے، مزابنہ یہ ہے کہ آپ کھجور کا تازہ پھل خشک کھجور کے بدلے فروخت کردیں۔ محاقلہ کہ آپ بالیوں میں پڑی گندم گندم کے عوض فروخت کردیں۔