Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2152

کتاب الحج

قربانی کرنے والے کا اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے لیکن اس میں نیابت بھی جائز ہے اور قربانی کے ذبح کے وقت موجود ہو کیونکہ خون بہنے کے وقت گناہوں کی معافی کی امید کی جاتی ہے

3 hadiths in this chapter

10228

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10228

Zaeef

(۱۰۲۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَیَعْلَی ابْنَا عُبَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَحَر رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بُدْنَہُ فَنَحَرَ ثَلاَثِینَ بِیَدِہِ وَأَمَرَنِی فَنَحَرْتُ سَائِرَہَا۔ قَالَ الشَّیْخُ کَذَا رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَرِوَایَۃُ جَعْفَرٍ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۱۷۶۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٢٢٤ ) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کو نحر کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیس اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا میں نے تمام کو نحر کردیا۔

10229

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10229

Zaeef

(۱۰۲۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُشْتَۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِکٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ الثُّمَالِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا فَاطِمَۃُ قَوْمِی فَاشْہَدِی أُضْحِیَتَکِ فَإِنَّہُ یُغْفَرُ لَکِ بِأَوَّلِ قَطْرَۃٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِہَا کُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِیہِ وَقُولِی إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا لَکَ وَلأَہْلِ بَیْتِکَ خَاصَّۃً فَأَہْلُ ذَلِکَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً قَالَ : بَلْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ لَمْ نَکْتُبْہُ مِنْ حَدِیثِ عِمْرَانَ إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَلَیْسَ بِقَوِیٍّ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ بِإِسْنَادِہِ عَنْ عَلِیٍّ وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوکٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَذْبَحُ نَسِیکَۃَ الْمُسْلِمِ الْیَہُودِیُّ وَالنَّصْرَانِیُّ۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَذْبَحَ نَسِیکَۃَ الْمُسْلِمِ الْیَہُودِیُّ وَالنَّصْرَانِیُّ وَنَحْنُ نَکْرَہُ مِنْ ذَلِکَ مَا کَرِہَا وَإِنْ فَعَلَ فَلاَ إِعَادَۃَ عَلَی صَاحِبِہِ لِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَطَعَامُ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ حِلٌّ لَکُمْ} یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ ذَبَائِحَہُمْ وَنَحْنُ نَذْکُرُہُ بِتَمَامِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِ الذَّبَائِحِ۔ [منکر۔ اخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٢٢٥ ) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی کے پاس جاؤ ، کیوں کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تمہارے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئے اور کہو کہ میری نماز، قربانی اور میرا جینا، مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمان برداری کرنے والوں میں سے ہوں، کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ اور آپ کے گھر والوں کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ عام مسلمانوں کے لیے۔ (ب) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔ (ج) ابن عباس (رض) کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انھوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان : { وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ } الآیۃ (المائدۃ : ٥) ” اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔

10230

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10230

Zaeef

(۱۰۲۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الرَّازِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنِ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : کُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَکُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ذَبْحٌ۔ [منکر۔ اخرجہ احمد ۴/ ۸۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٢٢٦ ) حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منیٰ کا میدان مکمل قربان گاہ ہے اور ایام تشریق (١١، ١٢، ١٣ ذوالحج) تمام قربانی کے ایام ہیں۔