Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2230

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

جس نے کہا کہ ہر ماپی اور تولی جانے والے اشیاء میں سود ہوتا ہے

4 hadiths in this chapter

10523

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10523

Sahih

(۱۰۵۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ سُہَیْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَأَبَا سَعِیدٍ حَدَّثَاہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ أَخَا بَنِی عَدِیٍّ الأَنْصَارِیَّ فَاسْتَعْمَلَہُ عَلَی خَیْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِیبٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَکُلُّ تَمْرِ خَیْبَرَ ہَکَذَا ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا نَشْتَرِی الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ مِنَ الْجَمْعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَفْعَلُوا وَلَکِنْ مِثْلاً بِمِثْلٍ أَوْ تَبِیعُوا ہَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِہِ مِنْ ہَذَا وَکَذَلِکَ الْمِیزَانُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْس عَنْ أَخِیہِ عَنْ سُلَیْمَانَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیث مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ دُونَ قَوْلِہِ وَکَذَلِکَ الْمِیزَانُ۔ وَرَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۹۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥١٨) حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابو سعید (رض) دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عدی انصار قبیلہ کے ایک شخص کو خیبر پر عامل بنایا، وہ عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح کی ہیں۔ اس نے کہا : نہیں اللہ کے رسول ! ہم ایک صاع دو صاعوں کے عوض لیتے ہیں ملی جلی کھجوروں سے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایسا نہ کیا کرو۔ لیکن برابر، برابریا تم اس کو فروخت کر کے ان کی قیمت سے یہ خرید لیا کرو۔ اس طرح وزن ہے۔

10524

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10524

Zaeef

(۱۰۵۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَیَّانُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَدَوِیُّ أَبُو زُہَیْرٍ قَالَ : سُئِلَ لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ أَبُو مِجْلَزٍ وَأَنَا شَاہِدٌ عَنِ الْصَرْفِ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِہِ حَتَّی لَقِیَہُ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ فَقَالَ لَہُ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلاَ تَتَّقِی اللَّہَ حَتَّی مَتَی تُؤْکِلُ النَّاسَ الرِّبَا أَمَا بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ وَہُوَ عِنْدَ زَوْجَتِہِ أُمِّ سَلَمَۃَ : إِنِّی أَشْتَہِی تَمْرَ عَجْوَۃٍ ۔ وَأَنَّہَا بَعَثَتْ بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِیقٍ إِلَی مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأُتِیَتْ بَدَلَہُمَا بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَۃٍ فَقَدَّمَتْہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَعْجَبَہُ فَتَنَاوَلَ تَمْرَۃً ثُمَّ أَمْسَکَ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا ۔ قَالَتْ : بَعَثْتُ بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِیقٍ إِلَی مَنْزِلِ فُلاَنٍ فَأَتَیْنَا بَدَلَہَا مِنْ ہَذَا الصَّاعِ الْوَاحِدِ فَأَلْقَی التَّمْرَۃَ مِنْ یَدِہِ وَقَالَ : رُدُّوہُ رُدُّوہُ لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ وَالذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ یَدًا بِیَدٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ لَیْسَ فِیہِ زِیَادَۃٌ وَلاَ نُقْصَانُ فَمَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَرْبَی وَکُلُّ مَا یُکَالُ أَوْ یُوزَنُ ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَکَّرْتَنِی یَا أَبَا سَعِیدٍ أَمْرًا نَسِیتُہُ أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَکَانَ یَنْہَی بَعْدَ ذَلِکَ أَشَدَّ النَّہْیِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥١٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) صرف میں تفاضل کے قائل تھے وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے، جب وہ ابوسعید خدری (رض) سے ملے تو ابو سعید (رض) کہنے لگے : اے ابن عباس ! کیا آپ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ کب تک آپ لوگوں کو سود کھلاؤ گے۔ کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیوی ام سلمہ (رض) کے پاس تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عجوہ کھجور کھانے کو میرا دل چاہتا ہے تو ام سلمہ (رض) نے پرانی کھجوروں کے دو صاع ایک انصاری کے گھر بھیج دے اور اس کے عوض ایک صاع عجوہ کھجور کا ان کو مل گیا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کی۔ آپ کو بڑی پسند آئیں۔ آپ نے ایک کھجور پکڑی ۔ پھر رک گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں یہ کہاں سے ملی ہیں تو ام سلمہ (رض) نے کہا کہ میں نے دو صاع پرانی کھجوریں فلاں کے بھیجی تھیں تو اس کے بدلے یہ ایک صاع آیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ سے کھجور ڈال دی اور فرمایا : تم اس کو واپس کر دو ۔ تم اس کو واپس کر دو ۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم۔ جو کے بدلے جَو سونے کے بدلے سونا چاندی کے بدلے چاندی برابر، برابر اور نقد ہونا چاہیے۔ اس میں کمی یا زیادتی درست نہیں ہے، جس نے زیادہ یا کمی کی اس نے سود حاصل کیا۔ ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جائے یا ماپی جائے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اے ابو سعید ! آپ نے مجھے ایسا معاملہ یاد کروا دیا جو میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔

