Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2223

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

ایک جنس میں تفاضل ناجائز ہونے اور اس میں سود جاری ہونے اور ادھار کی حرمت کا بیان

10 hadiths in this chapter

10490

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10490

Sahih

(۱۰۴۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْہَبٍ الرَّمْلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ مَالِکَ بْنَ أَبِی عَامِرٍ یُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَبِیعُوا الدِّینَارَ بِالدِّینَارَیْنِ وَلاَ الدِّرْہَمَ بِالدِّرْہَمَیْنِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِیسَی وَغَیْرِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٨٥) حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دینار دو دینار اور ایک درہم دو درہم کے عوض فروخت نہ کرو۔ [صحیح۔ مسلم ١٥٨٥]

10491

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10491

Sahih

(۱۰۴۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی تَمِیمٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی تَمِیمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٨٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دینار دینار کے عوض ان کے درمیان تفاضل نہ ہو اور ایک درہم درہم کے بدلے ان کے درمیان بھی تفاضل نہ ہو۔

10492

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10492

Sahih

(۱۰۴۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیُّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ یَدًا بِیَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی الآخِذُ وَالْمُعْطِی فِیہِ سَوَاء ٌ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٨٧) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے بدلے برابر برابر، نقد، دست بدست فروخت کرو۔ جس نے زائد لیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا اس نے سود حاصل کیا لینے اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

10493

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10493

Sahih

(۱۰۴۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَہُ بِحَدِیثٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَقَدِمَ أَبُو سَعِیدٍ فَنَزَلَ ہَذِہِ الدَّارَ فَأَخَذَ بِیَدِی حَتَّی أَتَیْنَاہُ فَقَالَ : مَا یُحَدِّثُ ہَذَا عَنْکَ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : بَصُرَ عَیْنِی وَسَمِعَ أُذُنِی قَالَ فَمَا نَسِیتُ قَوْلَہُ بِإِصْبَعِہِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- : نَہَی عَنْ بَیْعِ الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ وَبَیْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلاَّ سَوَائً بِسَوَائٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا أَحَدَہُمَا عَلَی الآخَرِ وَلاَ تَبِیعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۱۷۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٨٨) نافع فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا، اس نے ابوسعید خدری (رض) کی حدیث بیان کی کہ ابوسعید اس گھر میں آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک ہم آئے، عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : یہ آپ سے کیا بیان کرتا ہے ؟ ابوسعید کہنے لگے : میری آنکھوں نے دیکھا میرے کانوں نے سنا، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات کو نہیں بھولا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کی انگلی کے اشارہ سے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے کی خریدو فروخت سے منع کیا، مگر برابر برابر اور تم ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔

10494

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10494

Sahih

(۱۰۴۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ ثَابِتٍ الْعَتَوَارِیَّ حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ۔ فَمَشَی عَبْدُ اللَّہِ وَمَعَہُ نَافِعٌ حَتَّی دَخَلَ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : بَصُرَ عَیْنِی وَسَمِعَ أُذُنِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا وَلاَ یُبَاعُ عَاجِلٌ بِآجِلٍ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٨٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے عوض ہو ان کے درمیان تفاضل نہ ہو۔ حضرت عبداللہ اور ان کے ساتھ نافع بھی تھے چلے اور ابوسعید خدری (رض) کے پاس آئے، ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا : میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ دینار و درہم دینار و درہم کے عوض برابر وزن کے ساتھ ہوگا، برابر وزن کے ساتھ ان کے درمیان تفاضل نہ ہوگا اور نقد کو ادھار کے عوض نہ بیچا جائے گا۔

10495

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10495

Sahih

(۱۰۴۹۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا یَقُولُ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الصَّرْفِ وَلَمْ یَسْمَعْ فِیہِ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- شَیْئًا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ تُبَایِعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَلاَ الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ ولاَ تُشِفُّوا بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ إِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ الرَّمَائَ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : وَمَا الرَّمَائُ ؟ قَالَ : الرِّبَا قَالَ فَحَدَّثَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ حَدِیثًا قَالَ نَافِعٌ فَأَخَذَ بِیَدِ الأَنْصَارِیِّ وَأَنَا مَعَہُمَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَقَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ہَذَا حَدَّثَ عَنْکَ حَدِیثَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : مَا ہُوَ فَذَکَرَہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ سَمِعَ أُذُنَایَ وَبَصُرَ عَیْنِی قَالَہَا ثَلاَثًا فَأَشَارَ بِإِصْبَعَیْہِ حِیَالَ عَیْنَیْہِ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : لاَ تُبَایِعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَلاَ تُبَایِعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ وَلاَ تَبِیعُوا شَیْئًا مِنْہَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ دُونَ قَوْلِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩٠) ابن عمر، حضرت عمر (رض) سے سونے کی بیع کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ تم سونا سونے کے عوض چاندی چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، ماسوائے برابر برابر اور تم ایک دوسرے پر کمی بیشی نہ کرو، مجھے تمہارے اوپر سود کا ڈر ہے، کہتے ہیں : ایک انصاری نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے ایک حدیث نقل فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ انصاری نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا اور میں ان دونوں کے ساتھ ابوسعید خدری (رض) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : اے ابوسعید ! اس نے آپ سے (فلاں فلاں) حدیث بیان کی ہے وہ کیا ہے ؟ اس نے ذکر کیا تو ابو سعید فرمانے لگے : ہاں میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا، اس بات کو انھوں نے تین مرتبہ دہرایا۔ انھوں نے اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے برابر اشارہ کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے عوض تم فروخت نہ کروسوائے برابر برابر اور کوئی چیز تم نقد کے بدلے ادھار میں فروخت نہ کرو اور نہ ہی تم ایک دوسرے پر کمی بیشی کرو۔

