Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2132

کتاب الحج

جس عورت پر حج لازم ہے زادراہ کی صورت میں اور قابل اعتماد عورت کا ساتھ بھی ہے اور راستہ بھی پر امن ہے اللہ کا فرمان : { وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } (اٰل عمران : ٩٧) ” اور اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج ہے

5 hadiths in this chapter

10134

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10134

Sahih

(۱۰۱۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُجَاہِدٍ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَائَ ہُ رَجُلاَنِ أَحَدُہُمَا یَشْکُو الْعَیْلَۃَ وَالآخَرُ یَشْکُو قَطْعَ السَّبِیلِ قَالَ فَقَالَ : لاَ یَأْتِی عَلَیْکَ إِلاَّ قَلِیلٌ حَتَّی تَخْرُجَ الْمَرْأَۃُ مِنَ الْحِیرَۃِ إِلَی مَکَّۃَ بِغَیْرِ خَفِیرٍ وَلاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَطُوفَ أَحَدُکُمْ بِصَدَقَتِہِ فَلاَ یَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہَا ثُمَّ لَیَفِیضُ الْمَالُ ثُمَّ لَیَقِفَنَّ أَحَدُکُمْ بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ حِجَابٌ یَحْجُبُہُ وَلاَ تُرْجُمَانٌ فَیُتَرْجِمُ لَہُ فَیَقُولُ أَلَمْ أُؤْتِکَ مَالاً؟ فَیَقُولُ : بَلَی فَیَقُولُ : أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَیْکَ رَسُولاً؟ فَیَقُولُ : بَلَی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ فَلْیَتَّقِ أَحَدُکُمْ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۳۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٣٠) عدی بن حاتم فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے، ایک فقیری و محتاجی کی اور دوسرا راستہ کے کاٹے جانے (یعنی ڈاکوؤں کے پریشان کرنے) کی شکایت کر رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تھوڑا وقت ہی گزرے گا کہ ایک عورت حیرہ شہر سے مکہ کا سفر بغیر کسی محافظ کے کرے گی اور قیامت اس وقت تکقائم نہ ہوگی جب تم میں سے کوئی اپنا صدقہ لیے گھومے گا لیکن قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ پھر مال زیادہ ہوجائے گا۔ پھر تم میں سے کوئی اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان حجاب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا ۔ اللہ پوچھے گا : کیا میں نے تجھے مال نہ دیا تھا ؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں، اللہ پوچھیں گے : کیا میں نے رسول مبعوث نہکیے تھے ؟ بندہ کہے گا : کیوں نہیں، بندہ اپنے دائیں بائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی لہٰذا تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آگ سے بچا لے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کہہ دے۔