10525

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10525

Zaeef

(۱۰۵۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَیَّانُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ أَبُو زُہَیْرٍ قَالَ سُئِلَ أَبُو مِجْلَزٍ : لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الصَرْفِ وَأَنَا شَاہِدٌ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِہِ : لاَ بَأْسَ بِمَا کَانَ مِنْہُ یَدًا بِیَدٍ وَکَانَ یَقُولُ : إِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیئَۃِ حَتَّی لَقِیَہُ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : عَیْنٌ بِعَیْنٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ فَہُوَ رِبًا قَالَ وَکُلُّ مَا یُکَالُ أَوْ یُوزَنُ فَکَذَلِکَ أَیْضًا قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَزَاکَ اللَّہُ یَا أَبَا سَعِیدٍ عَنِّی الْجَنَّۃَ فَإِنَّکَ ذَکَّرْتَنِی أَمْرًا کُنْتُ نَسِیتُہُ أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَکَانَ یَنْہَی عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ أَشَدَّ النَّہْیِ۔ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ہَذَا الْحَدِیثُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مِجْلَزٍ تَفَرَّدَ بِہِ حَیَّانُ قُلْتُ وَحَیَّانُ تَکَلَّمُوا فِیہِ وَیُقَالُ فِی قَوْلِہِ وَکَذَلِکَ الْمِیزَانُ فِی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ أَنَّہُ مِنْ جِہَۃِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَکَذَلِکَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃُ إِنْ صَحَّتْ وَیُسْتَدَلُّ عَلَیْہِ بِرِوَایَۃِ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی احْتِجَاجِہِ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ بِقِصَّۃِ التَّمْرِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرْبَیْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَۃٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَیَّ تَمْرٍ شِئْتَ ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ یَکْونَ رِبًا أَمِ الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ فَکَانَ ہَذَا قِیَاسًا مِنْ أَبِی سَعِیدٍ لِلْفِضَّۃِ عَلَی التَّمْرِ الَّذِی رُوِیَ فِیہِ قِصَّۃٌ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَ الرُّوَاۃِ رَوَاہُ مُفَسَّرًا مَفْصُولاً وَبَعْضُہُمْ رَوَاہُ مُجْمَلاً مَوْصُولاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٢٠) حیان بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ابومجلز سے صرف تبادلہ رقم کے متعلق سوال کیا گیا اور میں بھی موجود تھا تو ابومجلز لاحق بن حمید نے کہا کہ ابن عباس (رض) اپنی عمر کے ایک عرصہ میں کہا کرتے تھے، جب نقدی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے، وہ فرماتے تھے کہ سود تو ادھار میں ہے، یہاں تک کہ ابو سعید خدری ملے تو انھوں نے اس طرح حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ جنس جنس کے بدلے برابر ہونی چاہیے۔ جس نے زیادتی کی وہ سود ہے اور ہر چیز جو تولی جائے یا ماپی جائے وہ بھی اسی طرح ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اے ابوسعید ! اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ میری طرف سے جنت دے۔ آپ نے مجھے بھولا ہوا کام یاد کروا دیا ہے۔ میں اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔

10526

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10526

Sahih

(۱۰۵۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : إِنَّ الرِّبَا إِنَّمَا ہُوَ فِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَفِیمَا یُکَالُ وَیُوزَنُ مِمَّا یُؤْکَلُ وَیُشْرَبُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۴۱۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٢١) زہری فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب فرمایا : سود صرف سونے چاندی میں ہے یا پھر جو چیزیں ماپی تولی جاتی ہیں جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے۔