10496

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10496

Sahih

(۱۰۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ صَائِغٌ فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّی أَصُوغُ الذَّہَبَ ثُمَّ أَبِیعُ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہِ فَأَسْتَفْضِلُ فِی ذَلِکَ قَدْرَ عَمَلِ یَدِی فَنَہَاہُ ابْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ یَرُدُّ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ وَابْنُ عُمَرَ یَنْہَاہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ إِلَی دَابَّۃٍ یَرْکَبُہَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ہَذَا عَہْدُ نَبِیِّنَا -ﷺ- إِلَیْنَا وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔ وَفِی رِوَایَۃِ سَالِمٍ وَنَافِعٍ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ یَسْمَعْ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ذَلِکَ شَیْئًا وَإِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ أَبِیہِ ثُمَّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩١) مجاہد فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ تھا۔ ایک سنار آیا، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں سونے کو خالص بناتا ہوں، ملاوٹ سے صاف کرتا ہوں، پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں کسی چیز کے عوض جو وزن میں اس سے زائد ہوتی ہے، تو میں اپنی مزدوری کے عوض کچھ زائد وصول کرتا ہوں۔ ابن عمر (رض) نے اس کو منع کردیا تو سنار اپنی بات بار بار دہرا رہا تھا اور ابن عمر (رض) ان کو منع فرما رہے تھے، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے پر آکر اپنے چوپائے پر سوار ہوگئے۔ ابن عمر (رض) فرمانے لگے : دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ان کے درمیان تفاضل نہیں ہے (زیادتی یا کمی نہیں) یہ ہم سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عہد لیا تھا اور ہمارا عہد تم سے یہی ہے۔

10497

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10497

Sahih

(۱۰۴۹۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ہَذَا عَہْدُ نَبِیِّنَا -ﷺ- إِلَیْنَا وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ دینار دینار کے عوض اور درہم درہم کے عوض ہو، ان کے درمیان تفاضل نہیں ہے۔ یہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا یہی عہد تمہاری طرف ہے۔

10498

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10498

Sahih

(۱۰۴۹۳) وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنْہُ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ الصَّائِغِ ثُمَّ قَالَ : ہَذَا خَطَأٌ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِیِّ أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّی رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِیَّ ثُمَّ أَبِیعُہُ وَأَسْتَفْضِلُ فِیہِ قَدْرَ أُجْرَتِی أَوْ عَمَلَ یَدِی فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ہَذَا عَہْدُ صَاحِبِنَا إِلَیْنَا وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ یَعْنِی بِصَاحِبِنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ الأُرَمَوِیُّ أَخْبَرَنَا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلاَمَۃَ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩٣) وردان رومی نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ میں زیورات بناتا ہوں۔ پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں اور اپنی مزدوری یا ہاتھ کا کام اس کی بنا پر کچھ زیادہ لیتا ہوں۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے، اس میں تفاضل نہیں، یہ عہد ہم سے ہمارے صاحب نے لیا اور یہی ہمارا تمہاری طرف عہد ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صاحب سے مراد حضرت عمر بن خطاب (رض) ہیں۔

10499

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10499

Sahih

(۱۰۴۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی الْقَعْنَبِیَّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ بَاعَ سِقَایَۃً مِنْ ذَہَبٍ أَوْ مِنْ وَرِقٍ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہَا فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ مِثْلِ ہَذَا إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : مَا أُرَی بِہَذَا بَأْسًا۔ فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ : مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ مُعَاوِیَۃَ أُخْبِرُہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَیُخْبِرُنِی عَنْ رَأْیِہِ لاَ أُسَاکِنُکَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِہَا ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی مُعَاوِیَۃَ : أَنْ لاَ یَبِیعَ ذَلِکَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلَمْ یَذْکُرِ الرَّبِیعُ عَنِ الشَّافِعِیِّ فِی ہَذَا قُدُومَ أَبِی الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ وَقَدْ ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ المالک ۱۳۰۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩٤) حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زائد میں فروخت کیا۔ ابودرداء کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ اس جیسے سے منع فرماتے تھے ماسوائے برابر، برابر، معاویہ کہنے لگے : میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا۔ ابودرداء ان سے کہنے لگے : کون میرا عذر پیش کرے معاویہ کو کہ میں اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خبر دے رہا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سے خبر دے رہے ہیں، میں تجھے اس سر زمین میں نہ رہنے دوں گا جس میں تم ہو۔ پھر ابودرداء حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ تذکرہ کیا تو حضرت عمر (رض) نے معاویہ (رض) کو خط لکھا کہ آپ اس کو فروخت نہ کریں مگر برابر وزن کے ساتھ، لیکن ربیع نے امام شافعی (رح) سے ابودرداء کا حضرت عمر (رض) کے پاس آنا ذکر نہیں کیا۔