10135

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10135

Sahih

(۱۰۱۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنِی الْقَاسِمُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ الطَّائِیُّ حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ وَأَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا قَطْعَ السَّبِیلِ قَالَ : یَا عَدِیُّ بْنَ حَاتِمٍ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ : فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لاَ تَخَافُ أَحَدًا إِلاَّ اللَّہَ ۔ قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی : فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَرُوا الْبِلاَدَ : وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرَی ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ : کِسْرَی بْنُ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْئَ کَفَّیْہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلاَ یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللَّہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ یَلْقَاہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تُرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَیَقُولُ : أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولاً یُبَلِّغُکَ فَیَقُولُ بَلَی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ شِمَالِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ جَہَنَّمَ ۔ قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ۔ قَالَ عَدِیٌّ : قَدْ رَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْکُوفَۃِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَیْتِ لاَ تَخَافُ إِلاَّ اللَّہَ وَکُنْتُ فِیمَنِ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ سَتَرَوْنَ مَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ -ﷺ- : یُخْرِجُ الرَّجُلُ مِلْئَ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ فَلاَ یَجِدْ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَکَمِ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ : وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَافَرَ بِمَوْلاَۃٍ لَہُ لَیْسَ ہُوَ لَہَا بِمَحْرَمٍ وَلاَ مَعَہَا مَحْرَمٌ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۴۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٣١) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ ایک آدمی نے آکر فاقہ کی اور دوسرے نے راستے، کاٹے جانے کی شکایت کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! کیا آپ نے حیرہ دیکھا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں دیکھا، لیکن میں اس کے بارے میں خبر دیا گیا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا ایک عورت حیرہ سے کوچ کر کے کعبہ کا طواف کرے گی ، اس کو صرف اللہ کا خوف ہوگا۔ میں نے اپنے دل ہی میں کہا کہ قبیلہ طئی کے ڈاکو کہاں جائیں گے، جنہوں نے شہروں کو آگ لگا رکھی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو کسریٰ کے خزانے فتح کیے جائیں گے، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کسریٰ بن ہرمز ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں کسریٰ بن ہرمز۔ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ آدمی ایک مٹھی سونے یا چاندی کی لیکر نکلے گا تو اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور تم میں سے کوئی ایک جس دن اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو ان کے درمیان ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا میں نے تیری طرف رسول نہ مبعوث کیے کہ جنہوں نے میری بات پہنچائی، بندہ کہے گا : کیوں نہیں، وہ اپنے دائیں جانب دیکھے گا تو صرف آگ اور اپنے بائیں جانب دیکھے گا تو صرف آگ۔ عدی کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آگ سے بچو ، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں اس وقت بھی تھا جب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے گئے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ امام شافعی کا قول قدیم ہے کہ ابن عمر (رض) کے ساتھ ان کی لونڈی نے سفر کیا نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔

10136

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10136

Sahih

(۱۰۱۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُرْدِفُ مَوْلاَۃً لَہُ یُقَالُ لَہَا صَفِیَّۃُ تُسَافِرُ مَعَہُ إِلَی مَکَّۃَ وَفِی رِوَایَۃِ عُقْبَۃَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَجَّ بِمَوْلاَۃٍ لَہُ یُقَالُ لَہَا صَافِیَۃُ عَلَی عَجُزِ بَعِیرٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْجَدِیدِ: وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ عَائِشَۃَ وَابْنِ عُمَرَ وَعُرْوَۃَ مِثْلُ قَوْلِنَا فِی أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَۃُ لِلْحَجِّ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہَا مَحْرَمٌ وَذَکَرَہُ أَیْضًا عَنْ عَطَائٍ وَفِی الْقَدِیمِ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۱۷۲۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٣٢) نافع، ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی صفیہ ان کے ساتھ پیچھے بیٹھ کر مکہ کا سفر کرتیں۔ (ب) عقبہ کی روایت میں ہے کہ ابن عمر (رض) کی لونڈی نے ان کے ساتھ اونٹ کی پشت پر حج کا سفر کیا، اس کا نام صفیہ تھا۔ امام شافعی (رض) کا جدید قول ہے : فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) ابن عمر اور عروہ فرماتے ہیں کہ عورت بغیر محرم کے سفر کرسکتی ہے۔

10137

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10137

Sahih

(۱۰۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ یُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَمْرَۃَ : أَنَّ عَائِشَۃَ أُخْبِرَتْ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ یُفْتِی أَنَّ الْمَرْأَۃَ لاَ تُسَافِرُ إِلاَّ مَعَ مَحْرَمٍ فَقَالَتْ : مَا کُلُّہُنَّ ذَوَاتِ مَحْرَمٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٣٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابو سعید فتویٰ دیتے تھے کہ عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے۔ فرماتی ہیں : کیا ان سب کے محرم ہیں۔

10138

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10138

Sahih

(۱۰۱۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَ فَقَالَ: لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ وَلاَ تُسَافِرُ امْرَأَۃٌ إِلاَّ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ ۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ امْرَأَتِی خَرَجْتْ حَاجَّۃً وَإِنِّی اکْتُتِبْتُ فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا قَالَ : فَانْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِکَ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَلِیٍّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِاللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۹۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠١٣٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ کوئی مرد عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے اور عورت صرف محرم کے ساتھ سفر کرے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری عورت حج کو گئی ہے اور میں فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی عورت کے ساتھ حج کر۔