Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2235

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

وزن کی جانے والی اشیاء کی ہم مثل کا اعتبار ہوتا ہے اور ماپی جانے والی اشیاء کا بھی ہم مثل کا خیال کیا جاتا ہے، جس وقت ایک جنس فروخت کی جائے جن میں سود ہوسکتا ہے

5 hadiths in this chapter

10546

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10546

Sahih

(۱۰۵۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ أَنَّہُ شَاہَدَ خُطْبَۃَ عُبَادَۃَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ کَیْلاً بِکَیْلٍ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ کَیْلاً بِکَیْلٍ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۱۰۵۰۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤١) ابوالاشعث، حضرت عبادہ (رض) کے خطبہ میں موجود تھے، جو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا، فرماتے ہیں کہ سونا سونے کے بدلے برابر، برابر اور چاندی چاندی کے بدلے برابر، برابر وزن اور گندم گندم کے بدلے برابر ، ماپ اور جو جو کے بدلے برابر ماپ، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔

10547

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10547

Sahih

(۱۰۵۴۲) وَرَوَی بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ بِإِسْنَادِہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ تِبْرُہَا وَعَیْنُہَا وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ تِبْرُہَا وَعَیْنُہَا وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْیٌ بِمُدْیٍ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ مُدْیٌ بِمُدْیٍ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْیٌ بِمُدْیٍ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْیٌ بِمُدْیٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٢) قتادہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے اس کی ڈلیاں اور اصل، چاندی چاندی کے بدلے اس کی ڈلی اور اصل، گندم گندم کے بدلے مد مد کے عوض۔ جَو جَو کے بدلے۔ مد مد کیبدلے اور کھجور کھجور کے مد کے بدلے مد ۔ اور نمک نمک کے مد کے بدلے ۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا اس نے سود وصول کیا۔

10548

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10548

Sahih

(۱۰۵۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ سُہَیْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَی خَیْبَرَ فَجَائَ ہُ بِتَمْرٍ جَنِیبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَکُلُّ تَمْرِ خَیْبَرَ ہَکَذَا؟ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ ہَذَا بِالصَّاعَیْنِ وَالصَّاعَیْنِ بِالثَّلاَثَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاہِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاہِمِ جَنِیبًا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۰۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا ، وہ عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح کی ہیں ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! اس طرح کی نہیں ہیں۔ بلکہ ہم دو صاع دے کر ایک صاع وصول کرتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کرو ۔ ردی کو فروخت کر کے پھر عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔

10549

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10549

Sahih

(۱۰۵۴۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہْوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَکُنَّا نَبِیعُ الصَّاعَیْنِ بِالصَّاعِ فَقَالَ یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- : لاَ وَلاَ الدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمَیْنِ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۹۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٤) ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ملی جلی کھجوروں کا رزق دیے گئے یعنی وہ ملی جلی ہی ہوتی تھیں تو ہم دو صاع کے بدلے ایک صاع لے لیتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ ایک درہم دو درہم کے عوض بھی نہیں۔

10550

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10550

Sahih

(۱۰۵۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَیْبَانَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ صَاعَیْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلاَ صَاعَیْ حِنْطَۃٍ بِصَاعٍ وَلاَ دِرْہَمَیْنِ بِدِرْہَمٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٤٥) عبیداللہ بن موسیٰ شیبان سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی تو فرمایا : کھجور کے دو صاع کے بدلے ایک صاع ہو نہ گندم کے دو صاع کے بدلے ایک صاع اور نہ ہی دو درہم کے بدلے ایک درہم لینا جائز ہے۔